مجھے بیٹے سے عزیز کچھ نہیں٬ یورپ کا خواب دیکھنے والے بیٹے کی واپسی کے لیے باپ کو 50 لاکھ دینے پڑے

image
 
’مینوں اپنے پُتر دی جان توں ودھ کے کوئی چیز چنگی نئیں، میں اودھے واسطے اپنی پوری حیاتی وی وار دیندا۔‘ (مجھے اپنے بیٹے کی جان سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں، میں اُس کی زندگی کی خاطر اپنی پوری عمر بھی قربان کر دیتا۔)

یہ الفاظ 70سالہ نذیر احمد کے ہیں جنھوں نے غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کے لیے رخت سفر باندھنے والے اپنے بیٹے کو لیبیا سے پاکستان واپس لانے کے لیے ایجنٹ کو 50 لاکھ روپے ادا کیے ہیں۔

اس سے قبل نذیر احمد نے اپنے بیٹے کی ضد کے آگے ہار مانتے ہوئے اسے یورپ بھجوانے کے لیے ایک اور ایجنٹ کو 25 لاکھ کی ادائیگی کی تھی۔

نذیر احمد کے بیٹے کے بقول انھیں یقین ہے کہ اُن کے ساتھ جانے والے افراد کو ایجنٹوں نے لیبیا سے اُسی کشتی میں سوار کروایا تھا جو رواں ماہ یونان کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ حال ہی میں پاکستان پہنچنے والے نذیر کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا حالیہ دنوں میں اس حادثے کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی شہریوں کی جو تصاویر سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں اُن افراد کو بھی ایجنٹوں نے ان کے ہمراہ لیبیا میں رکھا ہوا تھا۔

نذیر احمد بتاتے ہیں کہ 25 لاکھ دے کر ان کا بیٹا ضد کر کے گھر سے نکل تو گیا مگر جب انھیں ان بُرے حالات کی بابت علم ہوا جن میں ان کا بیٹا رہ رہا تھا تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو مزید اس دلدل میں دھنسنے نہیں دیں اور اسے واپس پاکستان لائیں گے۔

’بیٹے نے بتایا کہ کیسے اسے چار، چار دن کھانا نہیں ملتا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ چاہے جائیداد کے ساتھ ساتھ اپنا آپ بھی کیوں نہ بیچنا پڑے، میں اپنے بیٹے کو واپس بلاؤں گا۔‘

نذیر احمد کے مطابق انھوں نے لیبیا سے اپنے بیٹے کی پاکستان واپسی کے لیے ایک ایجنٹ کو اس سے دگنی رقم ادا کی جو انھوں نے پورپ پہنچانے کے لیے پہلے ایجنٹ کو دی تھی۔
 
image
 
نذیر کہتے ہیں کہ ’میں تو موجودہ اور آنے والی نسلوں کو بھی یہ نصیحت کر کے جاؤں گا کہ وہ کبھی بھی روزگار کی خاطر اپنے ملک کو چھوڑ کر نہ جائیں، کیونکہ روزی کا وعدہ اللہ نے کیا ہوا ہے جبکہ زندگی صرف ایک بار ہی ملتی ہے۔‘

آئیے اب اس نوجوان سے اُس کی کہانی سنتے ہیں کہ وہ کن حالات میں واپس آیا لیکن پہلے یہ بھی جانتے ہیں کہ انھوں نے غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کا خواب کیوں دیکھا۔

صوبہ پنجاب کے وسطی علاقے وزیر آباد کے رہائشی نوید (فرضی نام) نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یورپ جانے کا شوق اپنے کزن کی تصویریں دیکھ کر ہوا جو چار سال قبل ایجنٹوں کے ہی ذریعے یورپ پہنچے تھے۔

’میرے کزن نے آئے روز سوشل میڈیا پر اپنا سٹیٹس تبدیل کیا ہوتا تھا۔ اس کے ٹاٹھ باٹھ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے بھی بہتر مستقبل کے لیے یورپ جانے کا ارادہ کیا اس بات کی قطع نظر کہ میری وزیر آباد میں موبائل فونز کی دکان تھی اور بزنس بھی اچھا چل رہا تھا۔‘

نوید کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انھوں نے ایک مقامی ایجنٹ سے رابطہ کیا اور معاملات 25 لاکھ میں طے پائے جس میں سے 15 لاکھ روپے ایڈوانس جبکہ باقی 10 لاکھ اٹلی پہنچ کر دینے کا وعدہ ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایجنٹ نے انھیں یورپ جانے کے دو روٹ بتائے تھے: ایک بذریعہ سڑک یعنی وزیر آباد سے کوئٹہ، کوئٹہ سے ایران، ایران سے ترکی، ترکی سے لیبیا اور پھر وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے یورپ جانا تھا جبکہ دوسرا روٹ پاکستان سے بذریعہ پرواز دبئی اور پھر وہاں سے کشتی کے ذریعے مصر یا لیبیا اور وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے یورپ تھا۔

انھوں نے کہا کہ فروری 2023 میں ایجنٹ دبئی کو وزٹ ویزے کا بندوبست کیا اور وہ بذریعہ فلائیٹ دبئی پہنچ گئے۔

نوید کے بقول چونکہ اُن کے پاس دبئی کا ایک ماہ کا ویزہ تھا اس لیے وہ کچھ دن وہاں پر آزادانہ گھومتے پھرتے رہے اور پھر انھیں ایک سیف ہاؤس میں لے جایا گیا جہاں پر پہلے ہی 50 کے قریب دیگر افراد بھی موجود تھے جن کا تعلق انڈیا، بنگلہ دیش، مالدیپ، سری لنکا اور افغانستان سے تھا۔

نوید کا کہنا تھا کہ دو دن بعد ان سمیت پچاس کے قریب افراد کو ایک چھوٹے بحری جہاز کے ذریعے رات کی تاریکی میں مصر لے جایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جس ایجنٹ کے توسط سے وہ پاکستان سے دبئی آئے تھے اس نے انھیں دبئی پہنچنے کے بعد ایک مصری ایجنٹ کے حوالے کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ مصر میں انھیں کچھ دن تک ایک اور سیف ہاؤس میں رکھا گیا کیونکہ اُن سمیت دیگر افراد کے پاس مصر کا ویزہ نہیں تھا۔
 
image

ایجنٹ وہاں پر رکھے گئے افراد سے پیسے لے کر انھیں کھانے پینے کی اشیا فراہم کرتا تھا۔

نوید کے مطابق وہ تین ہفتے تک مصر میں رہے چونکہ وہاں سے یورپ جانے کا کوئی روٹ نہیں بن رہا تھا، پھر ایک دن ایجنٹ نے بتایا کہ اب وہ انھیں لیبیا لے کر جائے گا جہاں سے ایک بڑے بحری جہاز کے ذریعے انھیں یورپ پہنچا دیا جائے گا، اس موقع پر ایجنٹ نے ان افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے گھر والوں سے مزید پیسے منگوائیں۔

اس مطالبے کو پورا کرنے کے لیے نوید نے اپنے گھر والوں سے پانچ لاکھ روپے منگوائے جو بذریعہ ہنڈی ایجنٹ کو پہنچائے گئے۔

انھوں نے کہا کہ ایجنٹ کو رقم ملنے کے دو دن کے بعد رات کی تاریکی میں ان سمیت دیگر افراد کو چھوٹی کشتوں میں سوار کرکے انھیں لیبیا لے جایا گیا کیونکہ ایجنٹ کے بقول سمندر کے راستے یونان اور اٹلی نزدیک پڑتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا پہنچنے کے بعد اس ایجنٹ نے ہم پچاس افراد کو ایک اور ایجنٹ کے حوالے کر دیا۔

نوید کا کہنا تھا کہ لیبیا پہنچنے کے بعد انھیں بندرگاہ کے ساتھ ایک قریبی قصبے میں واقع گھر کے چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا جس میں ایک وقت میں دس سے بارہ افراد سو سکتے تھے چنانچہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہم پچاس لوگ شفٹوں میں سوتے تھے جبکہ باقی لوگ کمرے میں ایک سائیڈ پر اور کمرے کے ساتھ ایک خالی جگہ پر بیٹھ جاتے تھے، یہ جگہ درحقیقت باتھ روم تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایک ماہ تک وہاں رہے اور اس عرصے کے دوران ان سمیت دیگر افراد کے پاس جو پیسے تھے وہ بھی ختم ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے متعدد بار انھیں دو، دو تین، تین دن بھوکا رہنا پڑتا۔ نوید احمد کا کہنا تھا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اس نے اور وہاں پر رہنے والے دیگر افراد نے اپنے اپنے ملکوں سے ہنڈی کے ذریعے ایک مرتبہ پھر پیسے منگوائے جن میں سے زیادہ تر پیسے ایجنٹ خود ہی رکھ لیتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران دو مرتبہ انھیں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے پورٹ پر لنگر انداز ایک چھوٹے بحری جہاز میں لے جایا گیا اور انھیں بحری جہاز کے انجن روم میں بند کر دیا گیا کیونکہ وہاں پر ایجنٹ کے بقول اس جگہ پر کوسٹ گارڈ چھاپہ نہیں مارتی۔ انجن روم اور اس کے ساتھ دیگر جگہوں پر ان سے پہلے بھی افراد موجود تھے۔
 
image

انھوں نے کہا کہ ہم تمام لوگوں کے پاس تھوڑا سا راشن تھا جو کہ ختم ہو گیا تھا۔ راشن کی کمی اور وہاں کی صورتحال کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی طبیعت خراب ہونے لگی جبکہ اسی دوران ایک سری لنکن شہری بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک بھی ہوا۔

انھوں نے کہا کہ دو دن تک جہاز کو جب کلیئرنس نہ ملی تو ایجنٹ انھیں رات کی تاریکی میں دوبارہ وہاں سے نکال کر اس جگہ لے گیا جہاں پر انھیں پہلے ٹھہرایا گیا تھا۔

نوید نے بتایا کہ جب انھیں وہاں سے نکالا جا رہا تھا تو ہلاک ہونے ولے سری لنکن کی لاش وہیں پڑی رہنے دی گئی۔

نوید کا کہنا تھا کہ وہ یورپ جانے کے لیے تین، چار مہینے سفر میں رہے اور وہ آخری مرتبہ اس وقت نہائے تھے جب وہ دبئی سے مصر جانے کے لیے کشتی میں سوار ہو رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اور بلخصوص سری لنکن شہری کی ہلاکت کے بعد وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے اور انھوں نے تہیہ کیا کہ وہ ہر صورت اس ماحول سے نکلیں گے۔ مگر جب انھوں نے ایجنٹ سے واپس پاکستان جانے کی بات کی تو اس نے انکار کر دیا اور ساتھ یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تم نے واپس جانے کی کوشش کی تو تمہیں راستے میں مار دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ان سختیوں اور کھانے پینے کی شدید قلت کے باوجود ان کے ساتھ اس کمرے میں موجود افراد کی اکثریت اپنے وطن واپس جانے کو تیار نہیں تھی اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے وہ یہ کہتے تھے کہ اگر ان کی موت پانی میں ہی لکھی ہے تو وہ وہیں مریں گے۔

نوید نے بتایا کہ ان کے ساتھ منڈی بہاؤ الدین کا ایک لڑکا بھی تھا جو کسی اور ایجنٹ کے ذریعے آیا تھا۔ اس لڑکے نے نوید کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے ایجنٹ سے بات کر کے نوید کی پاکستانی واپسی کی صورت نکالے گا۔

نوید کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں کے بعد اس کا رابطہ تنویر کے ایجنٹ سے ہوا جس نے واپسی کے لیے پچاس لاکھ روپے کا تقاضا کیا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اس نے اپنے گھر والوں کو تمام حالات بتائے اور کہا کہ وہ واپس آنا چاہتا ہے اور فلاں ایجنٹ اسے واپس پاکستان لا سکتا ہے۔

نوید کے والد محمد نذیر کا کہنا تھا کہ اپنے بیٹے کے حالات کا سُن کر ان کی رات کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں، چنانچہ انھوں نے اپنے بیٹے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی جمع پونجی پہلے ہی بیٹے کو یورپ پہنچانے کے لیے ایجنٹ کو دے چکے تھے، مگر 50 لاکھ پورے کرنے کے لیے انھوں نے اپنی زرعی زمین کو کچھ حصہ فروخت کر دیا۔

محمد نذیر کا کہنا تھا کہ جس ایجنٹ کے ساتھ اپنے بیٹے کو واپس لانے کے لیے معاملات پچاس لاکھ روپے میں طے پا گئے تو اس کے ایک نمائندے نے ان سے رابطہ کیا جس کے کہنے اسے تیس لاکھ روپے نامعلوم مقام پر دیے گئے اور باقی رقم اس وقت دینے کا وعدہ ہوا جب اس کا بیٹا واپس پاکستان پہنچ جائے گا۔

نوید کے مطابق جب گھر والوں کے اس نئے ایجنٹ کے ساتھ معاملات طے پا گئے اور اس روز رات گئے اس ایجنٹ کا نمائندہ اسے وہاں سے نکال کر اپنے ساتھ لے گیا، یہ وہ وقت تھا کہ باقی ماندہ افراد کے یورپ جانے کا وقت ہو چکا تھا اور لیبیا میں موجود ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کر رہا تھا۔

نوید احمد کا کہنا تھا کہ اس نئے ایجنٹ نے اسے واپس پاکستان بھیجنے کے لیے لیبیا سے ترکی اور ترکی سے ایران اور ایران سے کوئٹہ تک پہنچنے کا پروگرام بنایا جو کہ خطرناک اور طویل تھا جس پر نوید نے انکار کیا اور ہوائی جہاز کے ذریعے واپس جانے کا اصرار کیا۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا میں کچھ دن رہنے کے بعد گذشتہ ماہ (مئی) کے آخر میں وہ بانسبت کم خطرناک راستے سے وطن پہنچنے میں کامیاب رہے۔

نوید واپس وطن آ کر بہت خوش ہیں اور اب وہ اسی ٹیلی فون موبائل ورکشاپ پر بطور ملازم کام کر رہے ہیں جس کو بیچ کر انھوں نے یورپ جانے کے لیے ایجنٹ کو پچیس لاکھ روپے دیے تھے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: