ہم تا حیات امریکی و اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے

(SahebZada, )

عتیق الرحمن رضوی، نوری مشن، مالیگاؤں
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی مذہبی میراث ہے، مسجد اقصیٰ سے مسلمانوں کا مذہبی، ایمانی، قلبی اور روحانی رشتہ ہمیشہ سے رہا ہے، انبیاے سابقین کا قبلہ رہا ہے، اور آقا علیہ الصلوٰۃ والتسلیم بھی کعبۃ اللہ شریف سے قبل اسی کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھتے رہے، یہی وہ مقدس مسجد اقصیٰ ہےجہاں نبی کریم ﷺ نے انبیاے سابقین کی امامت فرمائی اور سفر معراج کو روانہ ہوئے۔ متعدد آیات و آثار سے مسجد اقصیٰ کی فضیلت اظہرمن الشمس ہے کہ یہاں اور اس کے آس پاس اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں رکھی ہیں۔
 
فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیلی یہودی جابرانہ و ظالمانہ قبضے کے بعد برسوں سے امت مسلمہ اور بالخصوص فلسطینی عوام اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف بر سر پیکار ہیں، اب تک لاکھوں نہتے فلسطینی اسرائیلی دہشت گردی کی نذر ہوگئے، سینکڑوں آبادیاں ویران کر دی گئیں، ہزاروں خاندان تباہ و برباد کر دیے گئے، عفت مآب خواتین کو زد کوب کیا جا رہا ہے، گلیوں میں ہنستے کھیلتے بے قصور و بے گناہ بچے موت کی گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں، بچے کم سنی میں یتیم کر دیے جاتے ہیں، بوڑھی مائیں جوان بیٹوں کا غم کھارہی ہیں، سر راہ نہتے بچوں پر گاڑیاں چلا دی جاتی ہیں، بازاروں میں اندھا دھن فائرنگ کی جاتی ہے، بھری پُری آبادی پر فضائی حملہ کر کے اجاڑ دیا جاتا ہے۔ غرض اسرائیلی جارحیت و تشدد سے لاکھوں بے گناہ فلسطینی عوام بری طرح متاثر ہوئے۔

یہ غم کچھ کم نہ تھے کہ اسرائیلی دہشت گردی کو تقویت دینے کے لیے امریکہ نے علی الاعلان یہ بات ظاہر کی کہ ہم یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرتے ہیں، اور اپنا سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کردیں گے۔پھر اس جابرانہ اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے ٹرمپ کے اس اسلام مخالف اور جابرانہ فیصلے کے خلاف آواز احتجاج بلند کیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ میں ووٹنگ ہوئی، جس میں ہمارے ملک عزیز ہندوستان سمیت 128ممالک نے فلسطین کی حمایت میں اور صرف 9 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیے، جب کہ 35 ممالک نے غیر حاضری درج کرائی۔

ووٹنگ کے نتائج سے امریکہ و اسرائیل چراغ پا ہوئےاور ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے" کے مصداق بیان بازیاں شروع کردیں، وہیں سوشل میڈیا پر مبارک بادیوں کا سلسلہ چل پڑا۔حالیہ ووٹنگ سے امریکہ و اسرائیل کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مسجد اقصیٰ پر حق مسلمانوں کا ہے، اس لیے اب انہیں اس سلسلے میں مزید کوئی بے وقوفی کرنے کی بجاے مسجد اقصیٰ کو غیر مشروط اور کُلّی طور سے مسلمانوں کے حوالے کر دینا چاہیے، اور فلسطین کی غصب کی گئی اراضیوں کو بھی فلسطینیوں کی تحویل میں دے دینا چاہیے۔

یاد رہے یہ ووٹنگ مزاج کی آئینہ دار ہے، حتمی فیصلہ نہیں. اس لیے ہمیں صرف ووٹنگ کے نتائج سے خوش ہو کر خواب خرگوش میں سونے کی ضرورت نہیں۔ یاد کریں ہم نے عہد کیا ہے کہ:
’’ہم تا حیات امریکی و اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے۔‘‘

خیال رہے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان صرف ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ یروشلم سے مسلم آبادی کو خالی کرانے کی سوچی سمجھی سازش ہے، کسی شہر کو کسی ملک کا دارالحکومت تسلیم کرلینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سارے سرکاری امور کے مرکزی دفاتر کا قیام!!! اور کسی ایک ملک کو چلانے کے لیے کتنے محکمے اور شعبہ جات درکار ہوتے ہیں یہ ہر ذی شعور شخص بخوبی جانتا ہے، اس کے لیے جو وسیع اراضی درکار ہوتی ہے کیا وہ موجودہ یروشلم میں دستیاب ہوگی؟ نہیں تو دارالحکومت تسلیم کرلینے کے بعد امورِ سفارت کی انجام دہی کے لیے مطلوبہ عمارتیں اور دفاتر کا قیام کہاں کیا جائے گا؟ کیا اس کے لیے مسلم آبادیاں خالی کرائی جائیں گی؟ اور جس طرح اسرائیل نے فلسطین کے دیگر خطوں پر غاصبانہ قبضہ جمایا اسی طرح یروشلم میں بھی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی اس زمین کو بھی ہڑپنے کی سازش رچی جائے گی؟

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیت المقدس کو مسلمانوں سے خالی کرنے کی سازش ہے، جب وہاں مسلم آبادی ہو گی نہیں تو مسجد اقصیٰ پر قبضہ آسان ہوگا، یہ ان کی سوچ کا حصہ ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ امریکی و اسرائیلی مصنوعات سے ہونے والی کمائی کا زیادہ تر حصہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے کے لیے کیا جاتا ہے، یہ ہمارا اخلاقی و قومی فریضہ بھی ہےکہ ہم مسلمانوں پر برسائے جانے والے بم اور گولیوں میں حصے دار نہ بنیں، اور ان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا حصہ شامل نہ کریں، جن سے ہمارے بھائیوں کے خون بہائے جاتے ہیں۔ اور ہر حال میں کسی بھی امریکی و اسرائیلی منصوبے کو کام یاب نہ ہونے دیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اسرائیلی و امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، چاہے بازار میں اس کا متبادل نہ ہو تب بھی۔ یاد رکھیں اِن کی مصنوعات ہمارے نہ استعمال کرنے سے ہماری زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، مگر استعمال کرنے سے اسلام دشمن طاقتوں کی معیشت کو مضبوطی ضرور ملے گی اور اسی بنیاد پر وہ لوگ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں، گولیاں چلاتے ہیں، ان کی آبادیوں پر بم باری کرتے ہیں، ذرا سوچیں ہماری محنت کی کمائی کس طرح ہمارے فلسطینی بھائیوں کے قتل میں استعمال ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ابھی عہد کریں کہ ہم اب سے کبھی بھی امریکی و اسرائیلی مصنوعات کو نہ خریدیں گے، نہ ہی بیچیں گے اور نہ ہی استعمال کریں گے۔
العارض: عتیق الرحمن رضوی،نوری مشن مالیگاؤں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AteequrRahman Razvi

Read More Articles by AteequrRahman Razvi: 14 Articles with 10307 views »
ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
.. View More
30 Dec, 2017 Views: 332

Comments

آپ کی رائے