معاملات کی پکڑ

(Sohail Aazmi, Dera Ismail Khan)

اگر آپ قرآن پاک کا مطالعہ کریں توا یک حصہ میں عبادات کا ذکر ہے جبکہ تین حصہ معاملات، اخلاقیات یعنی حقوق العباد پرزور دیاگیاہے لیکن بدقسمتی سے مسلمان جس کے اعلی اخلاق کے باعث ہی دین دنیا میں پھیلا ٓج دین کے اس اہم جز کے سلسلے میں غفلت اورکوتاہی کا شکار ہے ۔اسلام جس میں پڑوسی ،نوکر ،بیوی ،اولاد ،والدین ،غیر مسلم ،غلام ،رشتہ دار ،عزیز واقارب سمیت تمام کے حقوق کے بارے میں واضع طور پر بتایاگیا ہے کو پور اکرنے میں انتہائی غفلت برتی جارہی ہے ۔بروز قیامت اﷲ تعالیٰ کی ذات جو کہ بڑا غفور رحیم ہے سے حقوق اﷲ کی معافی کی سب امید کرسکتے ہیں لیکن حقوق العباد کی معافی بالکل نہیں ہے جب تک اس شخص سے معافی نہ مانگ لی جائے یا اس کا جو حق دبایا ہے وہ اسے ادا نہ کردیاجائے ،معافی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ایک حدیث پاک ؐکے مفہوم کے مطابق حضور ؐنے صحابہ کرام ؓ سے سوال کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مفلس کون شخص ہے صحابہ ؓ نے فرمایا وہ جو نادار ،غریب ہو ۔آپ ؐ نے فرمایا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نیکیوں کے انبار لے کر آئے گا اگرانہیں کسی پہاڑپر رکھ دیا جائے تووہ دب جائے لیکن اس نے کسی کی برائی کی ہوگی ،کسی پر تہمت لگائی ہوگی ،کسی کا گالی دی ہوگی ،کسی کا حق دبایا ہوگا تواسی کے بدلے میں اس کی نیکیاں لوگوں کو تقسیم کردی جائیں گی ۔ابھی بھی لوگ شکایات کے ساتھ موجود ہوں گے جبکہ اس شخص کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو پھر جن کے ساتھ زیادتی کی ہوگی ان کی برائیاں اس کے سر تھونپ کر اسے اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں داخل کردیاجائے گا ۔حضورؐ نے پھر صحابہ کرام ؓ سے فرمایا اصل میں یہ شخص مفلس ہے ۔ہم اگر ایسے اردگرد کا جائزہ لیں تو ہم میں سے اکثر معاملات کی پکڑ میں جکڑے نظر آتے ہیں ۔ہمارے ملک کے سربراہ سے لے کر ملک کا چپڑاسی تک اس سے غافل ہے ہمارے سیاسی نمائندے اپنی الیکشن مہم میں لوگوں کو روٹی، کپڑا ،مکان،بجلی ،گیس ،روڈ ،ہسپتال ،روزگار ،سکول ،کالج دینے کا وعدہ کرتے نہیں تھکتے لیکن کامیابی کے بعد ایسے غائب ہوتے ہیں جسے گدھے کے سر سے سینگھ ،وعدوں کو تو چھوڑ یں لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کو بھی ہمارے حکمران یقینی نہیں بنا سکے ۔آئے دن ہمارے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث اموات ہوتی ہیں ۔بم دھماکوں ،خودکش حملوں ،روڈ ایکسیڈنٹس میں سالانہ ہزاروں اموات ہوتی ہیں ۔ بھوک وافلاس کے باعث ہزاروں غریب لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ہمارے اصلاف میں سے حضرت عمر فاروق ؓ کے اس مشہور فرمان کو آج دنیا کے حکمرانوں نے اپنے لئے ایک رول ماڈل بنالیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مرگیا تو مجھے اس کا بھی روز قیامت جواب دینا ہوگالیکن ہمارے حکمرانوں نے تو انسانوں کی فکر نہ کی اپنی سیکورٹی ،نوکر چاکر پر سالانہ اربوں روپے پھونک دیتے ہیں لیکن نہ تو عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جاتے ہیں نہ ہی انہیں بنیادی ضروریات زندگی میسر ہے اور نہ ہی انہیں انصاف اورمیرٹ ملتا ہے ۔ہمارے ریاستی ادارے ظلم وجبر ،دھونس دھمکی کے مرکز بنے ہوئے ہیں ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں جنہیں ہماری ایجنسیوں نے اٹھالیالیکن برسوں سے ان کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ہمارے حکمران اور ہمارا عدالتی نظام اس سلسلے میں مکمل فیل ہوچکا ہے۔گمشدہ افراد کے اہل خانہ برسوں سے بھوک ہڑتال ،دھرنا ،احتجاجی کیمپ لگا رہے ہیں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ سیاسی انتقام میں ہم ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہیں ہماری تجارت جس میں سچ بولنے ناپ تول میں کمی ،سود سے بچنے ، ملاوٹ ذخیر اندوزی کرنے سے منع فرمایاگیا ہے لیکن ہماری معیشت سود کے بغیر چلتی نہیں ۔تاجر جب تک جھوٹ نہ بولے رہ نہیں سکتا ہے ۔ہمارا کاروبار نہیں چلتا ،ذخیرہ اندوزی ،کساد بازاری ہماری تجارت میں عام ہے ۔ایک وقت تھا ہمار اچاول کپاس ،کپڑا دنیا میں ایکسپورٹ ہوتا تھا لیکن ہم نے اس میں بھی ملاوت شروع کردی ۔آج اس لئے ہماری منڈیوں پر بھارت ،بنگلہ دیش قابض ہوگئے ۔ہمارے چاول کپڑے پر اپنی مہر لگاکر بھارت دنیا کو مال فروخت کرتا ہے لیکن ہم ایمانداری سے یہ کام نہیں کرسکتے ۔ہماری زراعت جو کہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی سی ہے اور ہماری انڈسٹریزمیں سود کے بغیر کاروبار زندگی چلتا نہیں ،کسان ،ٹریکٹر ،کھاد ،بیج کے لئے بینکوں اور ساہو کاروں سے سود پر قرضے لیتے ہیں یہی حال ہماری صنعت کا ہے ہماری معیشت ترقی کیسے کرے گی ہمارے معاشرے میں نہ تووالدین کو اولاد کے حقوق کے بارے میں معلوم ہے اور نہ ہی اولاد کو والدین کے ،پڑوسی ،غلام ،نوکر ،رشتہ داروں کے حقوق تو دور کی بات ہے ہم 98 فیصد لوگ وراثت میں سے اپنی بیٹیوں بیوی کو شرعی حصہ نہیں دیتے ،بیوی کو ہمارا معاشرہ غلام سمجھتا ہے حالانکہ بروز قیامت سب سے پہلے بیوی کے حقوق کے بارے میں سوال ہوگا ۔حضورؐکا فرمان ہے کہ میں کریم ہوکر مغلوب ہوجاؤں مجھے یہ زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں بداخلاق ہوکر اپنی بیوی پر غالب ہوجاؤں ۔حضور ؐنے ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ جب یہ پتہ چلا ہے کہ جنت میں بھی تو میری بیوی ہوگی تو میں اس پر بہت خوش ہوں ۔اس طرح انہوں نے ایک اور جگہ پر فرمایا کہ اے عائشہ ؓ تم نے پیالے سے جس جگہ اپنے ہونٹ رکھ کر پانی پیا ہے مجھے وہ جگہ بتاؤ میں بھی وہاں ہونٹ رکھ کر پانی پیوں گا ۔ہمارے نبی ؐ جو وجہ کائنات تھے اپنے اذدواج کا دل لبھانے اور انہیں خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ گھر کے کام کاج بھی کرواتے ،گپ شپ بھی لگاتے ۔ایک دفعہ توانہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑ لگائی اور ان سے جیت گئے جبکہ دوسری مرتبہ انہیں خوش کرنے کے لئے جان بوجھ کر دوڑ میں ہار گئے ۔کیا ہمارا معاشرہ بھی اپنی بیویوں سے ایسا سلوک کرتا ہے ہماری بعض قبائل رسم ورواج میں بیوی کوایک چاپائی پر بیٹھانا معیوم سمجھا جاتا ہے۔ ۔اسلام میں پڑوسی کے بھی اتنے حقوق بتائے گئے ہیں کہ حضور ؐکو شک ہونے لگا کہ کہیں یہ حکم نہ آجائے کہ وراثت میں سے بھی اپنے پڑوسی کو حصہ دو۔غلام ،نوکر کے بارے میں حکم ہے کہ جو خود کھاؤ اسے بھی کھلاؤ جو خود پہنو اسے پہناؤ لیکن ہم سے 99 فیصد لوگ ایسا نہیں کرتے آج ہم سرکاری اوقات میں جو وقت ہم نے حکومت کو تنخواہ کے عوض دیا ہے قائم ہی نہیں کرتے ہیں ۔دفتر تاخیر سے آنا اورجلدی جانا معمول ہے ۔جھوٹ پر مبنی ٹی اے ڈی اے بلز ،میڈیکل بلز بنواکر سرکاری خزانہ کو چونا لگانا حکمرانوں سے لے کر عام چپڑاسی تک کا معمول ہے ۔بجلی گیس کی چوری کو ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ اشیاء عام لوگوں کی پراپرٹی ہیں اگر ایک شخص بجلی گیس چوری کرتا ہے تو بروز قیامت بائیس کروڑ عوام کو جوابدہ ہوگا لیکن ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے سب سے بڑھ کر ہم زکواۃوعشر وفطرانہ تک جو غریب ،مفلس ،نادار غرباء کا حق ہے ادا نہیں کرتے 98 فیصد لوگ اس فریضے سے غافل ہیں ہم حرام کی کمائی کرکے حلال اشیاء ڈھونڈتے ہیں ۔حرام کی کمائی کی توکوئی عبادت قبول ہی نہیں ہے غرض من الحیث القوم ہم حقوق العباد کے سلسلے میں ان گنت گناہوں میں مبتلا ہیں جس کی ہمیں آخرت میں تو سزا ملے ہی گی دنیا میں بھی ہم اقوام عالم کے آگے ایک نمونہ بن کر رہ گئے ہیں ۔اب ہمیں کوئی ڈائریکٹ امداد تک دینے کو ہی تیار نہیں ہوتا کیونکہ ہم لوگوں کی امداد تک کو ہڑپ کرجاتے ہیں جس کو دیکھے وہ اس سوچ میں مصروف ہے کہ وہ کیسے دوسرے کا حق مارے ۔قرض،امانت ہڑپ کرجائے ،دکان ،گھر کی تعمیر کے وقت دوفٹ گلی ،سڑک کی جگہ مار لے ۔ان تمام برائیوں کا تعلق ایمان کی سطح سے ہے ہمارا ایمان اب اتنی نچلی سطح تک پہنچ گیا ہے کہ ہمیں یہ برائیاں گناہ ہی نہیں لگتیں ۔اﷲ ہمیں معاملات کو سمجھنے،حقو ق اﷲ اور حقوق العباد کو پورا کرنے والا بنائے آمین ۔
٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 73763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2018 Views: 372

Comments

آپ کی رائے