چین پاکستان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون

چین پاکستان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں چین اور پاکستان کے درمیان قریبی روابط اور تزویراتی تعاون ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا چین کا حالیہ دورہ، جس کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا ساتواں دور منعقد ہونا ہے، اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید گہرائی اور وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا اظہار ہے بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا بھی تسلسل ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ برس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2025 میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے چین کے دوروں کے بعد، اگست میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے چھٹے دور کی مشترکہ صدارت کی۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں پاکستان کے وزیر خارجہ کا دوبارہ چین کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان “آہنی دوستی” اور ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کی مضبوطی کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 21 مئی 1951 کو قائم ہوئے۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران چین اور پاکستان نے باہمی اعتماد، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مسلسل فروغ دیا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان کے دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے چین۔پاکستان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون کو ناقابلِ شکست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

چین اور پاکستان کے تعلقات میں اقتصادی و تجارتی تعاون ہمیشہ سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ 2006 میں طے پایا، جو جولائی 2007 میں نافذ العمل ہوا، جبکہ 2014 میں چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین کے محکمہ کسٹمز کے مطابق 2024 میں دوطرفہ تجارت کا حجم 23.06 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو سال بہ سال 11.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

اقتصادی تعاون کے مرکز میں چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے، جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کا فلیگ شپ منصوبہ ہے بلکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا بھی ایک اہم جزو تصور کیا جاتا ہے۔ 2013 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے تحت گوادر بندرگاہ، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، توانائی اور صنعتی تعاون کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، جو پاکستان کی طویل المدتی اقتصادی ترقی کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں تعاون کی مثال نمایاں ہے۔ ماضی میں بجلی کی قلت پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ رہی، تاہم سی پیک کے تحت متعدد بڑے توانائی منصوبوں کی تکمیل سے صورتحال میں واضح بہتری آئی۔ ساہیوال، پورٹ قاسم اور حب کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے علاوہ کروٹ ہائیڈرو پاور منصوبے نے صاف توانائی کی پیداوار میں اضافہ کیا۔ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ہوا لونگ ون ٹیکنالوجی پر مبنی جوہری یونٹس کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جبکہ سندھ میں سچل ونڈ پاور منصوبے نے ہوا سے توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت کو بروئے کار لایا ہے۔

چائنا تھری گورجز کارپوریشن کے مطابق کروٹ ہائیڈرو پاور منصوبے نے اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کے پہلے سال میں 3.64 ارب یونٹ بجلی پیدا کی، جس سے 50 لاکھ سے زائد افراد کو بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی۔ پاکستانی حکام کے مطابق چینی اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور انتظامی مہارت متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مقامی انجینئرز اور افرادی قوت کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے پاکستان بتدریج توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

چینی سفارت خانے کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے اختتام تک سی پیک کے تحت 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، 510 کلومیٹر شاہراہیں تعمیر کی گئیں، 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت شامل ہوئی اور 886 کلومیٹر قومی ترسیلی لائنیں بچھائی گئیں۔

اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ چین۔پاکستان تزویراتی ہم آہنگی علاقائی امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ چین اور پاکستان علاقائی سلامتی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح اتفاقِ رائے رکھتے ہیں۔ دفاعی تعاون، انسداد دہشت گردی میں اشتراک، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے لیے سیکیورٹی اقدامات اور کثیرالجہتی فورمز میں قریبی رابطہ دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات میں شامل ہیں۔ نومبر 2024 میں پاکستان میں ہونے والی مشترکہ انسداد دہشت گردی مشقیں، جن میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کے مغربی تھیٹر کمانڈ کے اہلکاروں نے شرکت کی، اسی تعاون کا عملی مظہر ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین اور پاکستان کے تعلقات باہمی اعتماد، اقتصادی اشتراک اور علاقائی سلامتی میں ہم آہنگی کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ اعلیٰ سطح سیاسی روابط، سی پیک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبے اور انسداد دہشت گردی میں قریبی تعاون اس شراکت داری کو مزید مستحکم بنا رہے ہیں۔ موجودہ دور میں جب خطہ اور دنیا متعدد چیلنجز سے دوچار ہیں، چین۔پاکستان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے مفادات کے تحفظ بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1743 Articles with 1003430 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More