تیسری عالمی جنگ

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

جب سے امریکا میں دونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی ہے وہاں پر نہ صرف مسلمان اور دوسرے ممالک کے لوگ پر یشان اور تکلیف سے گزر رہے ہیں بلکہ خود امریکی شہری بھی پریشانی اور غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوگئے ہیں ۔ سابق امریکی حکمرانوں کے مقابلے میں ٹرمپ کی پالیسیوں سے نے نا صرف امریکیوں کو دنیا بھر میں غیر محفوظ بنایا بلکہ امریکامیں مقیم شہری پہلے سے زیادہ غیر محفوظ اور پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ امریکی صدر کی پالیسیوں نے ہر طرف مایوسی اور بے یقینی کی صورت حال پیدا کردی ہے جس پر نہ صرف امریکا میں بلکہ ہر جگہ تشویش پائی جارہی ہے۔ٹرمپ کی سوچ یہ ہے کہ شاید ڈارنے اور دھمکانے سے کام چل جائے گا یا پھر پابندیو ں سے امریکا اپنا مقصد حاصل کرسکتا ہے لیکن جدید دور میں دھمکیوں اور پابندیوں سے کام نہیں چلتا بلکہ بات چیت اور دلائل سے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں جس طرح اب چین دنیا کے اکثر ممالک کو اپنا ہمنوا بنا رہاہے اور ان کے ساتھ اقتصادی منصوبوں اور تجارت پر فوکس رکھا ہے۔

ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف نفرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی لیکن اب بیت المقدس کو اسرئیلی درالحکومت کے اعلان نے نہ صرف فلسطنیوں کو مایو س اور پریشان کیا بلکہ قبلہ اول ہونے کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں بے چینی ، غم اور غصے کو جنم دیا ۔ٹرمپ کے اس فیصلے کو جہاں پر مسلم ممالک نے مسترد کیا وہاں دوسرے عالمی ،یورپی اور مغربی ممالک نے بھی اس کی مخالفت کی جس کا اظہار ہمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلے کے خلاف قرار داد سے ہوا کہ نو کے مقابلے میں 128ممالک نے فلسطین کے حق میں فیصلہ دیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ امریکا کو اپنے اقدام سے روکنے کیلئے کیا حکمت عملی اپناتی ہے اور کس طرح امریکا کو فیصلے پر عمل سے روکتی ہے جب کہ امریکی عوام کا بھی ایک امتحان ہے کہ وہ ٹرمپ حکومت کے خلاف احتجاج کرتی ہے اور ٹرمپ کو فیصلہ واپس کرنے پر مجبور کرسکتی ہے یا نہیں۔

اگرامریکی حکومت نے بیت المقدس کے حوالے سے فیصلہ پر نظرثانی نہ کی تو امکان یہی ہے کہ دنیا ایک دفعہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی اور یہ ایک آور جنگ کا آغاز ہوگاجس کو مبصرین تیسری عالمی جنگ قرار دے رہے ہیں کہ اس جنگ میں تباہی پہلے سے کئی گناہ زیادہ ہوگی اور اس جنگ کی ذمہ دار براہ راست امریکا ہوگا۔ دوسری طرف مسلم ممالک کیلئے بھی یہ ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہوا ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان صرف بیان بازی اور قراردادوں پر اکتفا کرتے ہیں یا اس فیصلے کے خلاف امریکا کو روکنے کیلئے کوئی حکمت عملی بھی بناتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر امریکا نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا اور قبلہ اول بیت المقدس کو اسرئیلی درالحکومت پر باضدرہا تو دنیا کا بالعموم اور امریکا کا بالخصوص سکون اور چین ختم ہوجائے گا۔ جو امن آج قائم ہے وہ اسی طرح نہیں رہے گا اور ان قوتوں کی سوچ اورفلسفے کو تقویت مل جائے گی جو امریکا اور ان کے حواریوں کے خلاف پہلے سے موجود ہے کہ امریکا اسلام کا دشمن ہے اور پوری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قتل وغارت کررہاہے۔ دہشت گردی کے خلاف وہ قوتیں جو آج امریکا کاساتھ دے ر ہے ہیں وہ ناصرف چھوڑ سکتی ہے بلکہ ایک ایسی جنگ کا آغاز ہونے کا حدشہ ہے جو امریکا سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا ۔بہت سے لوگ جو جنگ سے نفرت کرتے ہیں اور معاملات کو بات جیت سے حل کرنے اور دنیا میں امن کا خواہاں ہوتے ہیں وہ لوگ بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ واقعی امریکا نے دہشتگردی کے نام پر جنگ اصل میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہوئی ہے اور حقیقت میں امریکا دنیا میں امن نہیں بلکہ تباہی لانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پہلے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا یہ جنگ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تھا یا دہشت گردی میں اضافہ کیلئے شروع ہوا ۔ نائن الیون واقعے کا پوری دنیا نے مذمت کی اور اس کو ایک افسوسناک واقع قرار دیا لیکن اس کے بعد امریکا نے پوری مسلم دنیا پر جنگ مسلط کی جس میں ہر روز ہزاروں مسلمان مارے جارہے ہیں اور اب تک لاکھوں مسلمان اور بے گناہ اس کی نظر ہوچکے ہیں ۔ امریکا کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے وگرنہ دنیا مزید بے یقینی سے دوچار ہوجائے گی اور امریکا سے نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔

بیت المقدس کا احترام اور اہمیت پوری مسلم دنیا میں موجود ہے اور اس کا ایک تاریخی مقام ہے جس پر مسلمان آسانی سے کمپرومائز نہیں کریں گے۔ مسلم ممالک اور خاص کر اسلامی سربراہ کا نفرنس کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ قبلہ اول کو اس طرح آسانی سے اسرئیل کا درالحکومت بنانے پر راضامندہوں گے یا امریکا کوزور اور زبردستی سے منع کریں گے۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اگر بروقت فیصلے نہ کیے تو عام مسلمان اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے اور جہاں جہاں امریکی یا اسرئیلی مقیم ہے ان کے خلاف آواز بلند اور پر تشدد واقعات شروع ہوسکتے ہیں جس سے دنیا میں مزید نفرت اور دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔

بحرکیف حالات کا تقاضا ہے کہ دنیا بھرکے تمام ممالک امریکا کو مجبور کریں کہ وہ ایسے فیصلے نہ کریں جو پوری امت مسلم کیلئے چیلنج بن جائے ۔ اگر امریکا بضدرہا تو یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوگا اور پھر اس کی تباہی سے کوئی ملک بھی بچ نہیں سکتا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 127074 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
30 Dec, 2017 Views: 873

Comments

آپ کی رائے