کم عمر لڑکی سے شادی کے فوائد

(Muhammad Shafiq Ahmed Khan, Kot Addu)

ایک تحقیق کے مطابق اپنے سے پندرہ سال کم عمر لڑکی سے شادی کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے او ر اسکی صحت اچھی رہتی ہے۔ جب سے یہ خبر مارکیٹ میں آئی ہے تب سے تمام بتیسی نکالے، کنوارے ، رنڈوے ، بیمار، لاغر، چمکتی چندیا والے اور موٹے پیٹ والے حضرات بھی گرلز پرائمری اسکول کے باہر پھرتے گھرتے نظر آتے ہیں، اور باپ صاحب بیٹے کے سر پر سہرا سجانے یا بیٹیاں بیاہنے کی بجائے اپنا سہرا دہرانے کے گھن چکر میں پڑ گئے ہوتے ہیں تاکہ گری ہوئی صحت بحال ہو سکے۔اس تلاش بسیار برائے لڑکی چھوٹی عمر میں ان شوقین حضرات کو اگر کبھی کچھ ایذا رسانی یا چھوٹی موٹی سنگ باری سے بھی گزرنا پڑے تو یہ تمام درد ہنس ہنس کر سہ جاتے ہیں۔ ویسے یار اگر چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے سے ہی صحت اچھی رہتی ہے تو پھر مختلف امراض کے ڈاکٹر اور حکماء حضرات کی کیا ضرورت؟ جس کی جتنی زیادہ شدید بیماری ہو اسکی اتنی ہی کم عمر کی لڑکی یا لڑکیوں سے شادی رچا دی جائے ، بیماریاں غائب، بندہ صحت مند اور عمر طویل ۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔یوں ڈاکٹر حضرات دوا دارو کے ساتھ ساتھ شادیوں والا کام بھی شروع کردیں گے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں ہر ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکی ہونے والی چاند سی دلہن کم عمر اور خوبصورت ہو، مگر مذکورہ خبر پڑھنے کے بعد تو لگتا ہے کہ وہ اپنے چندیا چمکے بیٹے کی لیے پرائمری کلاس کی لڑکی ہی ڈھونڈ تی پھرے گی اور ظاہر ہے کہ لڑکے کی خواہش بھی کچھ ایسی ویسی ہی سی ہوگی۔

آپ تصور کریں کہ ایک پچاس سالہ بوڑھا بابا ایک پندرہ سالہ لڑکی یعنی بیوی بغل میں داب کر ساتھ مٹر گشت پر ہو تو کیسا لگے گا؟ لوگ دیکھ کر یہی کہیں گے نہ کہ ابا بیٹی ساتھ جا رہے ہیں ۔ یا یہ کہ کیا قسمت ہے یار! یا پھر لنگو ر کی بغل میں حور! یا بڑے میاں دیوانے! یا منہ میں نہیں دانت ، پیٹ میں نہیں آنت اور لیے چلے راکھی ساونت یا ملکہ شراوت !یا یہ کہ کیا جوے میں جیتی؟ یا یہ کہ کتنے میں خریدی، وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کبھی کچھ منچلے کچھ نازیبا الفاظ بھی استعمال کر جاتے ہیں مگر بڑے میاں نہ تو جواب دے سکتے ہیں اور ہی انکے پیچھے مارنے کو دوڑ سکتے ہیں کیونکہ اس عمر میں تو چلنا ہی محال ہوتا ہے، کسی کے پیچھے بھا گنا تو دور کی بات ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے میاں کی کم عمر دلہن کو ئی چھین کر لیجاتا ہے اور پھر کہیں غلطی سے برآمدگی کے لیے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو نکاح نامہ ہونے کے باوجود بھی ثابت نہیں کر پائیں گے کہ وہ حقیقی میاں بیوی ہیں؟۔ ویسے عرب حضرات کی طویل ا لعمری اور صحت کا راز بھی ہمیں اب سمجھ میں آیا کہ وہ ہر وقت کیوں ایک سے زیادہ اور کم عمر لڑکی سے شادی کے چکر میں رہتے ہیں۔ ویسے ہمارے اپنے ملک میں بھی ابھی تلک کچھ بابے حضرات اس شوق میں مبتلا پائے جاتے ہیں اور اس لائن میں ایک مشہور سیاستدان بطور خاص قابلِ ذکر ہیں جنکی آخری زوجہ محترمہ انکی اپنی بیٹی سے بھی چھوٹی ہیں اور انکی صحت راز یوگا کے علاوہ شاید کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کرنا بھی ہو۔ ویسے آپ یہ ٹرائی مت ماریے گا کیونکہ یہ ہر ایرے غیرے یا نتھو خیرے کا کام نہیں؟ زیادہ تر لوگ یہ کارنامہ سر انجام دیکر توبہ توبہ کرتے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آتے ہیں، پتہ نہیں کیوں ؟؟؟؟؟

آجکل آن لائن شادیوں کا بھی بڑا چکر چلا ہوا ہے۔ دلہن لندن میں تو دولہا صاحب انڈیا میں پھیرے لے رہے ہوتے ہیں، یا قبول ہے قبول ہے کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ دوسری طرف لیپا پوتی اور میک اپ کی تراش خراش سے ایک چالیس سالہ خاتون کو کیسے بیس سالہ لڑکی کے القاب میں ڈھالا گیا ہے۔ میاں صاحب کا تراہ تو اسوقت نکلتا ہے جب بیگم صاحبہ منہ ہاتھ دھوکر اپنے اصلی حالت میں وارد ہوتی ہیں۔ اس طرح بیچارے شوہر نامدار کا کسی کم عمر لڑکی سے شادی رچا کر اپنے آپ کو سدا جوان رکھنے کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ پرانے زمانے میں تو دلہنیں اپنے شوہر نامدار سے بھی سالوں گھونگھٹ نکالتی تھیں اور میاں بیچارہ سالوں بعد اسوقت اپنی دلہن کی شکل دیکھ پاتا تھا جب وہ بیچاری دلہن کم عمر لڑکی سے ایک کم عمر بچے کی اماں بن چکی ہوتی تھیں۔تصور کریں کہ اگر آج کے زمانے میں ایسا ہوجائے تو شاید کوئی بوڑھی بغیر شادی کے نہ رہے۔

ویسے ہمارے ملکی حالات کے پیش نظر تو ہمیں اس تحقیق میں کچھ گھوٹالا نظر آتا ہے، کیونکہ آدمی جتنی کم عمر لڑکی سے شادی رچائے گا تو اسکے مسائل میں اتنا ہی اضافہ ہوگا مثلا: کم عمر لڑکی کے پڑھائی لکھائی کے اخراجات، کپڑوں لتوں کے اخراجات، میک اپ شیک اپ کے اخراجات وغیرہ وغیرہ ۔کم عمری، نا پختہ پن، اور نا تجربہ کاری کی بنا پر ساس بہو کے تعلقات میں ممکنہ کشیدگی ، نئے سرے سے تمام گھرداری کی سکھلائی ، تو خوش ہونے کے بجائے پریشانی ہوگی نہ۔ اسکے برعکس اگر ایک بڑی عمر کی عورت سے شادی کی جائے تو اس بیچاری کی آدھی خواہشات تو ویسے ہی مردہ ہو چکی ہوتی ہیں، نہ کپڑوں کا زیادہ خرچہ، نہ میک اپ شیک اپ ، نہ پڑھانے لکھانے کا خرچہ، بلکہ اسکے تجربہ کی وجہ سے گھر کے اخراجات میں ممکنہ کمی، میاں خوش باش ، طبیعت صحت ھشاش بشاش۔ ساس بہو دونوں خوش باش۔ (دونوں ایک سی عمروں کی)۔

یوروپین لوگوں کے بارے میں اس تحقیق نے کچھ نہ کہا ہے جو کہ شادی کی زحمت ہی دو تین بچے پیدا کرنے کے بعد کرتے ہیں اور خاص طور پر انگریز اداکار اور اداکارائیں جو کہ ہر سال چھ ماہ بعد شوہر یا بیوی ایسے بدلتے ہیں جیسے ہمارے نام نہاد جمہوری حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ تا ہم معروف آنجہانی اداکارہ الز بتھ ٹیلر کو دیکھ کر تومعاملہ ہی الٹ لگتا ہے ، یعنی پونی درجن شادیاں رچانے کے بعد بھی انکی (یعنی دلہن کی) جوانی اور بڑھاپا دونوں ہی شاندار، عمر طویل اور صحت لاجواب رہی ۔ البتہ موصوفہ کے شوہر حضرات منظر سے غائب رہے؟؟ ۔ الزبتھ ٹیلر کیس میں لگتا ہے کہ یہ تحقیق الٹ ثابت ہوئی یعنی دولہا کی صحت اچھی ہونے کے بجائے دلہن کی صحت اچھی اور شاندار رہی اور آنجہانی محترمہ عمر کے ہر حصے میں لوگوں پر قیامت ڈھاتی بلآخر حال ہی میں اوپر کو سدھاری ہیں ۔ دوسری طرف بیچارہ آنجہانی مائیکل جیکسن تھا جو دو شادیاں کرنے اور بچے ہونے کے باوجود بھی آخری وقت تک تنہا تھا، نہ ہی کم عمر اور نہ زیادہ عمر کی کوئی بھی بیوی پاس ہونے کے بجائے صرف دو ائیں ہی اسکا آخری سہارا تھیں اور مرنے کے بعد اسکے معدے سے آخری سہارا یعنی بیوی کے بجائے ایک عدد گولی بر آمد ہوئی۔ (کھانے والی گولی، بندوق والی نہ سمجھیے گا)۔

پاکستان میں چائلڈ میرج یعنی کم عمری کی شادی قابل گرفت ہے اور حکومت کو اس قانون میں ترمیم بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ویسے اگر چائلڈ میرج کا سروے کرایا جائے تو پاکستان کی بہت سی مذہبی اور سیاسی شخصیات اس کیس میں ڈھکی جا سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک مشہور ٹی وی پروگرام کی خوبصورت کمپیئر ایک انٹرویو میں اپنے آپکو چائلڈ میرج کیس بتا کر اپنے میاں پر کیس کرانے کو سوچ رہی تھیں۔ اگر یہ کیس کرانے کا سلسلہ یونہی چل پڑا تو سوچیں کہ کیسا ہوگا مردوں کا مستقبل؟؟

ویسے بھا ئی لوگ بھی بیچارے بڑی عجیب و غریب تحقیقیں کرتے ہیں۔ پہلی تحقیق کے مطابق کنوارے، رنڈوے اور تنہائی پسند افراد جلد مایوسی اور ڈیپریشن کا شکار ہو جا تے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ دہی کھانے سے جسم اور پسینے کی بد بو دور ہوتی ہے، کبھی تحقیق کہتی ہے کہ موٹی ران والی خواتین کو ہارٹ اٹیک کم ہوتا ہے ، کبھی تحقیق گردانتی ہے کہ جی خواتین میک اپ کرنے میں کم ازکم ایک گھنٹہ لگاتی ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ جی دورانِ ڈرائیونگ میک اپ کرنے سے خواتین حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ اور اب کہہ دیا کہ جی کم عمر لڑکی سے شادی کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے او ر اسکی صحت اچھی رہتی ہے۔ ویسے اس تحقیق کی مزید تحقیق ہونی چاہیے کہ کہیں یہ سب ڈرامہ سدا کنوارے رہنے کے شوقین حضرات کو وَلا دیکر شادی کے لیے گھیرنے کی چال تو نہیں ؟
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Apr, 2011 Total Views: 16101 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mohammad Shafiq Ahmed Khan-0333-6017660

self motivated, self made persons.. View More

Read More Articles by Mohammad Shafiq Ahmed Khan-0333-6017660: 90 Articles with 120959 views »
Reviews & Comments
استغفراللہ آپ کو شرم آنی چاہیے ، آپکو پتا ہے حضورﷺ نے باون سال کی عمر میں نکاح کیا تھا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب انکی عمر صرف نو برس تھی ،
By: سید عبداللہ, Lahore on Sep, 16 2013
Reply Reply
2 Like
all are requested to please be calm, it is just a humour article pls. sorry I saw these comments very late. any one can call me for further clarifications. thanks
By: shafiq, Kot addu on Feb, 26 2015
0 Like
me dawa kr skta hn k aapki information thori ghalat hy khyal kijiye. confirm kiye baghair is trah baat na kren gustakhi ho skti hy.. bura matt manyn btw
By: zahid, Multan on Feb, 25 2015
0 Like
ایک طنز و مزاح کے مضمون کو پڑھ کر آپ آپے سے باہر ھوگئے
By: NAZEEM, Hyderabad (Deccan) on Sep, 25 2013
3 Like
jahn tak meri naqis soch ka taaluq hy yahn lrki ko mazlom theraya gia hy.. Kia lrki ki koi khaish nh hoti bs mrd jo bhaiy kr gozry.
By: hafi, d.g.khan on Aug, 21 2013
Reply Reply
1 Like
IS KO PAR SE SAR ME DARD HOWA MAGAR FAIDA KUCH NA MELA
By: GHULAM FAROOQ, KARACHI on Aug, 20 2013
Reply Reply
0 Like
bhai ye article to ajeeb o gareeb hai, magar hai intersting. very funny.
By: Muhammad Arshad Sidiki, Nazimabad, Karachi. on Jan, 09 2012
Reply Reply
0 Like
bhai jan maaf kijiyega ye itna lamba article jismy kuch b knowledge k lye nhi just time zaya karne wali bat hai is se behtar kuch aesa lakha karain jis se kuch seekhne ko mile generation ko, intehai fuzool topic aesa lagta hai hai pen aur page pakar k ghussa nikala hai apne aur kuch nhi
By: atif jabbar , Abu Dhabi on Jan, 08 2012
Reply Reply
0 Like
Mr. roy, you hate article or girl, what do you mean pls. explain.
By: shafiq, Kot Addu on Dec, 21 2011
Reply Reply
2 Like
even it is just for laugh but i hate that.
By: roy, sargodah on Dec, 18 2011
Reply Reply
0 Like
HeHeHeHeHe/....
By: Altaf shah, Islamabad on Jun, 16 2011
Reply Reply
0 Like
hahaha...very nice shafiq
By: surraiya, karachi on May, 07 2011
Reply Reply
0 Like
yar shafiq bhai kahan say lai ho yeh tehqeeq zara hamin bhi to batao.
By: suhail a. khan, karachi on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
good shafiq bhai.
By: nadeem j, multan on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
wah shafiq bhai wah. kiya article hey.
By: ahmed khan, multan on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
little bit a funny yar.
By: kaka, bahawalnagar on Apr, 12 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB