ایران کیلئے وقت کی آخری دستک
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
حسیب اعجاز عاشرؔ تلخ ہے مگر حقیقت ہے کہ جب سلطنتیں اپنے زورِ بازو پر نازاں ہوتی ہیں تو تاریخ زیرِ لب مسکرا رہی ہوتی ہے اور جب حکمران اپنی ہی رعایا کو رعیت سمجھنے لگیں تو زمیں آہستہ آہستہ کھسکنا شروع کر دیتی ہے۔ ایران آج اسی لغزش زدہ زمیں پر کھڑا ہے، جہاں ہر قدم کے نیچے سوال ہے اور ہر سوال کے پیچھے ایک چیخ۔ ایک طرف سڑکوں پر ابلتا ہوا عوامی غصہ، دوسری جانب ریاستی جبر کی سخت ہوتی ہوئی گرفت، اور ان دونوں کے بیچ عالمی طاقتوں کی موقع شناس نظریں۔ ایک طرف ایران میں ایک شہرسے شروع ہونے والے مظاہرے دو ہفتوں میں ستر سے زائد شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد سرکاری بیانیے میں کچھ اور ہے، انسانی حقوق کے دفاتر میں کچھ اور، اور ماں کی گود میں شاید اس سے بھی کہیں زیادہ۔ مگر عدد خواہ جو بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ ہر عدد کے پیچھے ایک انسان تھا، جو مہنگائی سے نہیں،کرنسی کی بے قدری سے نہیں، ڈوبتی ہوئی معیشت سے نہیں، بے اعتنائی سے مرا،درحقیقت یہ برسوں سے دبائے گئے سوالات کا وہ سیلاب ہے جسے ریاست نے بارہا بند باندھ کر روکنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ بند ہمیشہ کمزور جگہ سے ٹوٹتا ہے۔دوسری طرف امریکی صدر کی جانب سے دھمکی آمیز بیان کہ اگر ایرانی ریاست نے اپنے مظاہرین پر ہاتھ اٹھانا بند نہ کیا تو ”بہت زوردار“ حملہ خارج از امکان نہیں۔ یہ بیان کوئی نیا نہیں بلکہ اس عالمی طاقت کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے جو ہمیشہ داخلی خلفشار کو بیرونی مداخلت کے جواز میں ڈھالنے کی ماہر رہی ہے۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور شام اس کی عبرتناک مثالیں ہیں۔ ٹائمنگ معنی خیز ہے، جب کسی گھر میں آگ لگی ہو تو محلے کا طاقتور ہمیشہ یہی کہتا ہے: یا تو خود بجھا لو، یا ہم آئیں گے اور پھر ملبہ ہمارا ہوگا۔ ایران کے ایوانِ اقتدار نے حسبِ روایت سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ سپریم لیڈر کے مشیرِ خاص علی شمخانی نے امریکہ کو تاریخ کا سبق یاد دلاتے ہوئے عراق، افغانستان اور غزہ کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ ایران کسی امریکی ”نجات دہندہ“ سے بخوبی واقف ہے۔ چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے بھی عدلیہ کو متحرک کر دیا اور ”فسادی عناصر“ کے لیے زمین تنگ کرنے کا عندیہ دیا۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر سوال کرنے والا فتنہ گر ہوتا ہے؟اور کیا ہر فتنہ طاقت کے زور پر دفن کیا جا سکتا ہے؟ ایران اب نہیں سمجھے گا تو پھر کب سمجھے گا کہ اُس نے برسوں اپنے عوام سے زیادہ اپنے نظریے کی حفاظت کی، اپنی سرحدوں سے زیادہ اپنے اثرورسوخ کی توسیع پر توجہ دی، اور اپنی معیشت سے زیادہ اپنی عسکری حیثیت کو مقدس سمجھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست مضبوط نظر آتی رہی اور شہری کمزور ہوتے گئے۔ ایران کا سب سے بڑا جرم اگر جرم کہا جا سکے تو ہے ہی یہی کہ گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے عوام،جنہیں شریکِ اقتدار بنانے کے بجائے شریکِ صبر بنایا گیا اور زیادہ توجہ اپنے علاقائی اثرورسوخ، عسکری مہم جوئی اور نظریاتی توسیع پر مرکوز رکھی۔ بیرونی محاذوں پر اثر بڑھانے کی خواہش نے داخلی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ایران کو ماننا ہو گا کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیواریں گر رہی ہیں، وہ صرف سبسڈی یا چند ڈالر کے الاؤنس سے دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکتیں۔ایران اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ خطے میں پراکسی سیاست، ایران کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس غلط فہمی کا شکار رہی کہ ہم جسے چاہیں بے چین رکھ سکتے ہیں، مگر خود چین سے رہیں گے۔ پاکستان کو نظر انداز کیا گیااور بھارت سے تعلقات بڑھانے کیلئے تگ و دو میں رہا، افغانستان میں مداخلت کے الزام سر لئے،عرب دنیا کو کبھی برادرانہ نگاہ نہیں بلکہ اکثر مسابقت اور شک کی عینک سے پرکھا گیا۔ یوں ایران رفتہ رفتہ سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا گیا، مگر اسے اس تنہائی میں بھی اپنی ”عظمت“ نظر آتی رہی۔یہ وہ مقام ہے جہاں غرور، دانش پر غالب آ جاتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا غرور اکثر زوال کی پہلی سیڑھی بنتا ہے۔ ایران مان لے کہ وہ یہ سمجھتا رہا کہ اس کی طاقت بہت ہے، اس کی صلاحیت بے پناہ ہے، اس کے اتحادی مضبوط ہیں۔مگر طاقت صرف ایک ہے اللہ رب العزت کی ذات، اور وہ ذات مسلمانوں کو باہمی اخوت، تحمل، عدل اور توازن کا درس دیتی ہے، نہ کہ مستقل محاذ آرائی اور خود ستائشی کا۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایران نے اُن طاقتوں کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھا جو اسلحہ بیچ کر امن کا دعویٰ کرتی ہیں، جو جنگ کو سفارت اور سفارت کو تجارت سمجھتی ہیں۔ ایسی دوستیاں موسموں کی طرح ہوتی ہیں؛ فائدہ ہو تو بہار، مفاد ختم ہو تو خزاں۔ایران نے دیر کر دی، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ مگر اتنی دیر بھی نہیں ہوئی کہ واپسی کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اپنے بچھائے ہوئے جال سمیٹ لے، اپنے کھودے ہوئے گڑھے خود پُر کر دے، اور آئینے میں جھانک کر خود سے وہ سوال کرے جس سے وہ برسوں گریز کرتا آیا ہے:کیا ریاست عوام کے لیے ہے یا عوام ریاست کے لیے؟ ایران اگر واقعی اپنی بقا کا خواہاں ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرِنو لکھنا ہوگا، نہ کہ محض ترمیمی نوٹس چسپاں کرنے ہوں گے۔ مسلم دنیا، خصوصاً عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو نعروں کے بجائے اعتماد کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ پاکستان، ترکی اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ توازن اور احترام پر مبنی روابط ہی وہ دروازے ہیں جو ایران کو اس گھٹن سے نکال سکتے ہیں۔بصورتِ دیگر نتائج بڑے واضح ہیں، اتنے واضح کہ انہیں پیش گوئی کہنا بھی توہینِ عقل ہے۔ داخلی خلفشار، عالمی تنہائی، مزید پابندیاں، ممکنہ عسکری تصادم اور بالآخر وہی انجام جو تاریخ ہر ضدی ریاست کے لیے دہراتی آئی ہے۔سمجھایا اُنہیں جاتا ہے جنہیں سمجھ نہ ہو کہ قوم دانشمندی سے زندہ رہتی ہے نہ کہ طاقت سے۔ ریاست اعتماد کے ستونوں پر قائم ہوتی ہے،خوف پر نہیں اور بندوق سے اقتدار کھینچا جا سکتا ہے بس دوام صرف و صرف قبولیت سے پاتا ہے۔ ایران کو چاہیے کہ سمجھ لے کہ وقت آخری دستک دے رہا ہے کہ اُس کے پاس ابھی بھی تھوڑا سا وقت ہے۔ اگر اس نے اس وقت کو پہچان لیا تو شاید وقت بھی اسے پہچان لے۔ ورنہ وقت کی عادت ہے کہ وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا اور جب گزر جاتا ہے تو صرف حوالہ بن کر رہ جاتا ہے۔
Haseeb Ejaz Aashir 00923344076757
|