امریکہ کی شکست اور تباہی زیادہ دور نہیں

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

سوویت یونین کا انجام امریکہ کے سامنے تھا ٗجس نے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی تھی کہ روسی فوج کو دریائے آمو کراس کرلینے دو۔ ہم دوبارہ افغانستان میں قدم نہیں رکھیں گے ۔اگر امریکی حکمرانوں میں تھوڑی سے بھی عقل ہوتی تو وہ 9/11 کا بہانہ بناکر افغانستان پر نہ چڑھ دوڑتے لیکن انہیں اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا کہ اس کے پاس دنیا کی جدید ترین اسلحہ ٗ جنگی ٹیکنالوجی اور تکنیک ہے ۔ زمین کی تہوں میں جھانکنے والی ٹیکنالوجی اور رات کے وقت دن کی طرح دیکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ وہ چند دنوں میں افغانستان سے طالبان کا صفایا کرکے اپنی مرضی کی حکومت بنالیں گے لیکن جوں جوں وقت گزرتا رہا امریکی فوجی اپنی پے درپے ناکامیوں اورطالبان کی جانب سے زبردست مزاحمت کی بنا پر نفسیاتی امراض کا شکار ہو تے چلے گئے ہیں ۔ فوج کی ایک نفسیات ہے۔ وہ ایکشن کرتی ہے ۔کامیابی ہو یا شکست ۔وہ اس علاقے سے نکل جاتی ہے اور اگر فوج کسی ملک میں پھنس جائے تو لڑنے کے قابل بھی نہیں رہتی ۔افغانستان میں ہر قدم پر مزاحمت اور خود کش حملوں کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج بھی روسی فوج کی طرح اپنا توازن کھو بیٹھی ہے۔اب یہ بات طے ہوچکی ہے کہ افغانستان امریکہ کابھی قبرستان بنے گا۔اگر وہ سو سال بھی جنگ لڑتا رہے تو اسے کامیابی نہیں مل سکتی ۔ اب اگر وہ ناکام لوٹتا ہے تو سوویت یونین کی طرح ٹوٹ جائے گا اور جب ٹوٹنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو پھر بڑی طاقتوں کے ٹکڑے گنے نہیں جاسکتے ۔امریکہ کی بدقسمتی کہ بارک حسین اوباما کے بعد ایک نفسیاتی مریض اور بدزبان شخص امریکہ کا صدر بن گیا جس کو اپنی زبان سے نکلنے والے الفاظ کی سنگینی کا بھی احساس نہیں ۔ اسی غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے پہلے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا حکم دیا جس پر پوری امت مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ پاکستان اور ترکی کی مشترکہ قرارداد کی بدولت امریکہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ذلت و رسوائی کا سامناکرنا پڑا ۔ جس پر سیخ پاہوکر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف ووٹ دینے والوں کو کھلی دھمکیاں دینا شروع کردیں اور بطور خاص پاکستان کو سبق سیکھانے اور اس کی مالی امداد بندکرنے کے ساتھ ساتھ نہ جانے اور کن کن عزائم کا اظہار کیا ۔ وہ مسلسل سانپ کی طرح پھونکارتے ہوئے روزانہ ٹی وی کی سکرین پر دکھائی دیتے ہیں لیکن انہیں حیرت ہورہی ہے کہ پاکستان اس مرتبہ امریکی دھمکیوں کو خاطر میں کیوں نہیں لارہا ۔ یہ کریڈٹ پاک آرمی اور موجودہ حکومت کو بلاشبہ جاتاہے جنہوں نے امریکی دباؤ پر مرعوب ہونے کی بجائے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ کو اس کی اوقات یاد دلا دی ۔ بلکہ آرمی چیف کا یہ بیان اخبارات کے صفحات پر موجود ہے کہ پاکستان پر میلی نظر سے دیکھنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے ۔ اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان ایک آزاد و خودمختار اور ایٹمی ملک ہے۔ پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دان اور میزائل ٹیکنالوجی کے بانی ڈاکٹر ثمرمبارک مند سے ایک ملاقات میں ٗمیں نے سوال کیا کہ اگر خدانخواستہ امریکہ ہم پر حملہ آور ہوتا تو پھر ہمارا ردعمل کیا ہوگا ۔ میری بات پر ڈاکٹر ثمر مبارک پہلے مسکرائے پھر جواب دیا۔ کہ اس وقت پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی ٗامریکہ کے ہم پلہ ہے ۔دنیا کے تمام ممالک میزائل کو ہوا میں اڑتا دکھاتے ہیں لیکن پاکستان واحد ملک ہے جو فائر کیے جانے والے میزائل کو عین نشانے پر گرتا دکھاتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے دفاعی ماہرین کو امریکی اڈوں ٗ بحری بیڑوں کے بارے میں مکمل آگاہی ہوگی جہاں سے متوقع حملہ ہوسکتا ہے ۔ بہرکیف حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ٗاس کا اندازہ چند ہفتوں میں ہوجائے گا ۔ امریکہ کا نفسیاتی مریض صدر اب کیا بھڑک مارتا ہے ۔ اب اس کی بھڑک پر پاکستان تو دور کی بات ہے فلسطین بھی نہیں ڈرتا ۔ مجھے یقین ہے دنیا پر امریکہ کا جو خوف ماضی میں تھا ٗوہ ٹرمپ کی حماقتوں کی وجہ سے بہت جلد ختم ہونے والا ہے ۔ افغانستان میں گزشتہ سترہ سال سے لڑنے والی امریکی آرمی اب کسی ایڈوانچر کے قابل نہیں رہی بلکہ تمام کے تمام فوجی نفسیاتی ہسپتالوں کا رخ کرنے والے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بہت خوبصورت بات کی ہے کہ امریکہ کسی کا یار نہیں ٗ بلکہ یار مار ہے ۔ ویسے بھی امریکہ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ اپنے دشمن کو تو چھوڑ دیتا ہے ٗ دوست کونہیں چھوڑتا ۔ نہ اس کی دوستی اچھی اور نہ اس کی دشمنی اچھی ۔ امریکہ سے جتنا دور رہا جائے۔ اتنا ہی بہتر ہے ۔سردست امریکہ کادماغ ٹھکانے لگانے کے لیے فضائی اور لاجسٹک سپورٹ روک دی جائے اور مزید برآں حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو تینوں افواج کے چیفس کو اعتماد میں لیتے ہوئے چین ٗ روس ٗ ترکی ٗ ایران ٗ سعودی عرب سمیت ان تمام ممالک کے سربراہان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے۔ جو سی پیک سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔ تاکہ امریکی غرور کو خاک میں ملایا جاسکے۔ اتحاد قائم کرنے کایہ بہترین موقع ہے ۔اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ امریکہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے بہت تیزی سے تنہا ہورہا ہے اور یہی بات اس کی تباہی اور دفاعی موت کا سبب بن سکتی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 575 Articles with 292380 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jan, 2018 Views: 874

Comments

آپ کی رائے