ان 9 "مضرِ شخصیت" عادات سے چھٹکارا پائیے

(Mian Jamshed, Rahimyarkhan)

آپ نے پہلے ہمیشہ اچھی و کامیاب زندگی گزارنے کے اصول پڑھے ہوں گے ، کہ اگر آپ صرف یہ پانچ، سات یا دس عادتیں اپنا لیں تو آ پ کی زندگی میں نکھار آ جائے گا۔ مگر میں آپ کو آج ان عادتوں سے کے متعلق آگاہی دوں گا جن سے آپ نے دور بھاگنا ہے ، مطلب کہ ان کو بالکل بھی نہیں اپنانا۔ یا اگر آ پ میں ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں تو ان سے چھٹکارا پانے کے کوشش کرتے ، نجات حاصل کرنی ہے ۔ چلئے پھر تیارہو جایئے، ان صرف 9 عادات کو ترتیب سے جاننے کے لیے جن کو آپ نے بالکل بھی نہیں اپنانا۔

یقین کریں دوستو کہ خود شناسی کہہ لیں یا پھر" اپنے خود کو جاننا" بہت ہی اہمیت رکھتا ہے ۔ ہم میں کیا خوبیاں و صلاحیتیں ہیں ؟کیا کرنا اچھا لگتا ہے اور کیا برا؟ہم کس وجہ سے اداس ہو جاتے ہیں؟ہم میں کیا کمیاں و کمزوریاں ہیں ؟ ہم میں کیا کچھ سنورنے و نکھرنے والا ہے ؟ہمارے لیے خوشی کا باعث کیا باتیں ہوتی ہیں ؟ہمارے لیے کیا مفید ہے اور کیا کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے ؟وغیرہ ۔ ۔ اس طرح کے تمام سوالوں کا جواب" اپنے آپ سے جاننا" بہت اہم ہے ۔ اور اس سے زیادہ اہم بات یہ سب جلدی جاننا ہوتا ہے۔جس کے لیے ہمیں خود کی زندگی کا جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ اپنے آپ کے عملوں پر غورو فکر کرنا پڑتا ہے ، دوسروں کے تجربات سے سبق حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو اگر آپ نوجوان دوران تعلیم ،خاص کر کالج لائف سے ہی ایسا سوچنا شروع کر دیں ،تو آپ کو آنے والی عملی زندگی میں بہت آسانی رہے گی ۔ لیکن اگر آپ نے پہلے ایسا نہیں کیا تو ابھی بھی وقت ہی میرے دوست، آپ آج اور ابھی بھی ایسا کرنا شروع کردیں تو باقی ماندہ زندگی کو بہترین سے گزار سکتے ہیں ۔
 


اس حوالے سے آپ نے پہلے ہمیشہ اچھی و کامیاب زندگی گزارنے کے اصول پڑھے ہوں گے ، کہ اگر آپ صرف یہ پانچ، سات یا دس عادتیں اپنا لیں تو آپ کی زندگی میں نکھار آ جائے گا۔ مگر میں آپ کو آج ان عادتوں سے کے متعلق آگاہی دوں گا جن سے آپ نے دور بھاگنا ہے ، مطلب کہ ان کو بالکل بھی نہیں اپنانا۔ یا اگر آپ میں ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں تو ان سے چھٹکارا پانے کے کوشش کرتے ، نجات حاصل کرنی ہے ۔ چلئے پھر تیارہو جایئے، ان صرف 9 عادات کو ترتیب سے جاننے کے لیے جن کو آپ نے بالکل بھی نہیں اپنانا۔

توجہ میں ہیرا پھیری ۔
اگر آپ نے آج کچھ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پھر آپکی توجہ کا پورا حقدار صرف وہی کام ہونا چاہئے، جو ہم اکثر نہیں کر تے ۔ ساتھ ہی دوسرے کام کرنا شروع کر دیتے یا پھر سوچوں میں ہی کام کا نتیجہ منفی سوچ کر ادھورہ چھوڑ دیتے۔ماضی میں وہ کام کیسا ہوا تھا، یا کسی دوسرے نے تو یہ ویسا کیا تھا، مجھ سے کیوں ایساہو رہا، چلو آج فلاں کام بھی ساتھ کرتے یا فلاں کام کو پہلے کرتے اور اس کام کو بعد میں وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہم کسی ایک کام کی یا اپنے اہم کام کی تکمیل نہیں کر پاتے ۔اس لیے دوستو، اپنی توجہ صرف "آج اور ابھی والے کام"میں ہی مرکوز رکھیں ۔

باتوں کے شیر، عمل میں زِیر۔
باتیں چاہئے جتنی مرضی کروا لو، سب کام کرنے کے منصوبے لاجواب ہوں گے مگر۔ ۔ عملی طور پر صفر۔ ۔ خواب اتنے کمال اور پورے دل لگا کر دیکھنے کہ سارا دن اور رات اسی میں گزر جانا مگر جب حرکت و عمل کی بار ی آنی توٹال مٹول ، فضول بہانے شروع، بس کل آنے دو یا فلاں میرے ساتھ مل جائے بس پھر عمل ہو گا وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ اور ایسا کچھ نہیں ہوتا، ہمارے بہترین منصوبے فضول میں ضائع جاتے ۔ تو دوستو، آپ جو کرنا چاہتے ہیں اسکو لکھیں ، اسکے حصول کا روڈ میپ تیار کریں ، روزانہ کی بنیاد پر عمل کریں ، چاہے شروع میں تھوڑا، تھوڑا کر کے ہی سہی ۔ اپنے ساتھ کسی ایسے بڑے کو شامل کریں جو صرف آپ پر نظر رکھے ، آپ کو چیک کرے کہ آپ نے اپنے منصوبہ کے مطابق کتنا عمل کیا، کتنا بہتر کیا، وغیرہ ۔ ۔ ایسے ہی آپ میں عمل کی عادت پیدا ہو جانی ہے۔
 


نہ کام نہ کاج والے لوگوں ساتھ تعلق داری ۔
پتہ ہے کیا، آپ پر سب سے زیادہ اثر آپ کے دوستوں کا ہوتا ہے جناب، اگر انکی سوچ اور عمل منفی یا ناکامی والی ہو گی تو سمجھیں آپ بھی گئے کام سے ،۔ بجائے آپ کو حوصلہ یننے کے آپ کو یہ سننے کو ملے کہ "چھوڑو یار کس کام میں پڑ گئے ، یہ کام تو مجھ سے نہیں ہوا تو تم سے کیسے ہوگا بچوجی"ایسے پھر جو آپ میں رہی سہی ہمت یا جذبہ موجود ہونا وہ بھی سارا بہہ جانا۔ ۔تو میرے بھائی ،اگر آپ نے جیتنا ہے، کچھ اچھا سیکھنا ہے، تو اپنے خود کو مثبت سوچ کے حامل حوصلہ افزاء لوگوں کے درمیان رکھنا بہت ضروری ہے ، خاص کر جن کا مقصد بھی آپ جیسا ہو یا ویسا وہ بھی حاصل کر چکے ہوں ۔ تاکہ آپ کے جذبہ ، علم و تجربہ میں اضافہ ہو سکے۔ تاکہ آپکے اندر عملی کام کرنے کی آگ روشن ہو۔

سڑے ہوئے اور اُکھڑے ہوئے رہنا۔
آپ کے چہرے پر کوئی رونق ہی نہیں ہے یار، جب دیکھو منہ پھلائے ہی رہتے، شکل پر ہمیشہ خواہ مخواہ کی سنجیدگی ہی رہتی بس، کاٹ کھانے کو دوڑتے سب کو، کیا مشکل وپریشانی میں صرف آپ ہی ہو؟ غصہ صرف آپ کو آتا، کسی اور کو نہیں آ سکتا کیا؟اپنی دفعہ کیوں برداشت نہیں ہوتا؟وغیر ہ، وغیرہ۔ ۔ جناب یاد رکھیں کہ، آپ پیار دیں گے تو ہی آپ بھی چاہے جائیں گے، آپ مسکرائیں گے تو ہی سب اچھا لگے گا، آپ کے ساتھ باقی بھی خوش رہیں گے ، ہر دوسرا بندہ ہی مشکل کا شکار ہے یہاں پر، آپ اکیلے ہی تو ایسے نہیں ہو۔ویسے بھی کام تو رو کر بھی کرنالہے تو کیوں نہ پھر ہنس کر ہی کر لیا جائے۔ اس لیے مسکرانا مت بھولنا میرے یار، ہر مشکل حالات میں خوش اخلاق رہنے کی کوشش کرنا بس.

آج کا دل نہیں اور کل آتی نہیں ۔
رات کو سوتے ہوئے پورے جذبے سے سوئے کہ بس کل صبح میں یہ کر دوں گا ،میں وہ کر دوں گا، کل کا دن نئی شروعات کا دن ہو گا، میں بدلاﺅ لاؤں گا ، یہ ہوگا، وہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔۔۔پھر کل کا دن بھی آہی جاتا ہے ، عمل کرنے کا وقت ۔۔۔مگر پھر۔۔۔اچھا آج میں ذرا منصوبہ کو اور بہتر سوچ لوں، اوہو فلاں کام یا چیز تو رہ ہی گئی، یا فلاں تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا، فلاں کپڑے ، جوتے نہیں ہیں ، وقت تو زیادہ ہو گیا ہے اب، فلاں بندہ تو نہیں ملے گا اب ، اچھا چلوذرا ریسٹ کر لوں ، فلاں کام کر لوں ، وغیرہ وغیرہ ۔۔لو جی گیا بندہ اب کام سے ۔ ۔ پھر رات آ جانی ، پھر جذبہ جوان ہو جانا کہ بس کل صبح میں یہ کر دوں گا میں وہ کر دوں گا۔ ۔تو جناب ایسا کرنے سے اجتناب کریں ، آپ بس شروع کر دو ، جیسا سوچا تھا، وسائل میں بہتری خودبخود ساتھ ساتھ آتی جانی ۔ ہر چیز کے پرفیکٹ ہونے کا یا ملنے کا انتظار مت کریں ، اپنے منصوبہ کے مطابق آج کا کام ، آج اور ابھی شروع کرو بس۔
 


میری مرضی میں جیسے مرضی کروں۔
ٹھیک ہے کہ آپ کے پاس بہت علم و تجربہ ہے، بہت عقل ہے ، آپ خودمختار ہیں ، آپ کو کوئی روکنے وٹوکنے والا نہیں ہے مگر۔ ۔ جو بھی ہے آپ آخرکار انسان ہیں جناب ،غلطی و ناکامی آپ سے بھی ہو سکتی ہے ، منصوبہ بناتے وقت کوئی کام کی بات آپ کو بھول بھی سکتی ہے یا نئے دور کے تقاضوں کے حساب سے آپ کا علم و تجربہ میں کچھ کمی ہو سکتی ، اس لیے دوسروں سے مشورو کرنا، انکے خیالات جاننا اور انکے تجربے سے فائدہ اٹھانا کوئی معیوب بات بالکل بھی نہیں۔ آپ رائے سب کی لیں پھر چاہے فائنل فیصلہ اپنی مرضی سے کریں ۔

ایک تو سُستی و کاہلی جان نہیں چھوڑتی۔
سردی میں باہر نکلنے کو واقعی دل نہیں کرتا، گرمی میں تو پسینہ سے برا حال ہوجاتا ہے ۔ گرم بستر یا ٹھنڈ ماحول سے نکلنے کو دل ہی نہیں کرتا۔مگر۔۔ایسا تب ہوتا ہے دوستو، جب آپکا مقصد غیر اہم ہو یا آپکے مطابق کا نہ ہو۔ یاد رکھیں کہ کمانے کے لیے یا کچھ حاصل کرنے کے لیے آپ کا پرجوش ہونا بہت ضروری ہے۔ کچھ بھی کرنے کو دل نہیں کرتا تب بھی آپکو خود کو منانا پڑے گا کہ آپ نے بہت کچھ کرنا ہے۔ کچھ بننا ہے ، حالات بدلنے کو کچھ حاصل کرنا ہے ۔ہاں کبھی کبھی کی کاہلی چلتی ہے یارو، مگر مستقل عادت نہیں بنانی، اپنے بستراور کمرے سے باہر نکل کر عملی کوشش کرنی ہی کرنی ہے ، تبھی آج کا کام کل کا آرام بنے گا صاحب۔

بہت سیکھ لیا، اب ضرورت نہیں۔
نہ، نہ، نہ ۔ ۔ ۔ یہ بات تو کہنی ہی نہیں اپنے آپ سے جناب۔آپ جتنے بھی تعلیم یافتہ ہوں مگر اپنے اندر ہمیشہ نئی چیز سیکھنے کی جستجو لازمی رکھنی ہے۔ اپنے آپ کو اپ ٹوڈیٹ لازمی رکھناہے۔ اپنے پسند کے موضوعات یا اپنے عملی میدان کے متعلق لازمی جانتے رہنا ہے۔ تحقیق کرتے رہنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ اپنی فیلڈ میں قابل بنے رہیں ۔ اس حوالے سے کتب ، اخبارات و رسائل کا مطالعہ لازمی کرتے رہنا ہے۔ آجکل تو انٹرنیٹ کی وجہ سے سیکھنا و معلومات حاصل کرنا بہت آسان ہو گیا ہے اس لیے اسکے مثبت استعمال سے آپ جلدی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
 


چھوڑو یار ، نہیں ہوتا اب اور۔
تو بھائی میرے جب چھوڑنا ہی تھا تو شروع ہی کیوں کیا تھا؟کیوں سوچ وبچار میں اتنا وقت برباد کیا تھا؟ذہن میں رکھنا چاہئے تھا کہ اتنا وقت تو لگتا ہی ہے ، فلاں فلاں کچھ ضروری سیکھنا یا کرنا پڑے گا ہی ، لوگوں کی منفی باتیں یا چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کو سہنا ہی پڑے گا۔ ۔ ادھورہ چھوڑنے سے اب کیا فائدہ؟چلو شاباش دل چھوٹا مت کرو، اپنے منصوبہ میں تھوڑی ردوبدل کر لو، اپنی کسی صلاحیت میں اضافہ کر لو، کسی کو ساتھ ملا لو۔سمجھا کرو کہ کام کی تکمیل بہت ضروری ہے یار، نتیجہ کا تو انتظار کرو ، ابھی سے ہار نہیں مانو پلیز۔ تھوڑا اور، تھوڑا اور کرتے اپنے اپ کو منزل کی جانب بڑھاتے جاﺅ بس۔

تو دوستو، اگر آپ میں ان تمام عادتوں میں سے صرف ایک پائی جاتی ہے تو پھر زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے کہ اسکو قابو میں لانا آپ کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ہاں، اگرایک سے زائد یا ساری کی ساری موجود ہیں تو ذرا خود پر توجہ دیں، ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں ، یاد رہے کہ خود میں بدلاﺅ لانے میں وقت تو لگتاہی ہے ،اس لیے آہستہ آہستہ ان پر قابو پاتے جائیں جتنا جلدی بدلنے کی کوشش شروع کریں گے اتنا جلدی فائدہ ہو گا اس لیے چلیں فوری عمل کی تیاری کریں۔۔نہیں نہیں، کل سے نہیں ، آج اور ابھی سے ۔ چلیں شاباش ہری اپ ، گیٹ اپ ۔ میری دعائیں بھی آپکے ساتھ ہیں ۔اللہ آپکوخود میں مثبت تبدیلیاں لانے اور اچھی عادتیں اپنانے میں بہت آسانی عطا فرمائے۔آمین۔

تحریر : میاں جمشید ، رحیم یار خان

لکھاری ، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب " حوصلہ کا گھونسلہ" کے مصنف بھی ہیں. ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
26 Dec, 2017 Total Views: 3203 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Basically, no matter who you are there are still some bad habits and practices that you always perform on the daily basis. Besides, but most of the determined and goal oriented personalities within the societies tend to know that; and indeed look for better ways of avoiding them.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB