مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

 

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھا۔

جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا‘ تمہیں پتہ ہےکہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے‘ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا
جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے-

غلام نے جواب دیا‘بادشاہ سلامت! اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ بعض اوقات ان کا زور ایک مکھی پر نہیں چلتا۔کہتے ہیں کہ بادشاہ کو اس غلام کی بات اتنی بھائی کہ اس نے اسے آزاد کر کے اپنا مشیر مقرر کر دیا۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
17 Aug, 2018 Total Views: 10176 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Nice One.
But its actually a true conversation b/w shah Iran of that time and Eight Imam of Fiqh e Jafariya, not "AAQA - GHULAM" as quoted. These types of golden sayings only conveyed by Saints of ALLAH rabul izzat.
By: Anil, Karachi on Aug, 20 2018
Reply Reply
0 Like
SUBHANALLAH
By: Ghulam Rasool Waqasi, hyderabad on Aug, 19 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB