امریکہ ہی افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

امریکہ کے غیر سنجیدہ صدرکی طرف سے جس طرح کی زبان استعما ل کی جا رہی ہے اس سے پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے ان کی اس غیر سنجیدگی سے یہ لگتا ہے کہ وہ اس عہدے کے قابل نہیں تھے جس پر انھیں ا مریکی عوام نے بٹھادیا ہے جنوبی ایشیاء کے معاملات کو سمجھنے سے قاصر امریکی صدر پر بھارت کی طرف داری کا ایسا جنون طاری ہے کہ وہ آئے دن پاکستان کے خلاف بھارتی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں جس سے پاکستان کا تو کچھ نہیں البتہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی امریکی جنگ کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اس جنگ کے لئے کئی جانیں ضائع کی گئی اور اب تو خود عالمی برادری ان کے اس رویے اور غیر سنجیدہ پن کو ایک بھیانک خواب سے تعبیر کر رہے ہیں یہ پاکستان ہی ہے جس نے علاقے میں ایک موثر کنٹرول قائم کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنایا ہوا ہے امریکہ خود کو بڑا امدادی ملک قرار دے کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کو کروڑوں کی امدا دے رہا ہے ایسے میں جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی اور اس کامیابی میں بھارتی ناکامی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے اس کے جاسوس ہماری قید میں ہیں جو برملا یہ بات دنیا کو چینح، چینح کر بتا رہے ہیں کہ وہ بھارتی ہیں اور پاکستان میں وہ ہی امن کے دشمن ہیں مگر یہ بات بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی اور وہ اپنی ناکامیوں کر چھپانے کے لئے آئے روز پاکستان پر کسی نہ کسی قسم کے الزامات لگاتا رہتا ہے اور اس کے ساتھ ہمارا دوست نماء دشمن امریکہ بھی اس کا آلہ کار بنا ہوا ہے دوسری طرف دیکھا جائے تو امریکہ کو اپنے مفادات عزیز ہیں وہ بھارت کی بڑی منڈی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ بھارتی زبان بول رہا ہے اگر امریکہ نے بھارت کے کہنے پرپاکستان پر پابندیاں لگانے اور پاکستان کی فوجی امداد مزید کم کرنے کی کوشش کی تو اس میں امریکہ کا نقصان ہوگا اس سے دونوں ممالک کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچے گا جبکہ ایسی صورت حال میں پاکستان کو چین اور روس سے مجبوراً ہتھیار خریدنے پڑیں گے دیکھا جائے تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑ رہا ہے ہماری کاوشوں کو ناکام بنانے والے کسی بھی اقدام کا نقصان امریکی کوششوں کو ہوگا پاکستان کے فنڈز روکنے سے امریکہ اپنے انسداد دہشت گردی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا پاکستان نے جو کچھ بھی کرنا ہے اس کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی فوجی امداد کم کرنے اور سستے ایف سولہ طیاروں کی فروخت روکنے پر پاکستان چین اور روس سے ہتھیار خریدنے پر مجبور ہو جائے گا پاکستان کو اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دیگر آپشنز کی جانب دیکھنا پڑے گا یا خود مختاری حاصل کرنی ہو گی۔افغانستان میں مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا غیر منصفانہ ہے کیونکہ عرصہ دراز سے وہاں امریکہ تسلط قائم ہے ایسے میں بھارت بھی اپنا اثر رسوخ بڑھا رہا ہے تو اس بارے میں سارا الزام پاکستان پر ہی کیوں ؟ امریکہ کو دہشت گردی کے باعث پاکستان کے نقصانات اور 35لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کے پاکستانی کردار کا اعتراف کرنا چاہیے افغانستان کے دہشت گرد پاکستان میں سویلین اور فوجیوں پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کئی ارب ڈالر کی لاگت سے 2500کلو میٹر سرحد پر باڑ لگا رہا ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی جو معاونت کی جاتی تھی وہ کسی قسم کی خصوصی مدد نہ تھی بلکہ دہشت گردی کو مشترکہ کاذ قرار دیتے ہوئے یہ طے پایا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات فراہم کئے جائیں گے اور یہ مسئلہ کئی برسوں سے جاری تھا اب بعض ادائیگیوں کے بعد اب رقم روک دی گئی ہے پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے بلاتفریق تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور کسی گروپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا اس ضمن میں صاف اور سیدھی بات یہی ہے کہ اگر امریکہ آئندہ کے لئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات ادا نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اب اسے انسداد دہشت گردی کے کاذ سے کوئی سروکار نہیں ہے پاکستان سے فوجی تعاون پر امریکی پابندی پاکستان کے لئے کسی صورت پریشان کن نہیں ہوسکتی اسے بہرصورت اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اگر یہ ضرورتیں امریکہ پوری نہیں کر ے گا تو پاکستان کسی دوسرے ملک سے خریداری کر سکتا ہے اس کا دیرینہ دوست چین یہ ضرورت پوری کر سکتا ہے جبکہ روس بھی اب پاکستان کے دوستوں میں شامل ہے اس سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے مگراہم مسئلہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو جاری رکھنے اور انہیں نتیجہ خیز بنانے کا ہے افغانستان کا امن مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اس حقیقت کو جب تک امریکہ تسلیم نہیں کرے گا بہتری کی جانب پیش رفت نہیں ہوسکتی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے پہلے اسے یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے وہ امن بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اپنی جنگ کو جو وہ لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں جیت سکا اس میں اپنی شکست اپنے ذمہ لے اور جو مسائل افغانستان میں اس نے پیدا کیے ہیں ان کے لئے وہ خود ذمہ دار بنے پاکستان کو افغانستان میں مسائل کا ذمہ دار قرار دینا کسی طور پر درست نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 132828 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
07 Jan, 2018 Views: 362

Comments

آپ کی رائے