جملہ حقوق محفوظ ہیں/قلمی کرپشن

(Muhammad Saleem Jabbari, )

الٰہی تخلیقات میں قلم کو خاص منزلت حاصل ہے۔ قلم کے نام پر ایک سورۃ کا نزول بھی اس کے تقدس کی ہی علامت ہے اور سب سے بڑھ کر خود باری تعالیٰ نے قلم کی قسم اٹھا کر اسے برتری عطا کی ہے۔ یوں نوکِ قلم سے وجودپانے والے الفاظ بھی یقینامعتبر اور محترم ٹھہرے۔

لکھنے والے کو اپنے تخلیق کیے الفاظ، جملے اور تحریریں عزیز از جاں ہوتے ہیں، بعینہٖ جیسے اپنی صلبی اولادمتاعِ قلب وجاں ہوا کرتی ہے۔ جیسے اولاد کو پہنچنے والی معمولی تکلیف اور پریشانی انسان کے لیے ناگوار ہوتی ہے اسی طرح اس کی تحریرمیں معمولی تغیرّ یا کسی اور سے منسوب ہونا بھی صاحبِ قلم کے لیے ناقابلِ برداشت ہوا کرتا ہے۔ ایک لکھاری اپنی تحریر کے حوالے سے از حد حساس ہوتا ہے ، اسے اپنے مالی اور جانی نقصان کا اس قدرقلق نہیں ہوتا جتنا اس کی تحریر کا غیر سے منسوب ہوجانا اسے تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ لکھاری کے الفاظ اس کے تخیل کا روپ ہوتے ہیں۔ اس کی تخلیق اورمیراث ہوتے ہیں، کسی کو کیا حق ہے کہ اسے چرائے یا ان میں تغیر کرکے اپنے نام منتقل کرلے۔ یقینایہ سرقہ بھی ہے اور خیانت بھی۔ تمام شعبہ ہائے زندگی پر اس وقت اتائیوں نے مضبوط پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ ان کے اہداف میں انسانی صحت کے بعد سب سے بڑا ٹارگٹ شعبہ صحافت ہے۔ ان اتائی صحافیوں کے ہاتھوں بڑے بڑے لکھاریوں کی تحریروں کا وہ حشر ہورہاہے کہ الا مان والحفیظ۔

عصرِ حاضر کے ادباء تو درکنار ان کے نشتروں سے تو ماضی کے مشاہیر اہلِ قلم بھی نہیں بچ پائے ہیں۔ الفاظ اور جملے تو کیا اسلاف کی بڑی بڑی نادر ونایاب تحریریں حتیٰ کہ مکمل کتب تک کو طبع جدید کے مراحل سے گزار کر یا ان میں معمولی تغیر کرکے اپنے ناموں سے منسوب کرکے نجانے کیا کیا ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔

یقینا یہی وجہ ہے کہ کتب کے آغاز میں ہی لکھنا پڑتا ہے کہ ’’جملہ حقوق محفوظ ہیں‘‘ یہ جملہ لکھ کر کتب کے تقدس کوتو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر چھوٹی تحریریں اور کالم تو اتائیوں کے رحم وکرم پر ہی ہوتے ہیں۔

’’جملہ حقوق محفوظ‘‘ ہوتے کیا ہیں؟ ہم شایدان الفاظ کے قانونی اور اخلاقی تقاضوں سے آشنا نہیں ہیں۔ یقیناان سے عدمِ واقفیت ہی اتائیت کے فروغ کا باعث بن رہی ہے۔ عام طور پر یہ الفاظ دو طرح سے تحریر کئے ہوتے ہیں۔ ’’جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں اور جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں‘‘۔ ان جملوں کا مفہوم اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے کہ سمجھ سے بالاتر ہو۔ معمولی پڑھا لکھا بھی ان کے معنی ومفہوم کو بخوبی سمجھتا ہے۔ جہاں’’بحق مصنف‘‘ درج ہو توواضح ہے کہ جملہ اخراجات مصنف نے برداشت کیے ہیں جہاں ’’بحق ناشر‘‘ تحریر ہو تو گویا پبلشر نے لکھاری کو اس کا حق خدمت ادا کرکے اسے اپنے ادارے کے ذمے لے لیاہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ تحریر مصنف یا ادارے کی پراپرٹی ہوتی ہے۔ اس کا جزوی یا کلی طور پرکسی اور سے نسبت پاجانا اخلاقی اور قانونی ہر دو اعتبار سے جرم ہے۔

عصرِ حاضر میں سرچ یا ریسرچ کے حوالے سے بآسانی میسر اکثر استعمال میں آنے والا ذریعہ ’’گوگل‘‘ سمجھا جاتا ہے اس سے قطع نظر کہ گوگل پر پڑا مواد کس قدر مستند ہے ،اس مواد کو ذاتی تحریر کا حصہ بنانا اپنا موروثی حق گردانا جارہا ہے، حالانکہ وہاں بھی تحریروں کے لکھاریوں کے نام موجود ہوتے ہیں۔

کسی کی تحریر کو اپنی طرف منسوب کرنا بلاشبہ اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ دیگر اخلاقیات کی طرح معاشرے کا یہ پہلو بھی بہت زیادہ اخلاقی تنزل کاشکار ہے۔ جہاں تک قانون کی بات ہے تو ملکی اور عالمی سطح پر نہ صرف اسے جرم سمجھا جاتا ہے بلکہ اس حوالے سے مختلف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں، ان میں مواد کے سرقہ کی مقدار کے اعتبار سے جرمانہ ،قید یا دونوں سزائیں شامل ہیں۔ دیگر جرائم میں سزاؤں کے عدمِ نفاذ کی طرح اس میدان میں کبھی کسی پر فردِ جرم نہ لگنے کے باعث اس قباحت میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دنیائے تحریر سے وابستہ نہایت سنجیدہ اور عدالتوں کے بکھیڑوں میں پڑنے سے بچنے والے ہوتے ہیں جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اتائیت فروغ پارہی ہے اور تخلیقی مواد ناپید ہورہا ہے۔ تحقیق اور تخلیق کے میدان میں مغز ماری کرنے والے شدید تحفظات کا شکار ہیں کہ نجانے ان کی شب وروز کی جاں گسل کاوشیں کب کسی اور کے نام سے فروغ پاجائیں۔

اس اخلاقی اور قانونی سرقہ سے بچنے کے آسان حل بھی بہرحال موجود ہیں، اگر کوئی تحریر دل کو بھاگئی ہے اور آپ اسے اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو بحوالہ شامل کرلیں اسے کبھی بھی جرم تصور نہیں کیا جاتا۔ اگر دوسرے کا نام وحوالہ آپ کی تحریر کو بوجھل کرتا ہے تو پسندیدہ تحریر کو اپنے لفظوں کے قالب میں بھی ڈھالا جاسکتا ہے۔ ویسے تو انسان کا تخیل بھی تحفظ کا استحقاق رکھتا ہے۔ یاد رہے کاپی رائٹ کے قانون میں تحریر، تصویر،ڈیزائن اور تخیل کے علاوہ ہر تحقیقی و تخلیقی مواد بھی شامل ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کچھ ایسی ہی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ روزانہ لاکھوں، کروڑوں الفاظ اور اوراق فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے یہاں سے وہاں منتقل ہو رہے ہیں۔ ان ایجادات نے اخلاقیات پر کیا کیا ضربیں لگائیں ہیں ان سے قطع نظر جب کوئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اچھے الفاظ یا عبارت پوسٹ کرتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے اسے زیادہ سے زیادہ’’s Like‘‘ ملیں اور اس کی پوسٹ بکثرت ’’Share‘‘ ہو۔ گو ان لائکس اور شیئرز کا سوائے اس تسکین کے کچھ اور فائدہ نہیں ہے کہ مجھے اتنے زیادہ لائک اور شیئر ملے ہیں۔ لوگ یہ کرتے ہیں کہ پہلے اس پوسٹ کو اپنے ہاں Save کرتے ہیں اور پھراسے اپنے اکاؤنٹ سے شیئر کرکے یہ تأثر دیا جاتا ہے کہ یہ ان کی ہی تخلیق ہے۔

کاپی پیسٹ کے اس رجحان سے جہاں تخلیقی صلاحیتوں کے سامنے روک لگ گئی ہے وہاں بہت سے عدم صلاحیت کے باجود خودکو مصنف ثابت کرنے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔ بہر حال با صلاحیت افراد کو سراہا بھی جانا چاہیے اور انہیں مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ہاں جملہ حقوق کو تحفظ ضرورملنا چاہیے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Jun, 2018 Total Views: 178 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Jabbari


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB