اے میرے سنگدل محبوب

Poet: Syed Zulfiqar Haider
By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala (Pakistan) ; Nizwa (Oman)

دل کو میں نے سمجھایا بہت تیری بے وفائی کا بتایا بہت
تیری اصل صورت کو دکھایا بہت نقاب تیرے جھوٹ کا اُٹھایا بہت
اپنے ارمانوں کا قتل کرایا بہت ساتھ دیا اگرچہ تُو نے گرایا بہت
کتنا پاگل ہے دل نہیں بھول پاتا تجھے اگرچہ تُو نے ستایا بہت

کسی کے ساتھ کے بنا کیسے خوش رہ سکتا ہے کوئی
زندگی نام ہی آپس میں ملنے کا ہے جدائی کیسے سہہ سکتا ہے کوئی
محبت کے بغیر ساتھ ہی کیا اجنبیت کی دیوار کس طرح گرا سکتا ہے کوئی
کیا پتھر دل ہے محبوب میرے دوری مٹانا چاہا اگرچہ تُو نے اسے بڑھایا بہت

میری دوستی کو تُو نے آزمایا کئی بار اگرچہ ہر موڑ پر ثابت قدم پایا
پیار کرنے کی سزا میں مجھے جلایا کئی بار اگرچہ خود کو زخمی پایا
سناٹا طاری ہے مجھ پر تجھ سے بچھڑ کر خاموش ویرانے کی طرح
دل میں تجھے میں نے بسایا بہت اگرچہ دامن تُو نے چھڑایا بہت

نشوونما محبت کی ہونے دو بے رُخی چھوڑو چاہت بڑھنے دو
زندگی چند پل کی گذرگاہ ہے اسے بے قراری نہیں اطمینان دو
دل کی بات کو ہونٹوں تک لاؤ مجھے اقرارِ محبت دو
کیسے انوکھے زخم ہیں جسم پر نشان نہیں اگرچہ روح تک کہ تُو نے زخمایا بہت

Rate it:
Views: 21

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

Email
10 Oct, 2018
About the Author: Syed Zulfiqar Haider
Visit 50 Other Poetries by Syed Zulfiqar Haider »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

nice

By: Hina Khan, Karachi on Oct, 14 2018

amazing

By: Burhan Ali, Multan on Oct, 14 2018

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City