اعترافِ جرم کے لیے استعمال کیے جانے والے خوفناک آلات

 

قدیم دور میں ظالمانہ تشدد کے لیے حکومتوں کی جانب سے ایسے آلات کا استعمال کیا جاتا تھا جنہیں دیکھ کر ہی لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا تھا- یہ تشدد مجرموں سے اعترافِ جرم کروانے اور مختلف راز اگلوانے کے لیے کیا جاتا تھا- ان خطرناک آلات کے ذریعے تشدد کا نشانہ بننے والے افراد یا تو موت سے ہمکنار ہوجاتے تھے یا پھر اصل حقیقت بیان کر کے اور جرم کا اعتراف کر کے ہی اس تکلیف سے چھٹکارا حاصل کر پاتے تھے- ماضی میں تشدد کے لیے استعمال کیے جانے والے چند آلات کی تفصیل مندرجہ ذیل میں موجود ہے- واضح رہے کہ اب یہ آلات استعمال نہیں کیے جاتے اور نہ ہی قانون ایسے کسی تشدد کی اجازت دیتا ہے-
 

Stocks
قرونِ وسطیٰ کے دور میں مجرم پر ظالمانہ تشدد کے لیے وسیع پیمانے پر اس آلہ کا استعمال کیا جاتا تھا- دو تختوں کی مدد سے بنا یہ آلہ تین سوراخوں پر مشتمل تھا- ان سوراخوں میں مجرم کا سر اور بازو پھنسائے جاتے تھے- بعض اوقات اس کے پاؤں بھی باندھ دیے جاتے تھے اور اس پر تشدد کیا جاتا تھا- اکثر اسے عوام میں چھوڑ دیا جاتا تھا اور وہ اس پر تشدد کرتی تھی-


Water Torture
ہسپانوی جب کسی مجرم سے اعترافِ جرم کروانا چاہتے تو اس آلہ کا استعمال کرتے- یہ جسمانی تکلیف کی مانند تکلیف دہ نہیں تھا- اس میں مجرم کو ایک ایسی کرسی پر پھنسا کر بیٹھا دیا جاتا تھا جہاں اس کے سر پر پانی کا ایک ایک قطرہ گرتا رہتا تھا- طویل وقت تک یہ عمل جاری رہتا اور پر مسلسل پانی کا قطرہ گرنے کی وجہ سے مجرم کی بےچینی میں اضافہ ہوتا رہتا اور بالآخر شدید دباؤ کا شکار ہو کر وہ اپنی زبان کھول دیتا-


Strappado
تشدد کے لیے استعمال کیے جانے والے اس خوفناک آلے کا استعمال بھی ہسپانوی مجرم سے تحقیقات کرنے کے دوران کرتے تھے- اس میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے شخص کو دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر رسی سے باندھ دیے جاتے تھے جبکہ رسی دوسری طرف سے گول چرخی نما آلے سے منسلک ہوتی- اسے گھمایا جاتا ہاتھ اپنی جگہ سے ہٹ کر اوپر کی جانب اٹھتے جاتے یہاں تک کہ انسان ہوا میں معلق ہوجاتا- آپ اس تکلیف کا تصور بھی نہیں کرسکتے-


The Rack
ماضی قدیم میں تشدد کے لیے اس آلے کا استعمال بھی کیا جاتا تھا- اس پر چار رسیاں نصب ہوتی تھیں جس پر تشدد کا نشانہ بننے والے شخص کے بازو اور پاؤں جکڑ دیے جاتے تھے- اس کے بعد ان اعضاﺀ کو کھینچنا شروع کردیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ جاتے تھے- اس عمل میں کبھی کبھی ہڈیاں بھی ٹوٹ جاتی تھیں-


Iron Chair
یہ قرونِ وسطی کے دور کا تشدد کے لیے استعمال ہونے والا ایک خوفناک آلہ تھا- یہ ایک لوہے کی کرسی تھی جس میں لوہے کے سینکڑوں نوکیلے کانٹے بنے ہوئے تھے- اس پر مجرم کو زبردستی بیٹھایا جاتا تھا اور کرسی کے نیچے آگ جلا دی جاتی تھی-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2018 Total Views: 3638 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Ancient torture devices have a way of striking fear into any heart. Today, of course, we have laws protecting people from cruel and unusual punishment, but back then, it was all fair game. Kings, Queens, tyrants, and priests all had a hand in torturing those they believed were criminals, heretics, witches, and traitors.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB