مرگ مفاجات

(Amjad Siddique, Lahore)

یہ چھوٹی سوچ نہیں تو کیا ہے کہ کچھ افراد یا کسی ایک ادارے کے مفاد پر قومی مفاد کو قربان کردیا جائے۔یہ چھوٹی سوچ ہی ہے جو ایسا کرنے پر مجبو ر کرتی ہے۔طاقت کے حصول کے لیے ایسا کیاجاتاہے۔دوسروں پر ناجائز حاکمیت کے لیے کچھدھونس اور تسلط کا بندوبست تیار کیا جاتاہے۔ان کے گماشتے علاقے میں دبدبہ قائم کرتے ہیں۔جائز ناجائز کرنے میں معاونت دیتے ہیں۔انکے آقا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ یہ گینگ پورے علاقے میں ایسی بدامنی کا ماحول بناتاہے کہ جینا دوبھر ہوجائے۔جس کو چاہے پیٹ دیا۔جس کو چاہے اٹھوالیا۔جس سے چاہے چھین لیا۔ایک بات اور جو اس بندوبست میں دیکھی گئی وہ یہ ہے کہ اس گنیگ کی بھاگ دوڑ کا زیادہ تر فائدہ کمپنی کی بجائے دائیں بائیں والوں کو ہوا۔اگر ان کی چھینا جھپٹی کا حساب لگایا جائے توبہت کم آقا تک پہنچ پاتاہوگا۔زیادہ تر یہی ہوتاہے کہ نام تو کمپنی کا استعما ل ہوتاہے۔اور فائدہ چھوٹے موٹوں تک محدود رہتاہے۔کمپنی کو عشر عیشر ہی ملا۔مگر یہ محدود فائدہ بھی اس قدر دلکش ہے کہ بندوبست کی پرورش جاری رہتی ہے۔

پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ اور سابقہ ضلع ناظم کراچی مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ ہمیں دوبارہ غلط راہوں پر چلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔نیب کو صرف ایک میں ہی نظر آرہا ہوں۔ہم نے خوف کی علامت لوگوں سے جان چھڑائی ہے۔ہم پر کچھ لوگ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ہمیں سیدھی راہ سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مگر ہم عوام کے مفاد میں اس طرح کے دباؤ مسترد کرتے رہیں گے۔مصطفی کمال کے یہ خیالات اس پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔جب ایم کیو ایم کے منقسم دھڑوں میں کھینچا تانی عروج پر ہے۔سبھی دھڑے اپنے اپنے وجود کے جواز تراش رہے ہیں۔ متحدہ کے کھاتے میں بے شمار بدنامیاں اور برائیاں جوڑی جاتی رہی ہیں۔سارے دھڑے انہیں ایک دوسرے کے سر منڈنے میں مصروف ہیں۔ہر کوئی ماضی میں ان سے بیزار رہنے کی بات کررہاہے۔ ان دھڑوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ وقتا فوقتا خفیہ ہاتھ متحرک ہوکر ان کی وضاحتوں کو زائل کردیتاہے۔پچھلے دنوں دوبڑھے دھڑوں کے اتحاد کی کوشش اور ناکامی بھی کچھ اسی قسم کا ڈرامہ تھا۔دھڑوں کی باہمی کھینچا تانی اور الزام تراشی پھر سے شروع ہوگئی۔مصطفی کمال کو اپنی جماعت کے خلاف سازشیں کیے جانے کا گلہ بھی اسی طرح کے ماحول کے دوران سامنے آیا ہے۔

متحد ہ کی ٹوٹ پھوٹ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے۔ایک طے شدہ پلان کے تحت ا س جماعت کو توڑا گیا۔ مہینوں اس پلان پر کام ہوا۔الطاف حسین کے علاوہ دیگر تمام لیڈران کو ٹٹولا گیا۔کھنگالا گیا۔پھر جاکے یہ ٹاسک پورا ہوا۔مصطفی کما ل اور سابق گورنر سندھ عشرت العباد اس طرح کے پلان کی بھنک پڑنے کے بعد ہی منظر عام سے غائب ہوئے تھے۔اصل میں د وہ ڈبل مائنڈڈ تھے۔وہ متحدہ کی قیادت سے اختلاف تو رکھتے تھے۔مگر جس طرز کا نیا ڈھانچہ ترتیب دیا جارہاتھا۔اس سے وہ متفق نہ تھے۔اس نئی تنظیم میں جو کردار انہیں آفر کیا جارہاتھا۔انہیں قبول نہ تھا۔مصطفی کمال ایک عرصہ وطن سے دور رہے۔ان کی یکا یکی پاکستان آمد ا س بات کا ثبوت تھا کہ انہیں مطمئن کرلیا گیاہے۔ آمد کے کچھ ہفتوں بعد ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان ہوا۔پھر ہر دوسرے چوتھے دن متحدہ میں سے لوگ نکل کر اس نئی پارٹی کو جوائین کرنے لگے۔پھر اس گریٹ گیم کا اگلا فیز یوں پورا ہوا۔کہ جو لوگ مصطفی کمال پر عدم اعتماد رکھتے تھے۔ان کے لیے فاروق ستار کی سربراہی میں ایک الگ دھڑا قائم کردیا۔یوں متحدہ کو دونئے دھڑے میں تقسیم کرکے نیا نام اور نیا منشور دیا گیا۔اس دوران متحدہ لندن بد تدریج سکڑتی چلی گئی۔ایسا تاثر مسلسل دیا گیا۔جیسے الطاف حسین کے سو باقی سب قبول ہیں۔ مائنس ون کا جو ڈرامہ رچایا گیا۔اس کا مقصد صر ف اور صر ف الطاف حسین سے جان چھڑانا تھا۔

مصطفی کمال کی بے چینیاں بے سبب نہیں۔جس طرح کی سیاست انہوں نے چنی ہے۔ان کی بے چینیاں اسی طرز سیاست کی دین ہیں۔وہ امپورٹڈ قیادت ہیں۔نہ وہ اپنے دم پر آئے۔نہ اپنے دم پر سیاست کی۔وہ متحدہ کے ایک پلانڈدھڑے کے قائدہیں۔جس کے قیام میں ان کی کسی سیاسی بصیرت اور جدو جہد کا کچھ عمل دخل نہیں۔یہ بنوانے والوں نے بنوایا اور وہی اس کو اپنی مرضی کے مطابق چلا رہے ہیں۔مصطفی کمال کا واویلہ بے معنی اور بے جا ہے۔الطاف حسین کے انجام سے انہیں سبق سیکھنا چاہیے۔وہ مرگ مفاجات کے شکا ر ہوئے۔جب وہ کام کے نہ رہے توانہیں رستے سے ہٹادیا گیا۔متحدہ نے جو بدنامیاں پائیں وہ ایک اجتماعی کردار تھا۔مگر کنٹرولرز اب کسی نئی گیم کے لیے الطاف حسین کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔متحدہ کی ناکامیاں اور برائیاں اکیلے ایک شخص پر ڈال کر باقی سب کو کلین چٹ دلونانے کا یہ مکروہ کھیل قوم کے ساتھ کسی نئے دھوکے سے کم نہیں مصطفی کمال کا واویلہ بے جا ہے۔ان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے۔وہ تو ایک ٹریلرہے۔کسی دن وہ بھی الطاف حسین کی طرح مرگ مفاجات کے سزاوار ہونگے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 68250 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2017 Views: 371

Comments

آپ کی رائے