مضبوط دفاع کے بغیر آزادی ایک دھوکا
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
حسیب اعجاز عاشرؔ یہ ایک تلخ مگر اٹل حقیقت ہے کہ من پسند سیاسی قیادت، بلند و بانگ معاشی منصوبے اور خوش کن نعرے اُس وقت ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، جب ریاست کے دفاعی بازو کمزور پڑ جائیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جن قوموں نے اپنی افواج کو کم تر جانا، اُنہیں وقت نے غلامی کے زنجیروں میں جکڑ دیا۔ وہ ریاستیں جن کے پاس تیل کے سمندر تھے، سونا تھا، وسائل کی فراوانی تھی، مگر اپنی افواج سے بے وفائی کی، آج اُن کے کھنڈرات پر اُلو بولتے ہیں۔ کیا ہم نے لیبیا کو نہیں دیکھا؟ وہ لیبیا جہاں افریقہ کی سب سے مضبوط معیشت تھی، جہاں عوام کو گھروں، علاج اور تعلیم کی سہولتیں میسر تھیں، مگر جب فوج کو کمزور کیا گیا، جب بیرونی طاقتوں کے اشارے پر ریاستی دفاع کو مشکوک بنایا گیا، تو وہاں ریاست بکھر گئی، قبائل میں تقسیم ہو گئی، اور عزتِ نفس تاریخ بن گئی، نہ قانون، نہ عزت، نہ امن بچا۔ وہی لوگ جو کل ”آزادی“ کے نعرے لگاتے تھے، آج لاشوں پر بیٹھ کر اپنے ہی فیصلوں پر نوحہ کناں ہیں۔ یہ کیسا فریب ہے جو ہمارے اذہان میں اُتارا جا رہا ہے کہ بس میرا لیڈر،میرا صوبہ، میری زبان،میری تہذیب،میری معیشت،میری چمکتی سڑکیں۔اِدھر تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ جب ریاست کے بازو کمزور ہو جائیں، تو ترقی کی ساری عمارت ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ صدام حسین کا دور سخت تھا، مگر ریاست قائم تھی۔پھر وقت آیا کہ صدام کے بدترین مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ“کاش وہی دور لوٹ آئے، کم از کم ملک تو تھا۔”آج عراق خون میں نہا رہا ہے، نسلیں تباہ ہو چکی ہیں، اور فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں۔کِن سے پوچھیں جنہوں نے اِس نہج پر پہنچایا وہ باقی نہیں رہے۔ وینزویلا کا المیہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہے کہ وسائل طاقت کے بغیر بوجھ بن جاتے ہیں۔ تیل کے وہ کنویں جن پر پوری دنیا کی نظریں تھیں،آج حکمرانوں کو نہیں بچا سکے،تیل، سونا، سب بیکار ہو گیا، کیونکہ ریاست کے دفاعی ستون کمزور کر دیے گئے۔ امریکی دباؤ، عالمی پابندیاں اور اندرونی خلفشار نے ثابت کر دیا کہ طاقت کے بغیر معیشت ایک لاش ہے جس پر صرف کفن چڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں نظر انداز کر کے اگر کوئی پاکستانی اپنی ہی فوج پر انگلی اٹھاتا ہے، تو وہ دراصل اپنے بچوں کے مستقبل پر خنجر چلاتا ہے۔پاکستان کوئی عام ریاست نہیں۔ یہ ایک نظریے پر وجود میں آیا، اور اس نظریے کی حفاظت کا بار سب سے پہلے پاک فوج نے اٹھایا۔ 1948ء ہو یا 1965ء،1971ء کا زخم ہو یا 1999ء کے بعد کا نیا محاذ،سیاچن کی یخ بستہ چوٹیاں ہوں یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ،فاٹا کی وادیاں ہوں یا کراچی کی تنگ گلیاں،پاک فوج نے ہر محاذ پر خون سے لکیر کھینچی ہے۔کیاہم ہی بھول گئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ستر ہزار سے زائد جانیں قربان کیں؟کیا یہ معمولی بات ہے کہ ایک فوج نے اپنے ہی شہروں، اپنے ہی علاقوں میں، بغیر توپوں اور فضائی بمباری کے، گھر گھر جا کر دہشت گردی کا قلع قمع کیا؟آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد صرف فوجی آپریشن نہیں تھے، یہ ریاست کی بقا کی جنگیں تھیں۔ وہ سپاہی جو برف میں جما، وہ افسر جو بارودی سرنگ پر قدم رکھ کر مسکرا دیا، وہ جوان جو اپنی ماں کی آخری آواز سنے بغیر شہید ہو گیا، یہ سب تاریخ کا سرمایہ ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ فوج سیاست سے دور رہے، مگر یہ سوچنا مشکل ہے کہ اگر فوج نہ ہوتی تو سیاست کس زمین پر کھڑی ہوتی۔ سیاست دان آتے جاتے رہتے ہیں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر فوج وہ ستون ہے جو ہر طوفان میں ریاست کو سنبھالے رکھتا ہے۔ جن ملکوں میں افواج کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، وہاں سیاست دان چند برس بعد تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے گئے، مگر ریاستیں بھی اُن کے ساتھ دفن ہو گئیں۔ آج جو لوگ سوشل میڈیا کے چند نعروں، بیرونی بیانیوں اور وقتی سیاسی مفادات کے تحت پاک فوج پر زبان درازی کر رہے ہیں، وہ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ تاریخ کا انتقام بہت بے رحم ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم تو گزر جائیں گے، مگر ہماری اولادیں اسی زمین پر زندہ رہیں گی۔ وہ کن کا گریبان پکڑیں گی؟ کن سے سوال کریں گی کہ ہمیں غلامی کیوں وراثت میں ملی، ہمیں بے بسی کیوں ملی، ہمیں فقیری کیوں ملی؟ کیا وہ اُن سیاست دانوں کو تلاش کر سکیں گی جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر فیصلے کرتے رہے؟ یا اُن تجزیہ نگاروں کو جو حب الوطنی کو طنز کا نشانہ بناتے رہے؟ یہ حقیقت کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ کمزور فوج کا مطلب کمزور ریاست ہے، اور کمزور ریاست کا انجام غلامی ہے۔ غلامی میں نہ مذہب محفوظ رہتا ہے، نہ تہذیب، نہ زبان، نہ غیرت۔ غلام قوموں کے بچے تاریخ نہیں پڑھتے، وہ صرف احکامات پڑھتے ہیں۔ اُن کے نصاب میں فخر نہیں، خوف شامل ہوتا ہے، اور اُن کے مستقبل میں اختیار نہیں، اطاعت لکھی ہوتی ہے۔ یہ وقت اختلافات کو ریاست پر ترجیح دینے کا نہیں، یہ وقت سیاسی وابستگیوں کو قومی سلامتی سے اوپر رکھنے کا نہیں۔ پاک فوج سے اختلاف ہو سکتا ہے، تنقید ہو سکتی ہے، مگر پاک فوج سے نفرت، دراصل پاکستان سے نفرت ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی افواج کو تنہا چھوڑ دیا، اگر آج ہم نے ریاست کے محافظوں کو مشکوک بنا دیا، تو کل ہماری قبریں بھی تنہا ہوں گی، اور ہمارے بچے خدانخواستہ ایک ایسے ملک میں آنکھ کھولیں گے جو نام کا پاکستان ہوگا، حقیقت کا نہیں۔اللہ نے کرے یہ دن کبھی آئے۔ مگر جذبات سے نکل کر سوچیں تو سہی۔نوجوان کو چاہیے کہ اس سچ کو مان لیں کہ مضبوط دفاع کے بغیر آزادی ایک دھوکا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|
|