پاکستان میں 50 لاکھ سستے مکان،کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

 

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں معاشی مسائل کی وجہ سے اپنے مکان کے حصول کی خواہش کو پورا کرنے ہر ایک کے بس کی بات نہیں اور اسی وجہ سے ہر نئی آنے والے حکومت عوام سے سستے مکانات کا وعدہ کرتی ہے۔
 


حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعطم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے کم آمدن والے طبقے کے لیے سستے مکانات کا وعدہ کیا تھا اور اب اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں سات شہروں میں مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں اور مجموعی طور پر مکانات کی تعداد 50 لاکھ ہو گی۔

اس منصوبے کے لیے الگ سے 'نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی' قائم کی جا رہی ہے لیکن اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا کتنا ممکن ہے جبکہ پچھلی اور موجودہ حکومت کے منصوبے میں فرق کیا ہے؟

مکانات کا منصوبے کن لوگوں کے لیے شروع کیا گیا
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی پارلیمانی سیکریٹری تاشفین صفدر کے مطابق یہ مکانات کم آمدن کے طبقے کے لیے ہے جو اپنا مکان بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس اس کے لیے اتنے وسائل نہیں ہوتے ہیں کہ زندگی بھر اپنا مکان بنا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ مختلف آمدن والے طبقات کے لیے مختلف کیٹگری کے مکانات ہوں گے جس میں حقیقی آمدن اور خاندان کے افراد کی تعداد کے بارے میں قومی رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا اور دیگر متعلقہ ادارے جانچ پڑتال کریں گے۔
 


انھوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں سات شہروں، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، گلگت، سوات، سکھر اور پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پانچ، سات، دس اور پندرہ مرلے کے مکانات شامل ہوں گے لیکن ان کو مزید چھوٹے یونٹس میں لے جائیں جس میں تین مرلے کے مکانات شامل ہوں گے۔

پارلیمانی سیکریٹری تاشفین صفدر نے کہا کہ یہ مکانات کئی جگہوں پر سنگل سٹوری ہوں گے اور کئی جگہوں پر فلیٹس کی صورت میں ہوں گے جہاں ابھی کچی آبادیاں ہیں۔

’ابھی حکومت نے طے نہیں کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں کتنے یونٹ تعمیر کیے جائیں گے کیونکہ بقول تاشفین صفدر کے حکومت یہ نہیں چاہتی ہے کہ پہلے مکانات تعمیر کیے جائیں اور بعد میں ان میں رکھنے کے لیے لوگوں کو تلاش کیا جائے تو اس پہلے حکومت مکانات کی طلب کو دیکھے گی اور پھر اس کے لحاظ سے 50 لاکھ مکانات مختلف مراحل میں تعمیر کیے جائیں گے۔‘

ایسا ممکن ہے؟
 


سینیئرانجنینیئر سرفراز احمد پروگریسو کنسلٹنٹ کے ایم ڈی ہیں جو تقریباً چار دہائئوں سے پاکستان میں کئی تعمیراتی منصوبوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔

ان کے خیال میں ملک میں موجودہ صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہ بہت بڑا منصوبہ ہے جس میں ادارہ تو ہے لیکن اس کے ساتھ سرمایے اور شہروں کے اندر زمین کے حصول ایک مشکل کام ہو گا اور ان کی عوامل کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے گذشتہ حکومت تک حکومت منصوبے تو شروع کرتی آئی لیکن ادھورے رہ گئے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت چار سے پانچ منزلہ فلیٹس کی بجائے مکانات تعمیر کرتی ہے تو اس کے لیے جگہ شہر سے دور دیکھنی پڑے گی جس میں پہلے تو ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیدا ہو گا کیونکہ لوگوں نے شہروں میں کام کرنا ہے لیکن اس سے اہم یہ ہو گا کہ اس کی لاگت بہت بڑھ جائے گی کیونکہ مکانوں کو پھیلاتے کی صورت میں تعمیراتی مواد اتنا ہی زیادہ چاہیے ہو گا۔

اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟
 


ان مکانات پر لاگت کتنی آئے گی، ادائیگیوں کا کیا طریقۂ کار ہو گا اور اس کے لیے سرمایہ کہاں سے لایا جائے گا تو اس پر وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی پارلیمانی سیکریٹری تاشفین صفدر نے کہا کہ ابھی یہ معاملات ابتدائی مراحل میں لیکن ان مکانات کو آمدن کے لحاظ سے 15 سے 20 سال کی قسطوں پر دیا جائے گا اور قسطیں پوری ہونے تک مکان کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر کے منصوبے میں حکومت کا کام صرف معاون کا ہو گا جس میں نجی شعبے اور دیگر لوگوں کو مدد فراہم کی جائے گی تاکہ یہ منصوبہ ممکن ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بینک سے قسطوں پر مکان حاصل کرنے کی شرح صفر کے برابر ہے کیونکہ اعتبار نہیں ہے تو اس کے لیے موجودہ حکومت گارنٹی اور سہولت دے گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قسطیں پوری نہ ہونے تک مکانات کی فروخت روکنے کے لیے قانون سازی کرے گی۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں جن ممالک میں مکانوں کی مورگیج کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے وہاں اس سیکٹر میں شرحِ سود چار فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں فی الوقت بنیادی شرح ساڑھے آٹھ فیصد ہے اور حکومت کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے بعد اس میں مزید اضافے کا امکان بھی ہے۔
 


کیا حکومتی ماڈل کام کرے گا؟
سینیئرانجنینیئر سرفراز احمد کے مطابق موجودہ حالات میں اگر کم آمدن والے طبقے کو پانچ سے سات مرلے کا مکان قسطوں پر بھی دیتے ہیں تو وہ ادائیگیاں نہیں کر سکے گا کیونکہ کم آمدن سے مطلب ماہانہ 25 ہزار آمدن بھی ہو تو کیا وہ مکان کی دس ہزار روپے قسط دے سکے گا اور اگر قسط اس سے کم ہوتی ہے تو اس میں بیسیوں سال لگ جائیں گے تو کون اتنی معاشی قیمت چکائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سرکاری سکیم میں قرض پر کوئی چیز لینا اور اس کی قسطیں ادا کرنا ماضی میں ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور اگر حکومت کہہ رہی ہے کہ اس میں نجی شعبے کو شامل کیا جائے گا لیکن یہ شعبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہے انھیں فائدہ پہنچے کیونکہ وہ منافع کے لیے کام کریں گے عبادت کے طور پر نہیں، تو اس سے مکانات کی تعمیر کی لاگت بڑھے گی۔

ماضی کی حکومتوں سے یہ منصوبہ منفرد کیوں؟
پاکستان میں ماضی کی حکومتوں نے سستے مکانات کا اعلان کیا اور کئی منصوبوں پر کام بھی ہوا اور کئی منصوبوں پر جاری بھی تھا جس میں حالیہ دنوں لاہور کا آشیانہ ہاؤسنگ منصوبہ بھی کم آمدن کے طبقے کے لیے تھا۔

اس پر پارلیمانی سیکریٹری تاشفین صفدر نے کہا کہ پچھلے پروگرام کسی منصوبے کے بغیر بنائے گئے تھے اور ان کا مقصد شاید صرف ووٹ کا حصول تھا اور اسی وجہ سے ناکام ہوئے۔

لیکن اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ ان منصوبوں کو استعمال میں لایا جائے جس میں ہمارا منصوبہ تعمیر کے مرحلے میں داخل ہو گا تو اس وقت لازمی یہ نہیں ہو گا کہ 50 لاکھ نئے مکانات تعمیر کیے جائیں بلکہ ان میں وہ مکانات بھی شامل ہو سکتے ہیں جو اس وقت بن رہے ہیں یا بن چکے ہیں اور ہمارے اداروں کی نگرانی میں ہیں۔

نئے منصوبے سے روزگار کے مواقع
 


پارلیمانی سیکریٹری تاشفین صفدر نے کہا کہ اتنے بڑے منصوبے میں جو حکومتی ادارے، نجی شعبہ اور غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہوں گے تو اس میں سب سے پہلے نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تعمیراتی سامان سے منسلک صعنت کو فائدہ ہوتا ہے

لیکن اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مکانات کی تعمیر کی تربیت بھی دی جائے گی اور ساتھ رہائشی منصوبوں کے اندر بھی روزگار کے یونٹس قائم کیے جائیں گے۔

کیا واقعی میں روزگار کے دروازے کھل جائیں گے؟
اس پر انجنینیئر سرفراز احمد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہاؤسنگ کا کوئی بڑا منصوبے شروع کیا جائے تو اس میں بڑی تعداد میں صنعتوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں سیمنٹ، کرش، بجلی کے تار، سینٹری، لکڑی کا سامان، سوئچ وغیرہ کی صنعتوں کو آرڈر ملنا شروع ہو جاتے ہیں جسے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ گھروں کی تعمیر میں بھی اچھی خاصی افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں مکانات کی عوامی سیکمیں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی ہیں لیکن موجودہ حکومت نے ماضی کی برعکس منظم انداز میں اس سکیم کو شروع کرنے کا عزم کیا ہے تاہم ماہرین کے مطابق دیکھنا یہ ہے کہ وقت کے ساتھ معاشی طور پر اس میگا پراجیکٹ کو حکومت کس طرح ٹریک پر رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے اور اس میں مکانات کی چابی کو سرمایہ کاروں کی بجائے ان کے اصل حق داروں تک پہنچانا کا مقصد پورا کرنا ہے۔


Partner Content: BBC URDU

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Oct, 2018 Total Views: 2132 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Prime Minister Imran Khan will launch a pilot project of ‘Apna Ghar’ scheme on Wednesday, taking a step to realise its commitment for providing 5 million homes at affordable prices to citizen in five years. The Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), in its election manifesto, had pledged to provides houses to homeless people across the country if it voted to power. Now, it is going to launch the pilot projects of the scheme in all the four provinces and Gilgit-Baltistan in the first phase.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB