قرآن تو ہمارا ہے لیکن آپ کی آنکھ سے آنسو کیوں نکلے؟

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

یہ تقریباً 1978یا 1979ءکی بات ہے۔ ایک بار جمال عبدالناصر سوویت یونین کے سرکاری دورے پر اپنے وزراء کے وفد کے ساتھ گیا‘ مذاکرات کا دور چل رہا تھا باتوں باتوں میں سوویت یونین کے صدر نے جمال عبدالناصر سے طنزیہ انداز میں پوچھا ”جمال عبدالناصر ہمارے لیے کیا لائے ہو؟“سوویت یونین کمیونسٹ ملک تھا یعنی وہ لوگ اللہ کے وجود سے ہی منکر تھے۔ جمال عبدالناصر نے کچھ دیر سوچا اور پھر جواب دیا ” جب اگلی بار آﺅں گا تو ایک تحفہ لاﺅں گا۔“ روسی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا ”میں انتظار کروں گا۔“کچھ عرصہ بعد جمال عبدالناصر دوبارہ سوویت یونین کی دعوت پر اپنے سرکاری وفد کے ساتھ جانے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ قاری عبدالباسط الصمد (جو کہ دنیا کے سب سے مشہور قرآن کے قاری وفات سے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں اور جن کی تلاوت پوری دنیا میں اب بھی سنی جاتی ہے) کو بلایا جائے اور ان کو اس وفد میں شامل کیا جائے۔ جب وفد سوویت یونین پہنچا اور پہلے کی طرح جب دونوں صدور آپس میں بیٹھے تو حسب سابق سوویت یونین کے صدر نے پوچھا ”جمال عبدالناصر! ہمارے لیے کیا لائے ہو؟ آپ نے کہا تھا کہ اگلی بار آپ کیلئے ایک تحفہ لاﺅں گا‘ ایسا کیا تحفہ ہے؟ جو آپ ہمیں دو گے۔“

جمال عبدالناصر نے پراعتماد انداز میں جواب دیا کہ آپ کیلئے واقعی ایک تحفہ لایا ہوں۔ سوویت یونین کے صدر نے اشتیاق سے پوچھا ”وہ کیا تحفہ ہے؟۔“ جمال عبدالناصر نے قاری عبدالباسط رحمتہ اﷲ علیہ کو بلایا اور سوویت صدر کے سامنے کھڑا کیا اور کہا کہ ”یہ تحفہ ہے“ وہ حیران ہوا‘ اور پوچھنے لگا” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ “جمال عبدالناصر نے قاری عبدالباسط کو کہا ”ان کو تلاوت قرآن سنائیں“ اس وقت سوویت یونین کی تمام کابینہ اور بڑے بڑے وزراء اور مصر کا سرکاری وفد اس ہال میں بیٹھا تھا قاری عبدالباسط ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے ‘قاری عبدالباسط فرماتے ہیں کہ میں نے دل ہی دل میں دعا کی کہ اے اللہ! میں تیرے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے کبھی پریشان نہیں ہوا‘ لیکن آج میرے سامنے تجھے نہ ماننے والے اور تیرے قرآن کا انکار کرنے والے بیٹھے ہیں اور جو اپنی طاقت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں تو میری زبان میں ایسی تاثیر دے دے جو ان کے دلوں میں اتر جائے‘-

کہتے ہیں کہ میں نے آنکھیں بند کر کے تلاوت شروع کی‘ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیسے پڑھا؟ کہاں سے پڑھا؟ ہاں اتنا ضرور معلوم ہے کہ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ جب قاری عبدالباسط نے تلاوت شروع کی تو کچھ دیر بعد جمال عبدالناصر نے چپکے سے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے سوویت صدر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جب انہوں نے پیچھے نظریں دوڑائیں تو مصر کے وفد کے ساتھ ساتھ پوری سوویت کابینہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔ جب تلاوت ختم ہوئی تو جمال عبدالناصر نے اپنے ہم منصب سے پوچھا کہ قرآن تو ہمارا ہے‘ہماری آنکھوں سے آنسو بہیں تو سمجھ آتا ہے‘ لیکن آپ کیوں رو رہے تھے؟ سوویت صدر کہنے لگے” جمال عبدالناصر سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آیا لیکن پتہ نہیں کیوں دل پگھل رہا ہے اور بے اختیار آنسو بہے جارہے ہیں۔“

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Oct, 2017 Total Views: 3424 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Jamal Abdul Nasir President of Egypt was died in 1970. you code a wrong reference.
By: Imran Ahmed, Karachi on Feb, 28 2018
Reply Reply
0 Like
ALLAHU AKBAR
By: s h m anas, karachi on Oct, 04 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB