آٹھ سو ارب کے مقروض صوبے کا سیاح وزیرِاعلیٰ اور سوالوں سے بھاگتی حکومت
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبر پختونخوا آج آٹھ سو ارب روپے سے زائد کے قرض تلے دبا ہوا ہے۔ خزانہ خالی ہے، محکمے پریشان ہیں، تنخواہوں اور پنشنز پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں، اور عام آدمی مہنگائی کے بوجھ سے دوہرا ہو چکا ہے۔ لیکن اس ساری تصویر میں اگر کوئی پرسکون نظر آتا ہے تو وہ صوبے کا وزیرِاعلیٰ ہے، جو لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے درمیان ایسے گھوم رہا ہے جیسے صوبہ نہیں بلکہ کوئی ٹریول ایجنسی چلا رہا ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ٹکٹ عوام کے پیسوں سے کٹتے ہیں۔
یہ وہی خیبر پختونخوا ہے جہاں سرکاری ہسپتالوں میں دوائیں کم اور پرچیاں زیادہ ہیں، اسکولوں میں بچوں سے زیادہ مسائل ہیں، اساتذہ کی کمی ایک مستقل خبر بن چکی ہے، کھیلوں کے میدان ویران ہیں، اور نوجوان روزگار کی تلاش میں یا تو ملک چھوڑنے کے خواب دیکھ رہے ہیں یا پھر مایوسی میں سوشل میڈیا پر غصہ نکال رہے ہیں۔ مگر وزیرِاعلیٰ کی ترجیحات میں یہ سب شاید کسی فائل کے آخری صفحے پر بھی جگہ نہیں بنا پاتا۔ ان کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگلا دورہ کہاں کا ہو، کس فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام ہو، اور پروٹوکول میں کتنی گاڑیاں شامل کی جائیں۔
سوال بالکل سادہ ہے مگر جواب ہمیشہ گول۔ آخر لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ایسی کون سی “ناگزیر مصروفیات” ہیں جن کے بغیر خیبر پختونخوا کا نظام رک جاتا ہے؟ کیا پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پشاور منتقل ہو گئی ہیں؟ کیا سندھ کے وزیرِاعلیٰ مراد علی شاہ نے خیبر پختونخوا میں کوئی خفیہ دفتر کھول لیا ہے؟ یا پھر بلوچستان کے سرفراز بگٹی نے یہاں کابینہ کا کوئی خفیہ اجلاس بلا رکھا ہے؟ اگر ان سب کا جواب نفی میں ہے تو پھر صوبے کے وزیرِاعلیٰ کا یہ مسلسل سفر کس مشن کے تحت ہو رہا ہے؟
حکومتی حلقے حسبِ روایت وضاحت دیتے ہیں کہ یہ “اہم سیاسی ملاقاتیں” ہیں، “وفاقی معاملات” ہیں، “ملکی مفاد” ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دوروں کے بعد نہ صوبے کا قرض کم ہوتا ہے، نہ کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ سامنے آتا ہے، نہ ہی عوام کی زندگی میں کوئی ٹھوس ریلیف نظر آتا ہے۔ ہاں، البتہ ہوٹلوں کے بل، ایندھن کے اخراجات، سیکیورٹی کی فہرست، پروٹوکول کی گاڑیاں اور سرکاری مصروفیات کا ریکارڈ ضرور بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیرِاعلیٰ اکیلے سفر نہیں کرتے۔ ان کے ساتھ ایک پورا لشکر ہوتا ہے۔ افسران، مشیران، معاونین، ترجمان، سیکیورٹی اہلکار، سب سرکاری خرچ پر۔ ہر دورہ کروڑوں روپے نگل جاتا ہے۔ اور یہ سب اس صوبے کے پیسوں سے ہو رہا ہے جس کے بارے میں خود حکومت کہتی ہے کہ خزانہ خالی ہے اور ہمیں کفایت شعاری اختیار کرنی چاہیے۔کفایت شعاری مگر صرف عوام کے لیے ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے، اساتذہ کے لیے، ڈاکٹروں کے لیے، کھلاڑیوں کے لیے۔ حکمران طبقہ اس فہرست میں شامل نہیں۔ ان کے لیے سفر بھی سہولت ہے اور قیام بھی عیاشی۔ عوام کو کہا جاتا ہے کہ حالات مشکل ہیں، صبر کریں۔ اور خود حالات سے بھاگ کر دوسرے شہروں کی رونقیں دیکھنے نکل جاتے ہیں۔
یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے۔ وزیرِاعلیٰ جب لاہور یا کراچی جاتے ہیں تو وہاں جا کر بھی خیبر پختونخوا کے عملی مسائل پر بات کم اور سیاسی تقریریں زیادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی وفاق کو کوسا جاتا ہے، کبھی پچھلی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی کسی سازش کا ذکر چھیڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن اپنے ہی صوبے کی کارکردگی، ناکامیوں اور غلط فیصلوں پر بات کرنا شاید ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔سہیل آفریدی کا کبھی لاہور اور اب کراچی کا سفر بھی اسی کہانی کا حصہ لگتا ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان دوروں کا حاصل کیا ہے؟ کون سا معاہدہ ہوا؟ کون سا منصوبہ منظور ہوا؟ کون سی سرمایہ کاری آئی؟ اگر ان سوالوں کا کوئی واضح جواب نہیں تو پھر یہ دورے محض سیر و تفریح کہلائیں گے۔ اور ان کی قیمت براہِ راست خیبر پختونخوا کے عوام ادا کر رہے ہیں۔
لیکن یہاں کہانی صرف سیاح وزیرِاعلیٰ تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی جڑا ہے، اور وہ ہے ہماری اجتماعی سوچ۔ وہی پرانا، گھسا پٹا مگر آج بھی مقبول جملہ: “چی عالم پہ سہ دے، او میر عالم پہ سہ دے۔”
یہ جملہ محض مزاح نہیں، یہ ہمارے رویے کا خلاصہ ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی اور کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہم تو بس تماشائی ہیں۔ یہی سوچ ڈانس اور نس وار کے شوقین پٹھان میں بھی نظر آتی ہے۔ اسے ناچ دکھائی دیتا ہے، شور اچھا لگتا ہے، تالیاں بجانے میں مزہ آتا ہے۔ مگر وہ یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ سب کس پیسے پر ہو رہا ہے، کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے، اور اس تماشے کے پیچھے اصل کھیل کیا ہے۔
یہاں ہر شخص عالم ہے اور ہر کوئی میر عالم۔ عالم کہتا ہے میں قصوروار نہیں، میر عالم کہتا ہے حالات خراب ہیں۔ حالات کہتے ہیں کہ نظام بوسیدہ ہے، اور نظام کہتا ہے کہ عوام بے صبرے ہیں۔ اس بیچ میں اصل سوال کہیں گم ہو جاتا ہے۔ ذمہ داری ایک گیند بن جاتی ہے جو سب ایک دوسرے کی طرف اچھالتے رہتے ہیں۔ہم ناچ دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں اور فیصلے پس پردہ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اسٹیج چاہیے، ہمیں جوش چاہیے، ہمیں نس وار چاہیے۔ حساب، سوال اور جواب دہی جیسے الفاظ ہمیں بور لگتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سوال کرنا بدتمیزی ہے، تنقید کرنا غداری ہے، اور احتساب مانگنا سازش ہے۔ اس لیے ہم تالیاں بجاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، اور پھر اگلے تماشے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔
یہی سوچ حکمرانوں کے لیے سب سے بڑی سہولت ہے۔ جب عوام سوال نہ کریں تو وزیرِاعلیٰ کے دورے بھی “ضروری” بن جاتے ہیں۔ جب لوگ ناچ میں مصروف ہوں تو قرض بھی بڑھتا رہتا ہے اور کسی کو فکر نہیں ہوتی۔ جب قوم تماشہ دیکھ رہی ہو تو بجٹ خاموشی سے لٹ جاتا ہے، اور اگلے دن ایک نئی تقریر، ایک نیا شو، سب کچھ ری سیٹ ہو جاتا ہے۔طنز کی بات یہ ہے کہ ہم خود کو بہت غیرت مند سمجھتے ہیں۔ تقریروں میں غیرت، نعروں میں غیرت، سوشل میڈیا پوسٹس میں غیرت۔ مگر عمل کے وقت غیرت کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ وہاں ہم بھی کہہ دیتے ہیں: چی عالم پہ سہ دے، او میر عالم پہ سہ دے۔ ہمیں کیا، جو ہو رہا ہے ہونے دو۔
اگر یہی دورے کسی اور صوبے کے وزیرِاعلیٰ کرتے تو خیبر پختونخوا کی حکومت شاید سب سے زیادہ شور مچاتی۔ کفایت شعاری کے لیکچر دیے جاتے، اخراجات کی تفصیل مانگی جاتی، اخلاقیات کے درس دیے جاتے۔ مگر جب بات اپنی ہو تو سب جائز، سب ضروری، سب قومی مفاد بن جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آٹھ سو ارب روپے کے مقروض صوبے کو سیاح وزیرِاعلیٰ نہیں چاہیے۔ اسے ایک ایسے منتظم کی ضرورت ہے جو پشاور میں بیٹھ کر فیصلے کرے، اخراجات کم کرے، ترجیحات طے کرے، اور عوام کو جواب دے۔ ساتھ ہی اسے ایک ایسے عوام کی بھی ضرورت ہے جو ناچ دیکھنے کے ساتھ سوال بھی کریں۔
ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ جب خیبر پختونخوا قرض میں ڈوبا ہوا تھا، اس وقت اس کا وزیرِاعلیٰ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے دوروں میں مصروف تھا، اور عوام تالیاں بجاتے ہوئے یہی کہتے رہے: چی عالم پہ سہ دے، او میر عالم پہ سہ دے۔
|