گلگت میں بھارت مخالف نعرے

(Javed Ali Bhatti, )

تحریر: شاہین اختر

N13سے 15نومبر تک عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان اور انجمن تاجراں گلگت نے وفاقی حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے نئے ٹیکسوں کے خلاف گلگت اور سکردو میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی ہڑتالی مظاہرین کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حکومت دینے تک وہ لگائے گئے نئے ٹیکسوں کے خلاف مزاحمت کرینگے۔ پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک کے خلاف بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی پڑے پیمانے پر پہلے ہی فنڈز مختص کرچکی ہے۔ گلگت بلتستان میں ہونے والی ہڑتال کی آڑ میں بھارتی میڈیا نے اس ساری صورتحال کو منفی انداز میں پاکستان دشمنی کے لئے استعمال کیا اور پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے عوام کے مظاہروں کو پاکستان مخالفت اور دشمنی کا رنگ دینے کی کوشش کی تاہم جی بی انتظامیہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران ، اپوزیشن رہنماؤں اور تاجروں کو اُن کی ہڑتال کے تناظر میں بھارتی پاکستان دشمن پراپیگنڈے اور اُس کے مضمرات سے آگاہ کیا جس پر 3دسمبر کو گلگت بھارت مخالف نعروں سے گونج اُٹھا۔ گلگت میں عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام یوم مردہ بھارت کے نام سے جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس کا کہنا تھا کہ ہم انڈین میڈیا کی طرف سے گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے تحریک کو منفی طور پر پیش کر نے کی شدیدمزمت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہز ہا ئنس پرنس کریم آغا خان کو سر زمین گلگت بلتستان پہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ حکومت وعدہ پورا کرے اور ٹیکسز کا خاتمہ کرے ورنہ اب مزید برداشت نہیں کرینگے۔ جلسے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر عہدے داران کا بھی خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم محب و طن پاکستانی ہیں ہمارا بچہ بھی جب ہو ش سنبھا لتا ہے تو پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگا تا ہے ہم نے 1947میں اپنا فیصلہ سنا دیاہے اور ہمارے آبا ؤ اجداد نے نہتے ڈوگرہ کو سر حد پار کرا کر اپنی وفا داری کا ثبوت دیاہے ہمارے قبرستانوں پہ پاکستان زندہ باد کے نعرے اندراج ہیں ہمارے گھروں کے چھتوں پہ پاکستان کے پرچم لہرارہے ہیں ہم نے اپنے قانونی و آئینی حقوق کے لیئے ٹیکسز کے حوالے سے احتجاج کیا جس کو انڈیا کے چینلز نے منفی طور پر پیش کیا ہے جس کی بھر پور الفاظ میں مذمت کر تے ہیں اور ہم اپنے میڈیا سے گزارش کر تے ہیں کہ وہ عوام کے جا ئز حقوق کے حوالے سے ہو نے والی سر گرمیوں کو کوریج دیکر دشمن ملک کو موقع نہیں دے ۔ حفیظ الرحمن ٹیکسز کے افادیت اور فضا ئل بیان کر نے کے بجا ئے ٹیکسز خا تمے کے لیئے اقدام اٹھا ئے اور بر جیس طاہر نے سکردو میں جو بیان دیا ہے اس سے حکومت کے جھوٹ کھل کر عوا م کے سامنے آچکا ہے ۔ نریندر مو دی کا یار ان کا قائد نواز شریف ہے اور نواز شریف کے ہو تے ہو ئے کسی کو انڈیا کا ایجنٹ ہو نے کی ضرورت نہیں ہے ان حکمرانوں کے اندر ہی را کے ایجنٹ ہیں اور یہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر رہے ہیں اور عوام کو اُکسا کر سڑکوں پہ لانا چا ہتے ہیں لیکن عوامی ایکشن کمیٹی اپنے جا ئز مطا لبات کیلئے پہلے بھی کام کر تی رہی ہے اور آئندہ بھی عوامی حقوق کے حصول کے لیئے کام کرتی رہے گی ۔

چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ناکام بنانے کے مشن پر تھا ،بھارت کیلئے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں اس لئے آسان ہوتیں ہیں کہ ایک طرف بلوچستان کئے کچھ ننگ وطن بھارت کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کو افغانستان کی سرزمین سے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا موقعہ مل رہا ہے۔گویا افغانستان میں رہ کر پاکستان پر وار کرنے کیلئے افغانستان کے احسان فراموش حکمرانوں نے اسے محفوظ ٹھکانے مہیا کئے ہیں ،گلگت بلتستان کے جغرافیے میں چونکہ اس کیلئے افغانستان جیسے محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں جہاں سے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کر سکے۔

دوسری طرف گلگت بلتستان میں پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں اور یہاں اسے غدار نہیں مل رہے اس لئے بھارت نے گلگت بلتستان کے چند ننگ وطن جو دوسرے ملکوں میں بھارت سے حرام کا مال لے کر گلگت بلتستان میں بے چینی ،انارکی اور احساس محرومی پیدا کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔گلگت بلتستان میں لوگ ان ننگ وطنوں سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں لیکن یہ ننگ وطن بھارت کو سہانے خواب دکھا کر اس کا مال حرام لوٹنے میں مصروف ہیں ،وہ زمانے گئے جب لوگوں میں شعور نہیں تھا اب بچہ بچہ سمجھتا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے ننگ وطنوں کے اپنے ذاتی مفادات ہیں اور یہ ننگ وطن اپنے مفادات کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اس لئے اﷲ کے فضل سے گلگت بلتستان میں تو را کی سازشیں دم توڑ گئی ہیں لیکن دوسری طرف تشویش یہ ہے کہ یوں تو بھارت نے عرصہ دراز سے ہر سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں اور مکروہ ہتھکنڈوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ اور ہمیشہ سے ہی مکاریوں اور ریا کاریوں پرچانکیائی فلسفے پر مبنی ایسے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کیے جاتے رہے ہیں جن کا تصور بھی کوئی مہذب انسانی معاشرہ نہیں کر سکتامگر گذشتہ کچھ عرصے سے بھارت کی سازشوں میں تیزی آ گئی ہے۔ بھارت کی ناپاک سازشوں پر گہری نظر رکھنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف را، وطن عزیز میں دہشتگردی کے اپنے پرانے طریقوں کو خطرناک حد تک تیز کر چکی ہے تو دوسری جانب را، بالخصوص گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں اپنے میڈیائی رابطوں اور سوشل میڈیا بروئے کار لا کر ایسے عناصر اور خیالات کو پروان چڑھانے کی مکروہ کوشش کر رہی ہے جن کے ذریعے ان علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جا سکے۔

اس مقصد کیلئے بیرون ملک رہنے والے ننگ وطنوں کو خاص طور پر ٹاسک دیا گیا ہے کہ جو ایک طرف سوشل میڈیا کے تعاون سے غیر محسوس انداز میں بلوچستان اور گلگت بلتستان میں عوام میں ریاست کے خلاف جذبات ابھارنے کیلئے فیس بک ،وٹس ایپ اور دیگرذرائع کو استعمال میں لا کر نوجوانوں کو استعمال میں لائیں اس حوالے سے دیکھیں تو سوشل میڈیا میں ایک عرصے سے گلگت بلتستان کے کچھ ننگ وطن قوم پرستی کے نام پر وٹس ایپ گروپوں کے ذریعے زہریلا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Ali Bhatti

Read More Articles by Javed Ali Bhatti: 141 Articles with 63544 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Dec, 2017 Views: 182

Comments

آپ کی رائے