انتہائے جنوں ہے ابتدا جس کی

الل ابہئت خآسھمیر

جو لوگ بھی تاریخ سے کچھ نہ کچھ واسطہ رکھتے ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ دنیا میں جب بھی قوموں کو آزادی نصیب ہوئی ہے اس سے پہلے وہ قومیں مشکلات اور قربانیوں کی نا ختم ہونے والی ایک طویل داستانِ پیش کرتیں ہیں۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب قومیں حصولِ آزادی کے واسطے ا پنا سب کچھ لٹا کر قربانی کی بنیاد پر ڈٹ جاتی ہیں اور راہِ آزادی میں گرم خون پیش کرتی ہیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کی راہ روک نہیں سکتی۔تاریخ کی گہرائیوں میں میں جائے بنا اگر ہم تحریکِ آزادی پاکستان کو بطورِ مثال لیں تو یہ کہنا بالکل ناگزیر نہ ہو گا کہ پاکستان کا بننا اور اور مسلمانانِ برصغیر کو آزادی ملنا 1857 سے لے کر 1947 تک پوری ایک صدی اور ایک دہائی کے عرصے میں ہمارے اکابرین کی قربانیوں اور شہادتوں کا ہی نتیجہ ہے۔ اس آزاد پاکستان کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی داستانِ الم ہے اور شہادتوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جن کے انمٹ نقوش آج بھی موجود ہیں ۔یہ پاکستان ہمیں یوں ہی نہیں ملا تھا بلکہ یہ خون سے سینچی اک تحریکِ آزادی کا ثمر ہے کہ ہم آج ایک آزادی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

اگر کشمیر کی تحریکِ آزادی کی موجودہ صورحال کا جائزہ لیں تو یہ تحریک بھی اس وقت اپنے جوبن پر ہے ،اس کا ولولہ بھی کچھ کم نہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری قوم کی قربانیاں بھی بے مثل ہیں۔ڈوگرہ راج سے لے کر اب مودی سرکار تک گزشتہ ستر برس سے کشمیری مسلسل بندوق کے دہانے پر ہیں اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔گزشتہ چند سالوں میں کشمیری مسلمانوں پر جس انداز میں ظلم کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔دنیائے ستم میں چنگیز خان کا نام اس وجہ سے بھی مشہور ہے کہ وہ ظلم و ستم کے نت نئے طریقے ایجاد کیا کرتا تھا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس کا ہر اندازِ ستم پچھلے سے ذیادہ ازیت ناک ہوتا تھا۔آج بھارتی فوج بھی بالکل اسی ڈگر پر چل رہی ہے شاید کہ چنگیز خان سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ انہوں بھی ہر اندازِ ستم آزماء لیا یہاں تک کہ بدنامِ زمانہ پیلٹ گنوں سے چھلنی بھی کر کے دیکھ لیا مگر سلام ہے کشمیریوں کے پہاڑوں کی مانند بلند ومضبوط حوصلوں کو کہ وہ ذرا بھی ڈگمگائے نہیں۔ چونکہ مودی سرکار پاکستان دشمنی میں ووٹ حاصل برسرِ اقتدار آئی تو ان کی یہ کوشش ہے کہ کشمیر کی اس تحریک آزادی کو کسی طرح دبا دیا جس کے تاکہ وہ پاکستان کی شہ رگ پر قابض ہو جائے اور پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرسکے۔ مگر کشمیریوں کا مگر چٹانوں سے بھی ذیادہ مضبوط جذبہ حریت ان کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا اب اس تحریک دبانے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جو کہ مزید تیز ہو چکیں ہیں کیونکہ اب آگے چند ماہ بعد چناؤ بھی سر پر ہیں جن کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔اس تحریک کو دبانے کے لیے بھارتی فوج نے مار دھاڑ،ظالمانہ اور اذیت ناک طریقے سے عصمت دری اور قتل و غارت کے علاوہ نو خیز اور نوجوان اذہان کے ساتھ نفسیاتی گیم بھی کھیلی اور اس میں بری طرح ناکام ہوئی۔اپنی دانست میں انہوں ایک فیصلہ کن داؤ کھیلا مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بطلِ حریت برہانی وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کا نوجوان طبقہ خصوصا طلبا اس تحریک میں شامل ہوئے۔کشمیری طلبا ہاتھوں میں پتھر لیے بھارتی فوج کے رائفل برداروں کے ساتھ ٹکرا گئے۔حصولِ آزادی کی تگ و دو میں طالبات اور بچے بھی پیچھے نہ رہے ۔ بچے اپنے سینوں پر لکڑی کی خود ساختہ غلیل سجائے ہوئے اور ننھے ننھے سے ہاتھوں میں پتھر اٹھائے ہوئے بھارتی فوجیوں کو للکار رہے ہیں۔ اور اسی کشمیری طالبات اور خواتین جو پہلے نوحہ کرتی تھیں، جو صرف شکوہ کرتی تھیں وہ بھی میدانِ عمل میں اتر چکیں ہیں اور آئے روز کشمیر میں بھارتی ظلم و زیادتی اور درندگی کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کرتی ہیں۔ کشمیر کا ہر طبقہ خواہ جذبہ حریت سے سرشار ہے۔ حصولِ آزادی اور سرزمینِ لاالہ الاللہ کی محبت میں جان، مال،تجارت اور تعلیم الغرض اپنا سب لٹا کر بھارتی ظلم اور جبری قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔
میں سر بکف ہوں لڑوا دے مجھے کسی بھی بلا سے

قارئین کرام! اگر ہم اس بات کا تعاقب کرنے کی کوشش کریں کہ کشمیر کی آزادی کی طرف کس قدر بڑی پیش رفت ہوئی ہے تو ہمیں یہ بات بآسانی اور ساضح نظر آتی کی ہے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی نے ایک بہت بڑا سنگِ میل عبور کر لیا ہے کہ صرف پاکستان سے نہیں بلکہ بھارت کے اندر سے بھی کشمیر کی آزادی نورے بلند ہو رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے لیے بھارتی طلبا بھی متعدد مرتبہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ان بڑے دفاعی مبصرین اور ماہر عساکر بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اب انہیں اپنے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔خود بھارتی فوجی کشمیر میں جانا قبول نہیں کر رہے اور خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اور کشمیریوں نے بھی اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ آزادی کے سوا کوئی بات قبول نہیں کی جائے کی۔ بالکل ابھی گزشتہ دنوں بھارتی حکومت نے حریت قیادت سے مذاکترات کی کوشش بھی کی ہے۔ مگر حریت قیادت نے بھارتی حکومت کی جانب سے تعینات کردہ مذاکرات کار دنیشور شرما سے ملاقات کرنے سے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے۔اور واضح پیغام دیا ہے کہ جن کے ہاتھ نہتے کشمیریوں کے خون کے ساتھ رنگے ہوں ان سے کوئی مذکرات نہیں۔

عزیز طلبا! توجہ طلب بات یہ ہے کہ کشمیری تو اپنا حق ادا کرچکے ، وہ تو راہِ آزادی میں اپنا سب کچھ قربان کرکے کھڑے ہیں ، وہ اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کر رہے ہیں، وہ اپنے جذبات کے ساتھ اس تحریک کا بیڑا بھی اٹھائے کھڑے ہیں مگر میں اور آپ سوچیں کہ کیا ہم نے اپنے کشمیری بھائیوں کے ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔۔۔؟؟؟ اگر آج تک ہم نے کچھ نہیں کیا تو ہمیں سوچنا ہو گا کہ یہ ہمارا دینی قومی اور اخلاقی فریضہ ہے ۔ ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب اس پار اور اس پار کے لوگ آن ملیں گے۔

 

Abdullah Qamar
About the Author: Abdullah Qamar Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.