جگتار سنگھ عرف جگی کی گرفتاری اور خالصتان تحریک

(Raja Javed Ali Bhatti, )

بھارت میں سکھوں پر بدترین مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر سکھ پر خالصتان تحریک کا حصہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کیونکہ خالصتان تحریک دوبارہ زور پکڑ رہی ہے۔ خالصتان تحریک کوئی نئی نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ خالصتان کی اصطلاح سب سے پہلے 1940ء میں ڈاکٹر ویر سنگھ بھٹی نے اپنے پمفلٹ میں واضح کی تھی۔ سکاٹ لینڈ گلاسکو کے قریبی قصبے دنبارٹن کے 30سالہ جگتار سنگھ عرف جگی بھارتی نژاد برطانوی شہری ہیں جو کہ شادی کے لئے بھارت گئے مگر 4نومبر 2017ء کو رما منڈی میں شاپنگ کے دوران بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کی ایما پر لودھیانہ پولیس نے بغیر کسی الزام کے انہیں گرفتار کرلیا۔ ماورائے عدالت گرفتاری کے بعد جگی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس میں ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ خالصتان لبریشن فورس کے متحرکین کے لئے اسلحے کی خریداری اور اہم ہندو لیڈروں کے قتل کی منصوبہ بندی کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ یہ بھونڈا الزام بھی لگایا گیا کہ جگی کی پشت پناہی آئی ایس آئی کررہی ہے۔ تاہم جگتار سنگھ عرف جگی نے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ وہ بے گناہ ہے۔ جگتار سنگھ عرف جگی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے بجلی کے جھٹکے بھی جسم حساس حصوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت خالصتان تحریک کے لئے کام کرنے والے مخلص اور متحرک جگی جیسے کارکنوں کو نشانہ بنا کر دوسروں کے لئے نشانِ عبرت بنانا چاہتی ہے۔ ہزاروں سکھوں کا قتل، ہزاروں سکھوں کی گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی پامالیاں بھارتی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ سکھوں کے خلاف بدترین مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ سکھوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیاں بین الاقوامی سطح پر اچھی طرح بے نقاب ہو چکی ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں انسانی حقوق کے بدترین مجرم اور سکھوں کے قاتل بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت سمجھتے ہوئے ان تمام انسانی حقوق کی پامالیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں جو قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔

صرف یہی نہیں بھارتی پنجاب میں جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے اور الزام آئی ایس آئی پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہندوؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا الزام بھی پاکستان او آئی ایس آئی پر لگایا جاتا ہے۔ بھارت پاکستان اور آئی ایس آئی پر سکھوں کی خالصتان تحریک کی تائید و حمایت کا الزام لگاتا رہتا ہے۔ حالانکہ سکھ کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم اور انڈین حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب ہونے کے بعد اب تقسیم ہند کے وقت کئے گئے وعدے کے مطابق آزاد خالصتان کے قیام کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے پر ڈٹے ہوئے ہی۔

ان کی رہائی کے لئے لندن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے سینکڑوں سکھوں نے مظاہرہ کیا اور حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جگتار سنگھ کی مدد کے لئے اقدامات کرے۔ سکھ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ جگتار سنگھ کو صرف اس وجہ سے انتقام اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے 1984ء کے سکھوں کے قتل عام کو بیرون ملک ہائی لائٹ کیا تھا۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا سڈنی میں بھارتی ہائی کمشنر کو مشتعل سکھوں نے بطور ہائی کمشنر گردوارے میں داخل ہونے سے روک دیا اور واضح کیا کہ کسی بھی گردوارے میں بھارتی حکومت کی کسی اتھارٹی کو کبھی داخل نہیں ہونے دیا جائیگا کیونکہ بھارتی حکومت سکھوں کی قاتل ہے۔ اس موقع پر مشتعل سکھوں نے جگتار سنگھ عرف جگی پر ہونے والے ظالمانہ تشدد پر بھی شدید احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ ، امتیازی اور شرمناک سلوک کے بے شمار واقعات چپے چپے پر بکھرے پڑے ہیں۔ جون 1984 میں اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے احکامات کے تحت امرتسر میں سکھوں کی بہت بڑی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر انڈین آرمی نے چڑھائی کر کے اسے اس بنا پر مسمار کر دیا تھا کہ اس عمارت میں علیحدگی پسند سکھ نوجوانوں نے پناہ لے رکھی تھی جو خالصتان کی آزاد حکومت اور ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔بعد ازاں اکتوبر1984 میں وزیرا عظم اندرا گاندھی اپنے دوسکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہوئیں تو اس کے فورابعد کئی روز تک بھارت سکھوں کی قتل گاہ بنا رہا۔ایک اندازے کے مطابق تقریبا پانچ ہزار کے قریب نہتے سکھوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ جبکہ ایک سیکولر ریاست نے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچاکہ سکھوں کی مقدس ترین جگہ کو مسمار کرنے کے رد عمل ہی میں اندرا گاندھی کو اس کے محافظوں نے قتل کیا تھا۔ گولڈن ٹیمپل کی مسماری سے اب تک بھارت میں سکھ کمیونٹی کو چین نصیب نہیں ہوا اور انہیں مختلف حیلوں سے ہندو شدت پسندوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی حکومتوں کی تنگ نظری کا سامنا ہے۔

13اکتوبر2015 کو بھارتی پنجاب کے علاقے فریدکوٹ میں ہندوں نے ایک گردوارے کے قریب سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کے سو سے زائد مسخ شدہ نسخے پھینک دئیے۔ اطلاعات کے مطابق ان نسخوں کو گردوارے سے کچھ روز پیشتر چور ی کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے پر پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی جس سے پانچ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ لاتعداد مظاہرین کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں پے در پے گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے واقعات بڑھے اور جالندھر، لدھیانہ ، امرتسر، کوٹ کپور میں چھ مختلف واقعات میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کر کے سکھ کمیونٹی کے جذبات مجروح کئے گئے۔

1947میں ہونے والی تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہنے میں والے سکھوں کے ساتھ برا سلوک روا رکھا گیا، کیوں کہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے وہ تقسیم کے وقت اپنے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ نہیں کرسکے۔ لیکن تقسیم نے انہیں ان کے گھروں، زمینوں سے محروم کردیا۔ سکھوں کے لیے الگ ریاست کے مطالبے کو حکومت ہند نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔ ان تمام عوامل نے سکھوں کے غصے کو مزید بڑھا کر دونوں مذاہب (سکھوں اور ہندووں) کے درمیان سیاسی مخاصمت پیدا کردی، جس کے نتیجے میں متعدد پرتشدد واقعات بھی ہوئے۔اسی دور میں ایک سکھ مبلغ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا سکھوں کے راہنما کے طور پر سامنے آئے۔ اور علیحدہ ریاست کے لیے کوششیں شروع کیں۔ 1983میں جرنیل سنگھ اور ان کے پیش رووں نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل میں پناہ لے لی، جس کے بعد بھارتی حکومت نے گولڈن ٹیمپل کو اسلحہ خانے کے طور پر استعمال ہونے اور عسکریت پسندوں، مطلوب مجرموں کی پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ کیا۔جون 1984میں اندرا گاندھی نے متنازعہ آپریشن بلیو اسٹار کی منظوری دی۔ گولڈن ٹیمپل پر سرکاری سرپرستی میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں نہ صرف اس سکھوں کے اس مقدس مقام اور تاریخی عمارت کو شدید نقصان پہنچا، بل کہ کافی جانی نقصان بھی ہوا۔ اپنے مقدس مقام کی بے حرمتی نے سکھوں کو مشتعل کردیا۔ یہی بات سانحہ محض چار ماہ بعد31اکتوبر 1984کو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کا محرک بنی، جنہوں نے دانستہ طور پر سکھ عقائد کی بے حرمتی اور مقدس مقام پر حملے کا حکم دیا تھا۔ اسی بات نے اندراگاندھی کے سکھ محافظوں کو انہیں قتل کرنے پر مجبور کیا۔

اندراگاندھی کے قتل کے بعدپورے ملک میں سکھ مخالف مظاہرے شروع ہوگئے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق چار دن جاری ہونے والے ان پر تشدد واقعات میں2700 سکھ قتل کیے گئے، لیکن اخبارات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس بلوے میں قتل ہونے والے سکھوں کی تعداد دس ہزار سے 17ہزار کے درمیان ہے۔ سکھ کمیونٹی تاحال اس قتل عام کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پر کشیدہ خاطر ہے۔

اس سے قبل 1966میں سکھوں کے مطالبے کو مانتے ہوئے بھارتی حکومت نے پنجاب کو تین ریاستوں ہریانہ، ہماچل پردیش اور سکھوں کی اکثریت والے حصے پنجاب میں تقسیم کردیا تھا۔ تاہم یہ عمل بھی سکھوں کا غصہ کم نہ کرسکا اور حکومت کی جانب سے روا رکھے جانے والے مذہبی اور لسانی تعصب اور ریاست پنجاب کی حدود کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھارتی حکومت کے سامنے اپنے مزید مطالبات پیش کیے، جنہیں حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک عرصے تک سکھوں کی اکثریت پر مشتمل ریاست مشرقی پنجاب میں صورت حال پرامن ہے اور خالصتان تحریک کم زور پڑگئی۔

تاہم اس سال مشرقی پنجاب میں امن وامان کی صورت حال دوبارہ بگڑ گئی اور خالصتان تحریک نے ازسرنو سر اٹھا لیا ہے۔ دوسری طرف دیگر ملکوں میں موجود سکھ انتہاپسندوں کی جانب سے خالصتان تحریک کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بھارت کے سر پر اب بھی منڈلا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت امریکا میں کانگریشنل انتخابات میں خالصتان کے حامی عناصر کے کردار پر امریکا کو تنبیہ کرچکا ہے، جب کہ 2015میں گورداس پور حملہ اس تحریک کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جارہا ہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مطابق سکھ شدت پسند جرمنی، برطانیہ، امریکا اور ملائیشیا جیسے ملکوں میں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، جس کا واضح ثبوت ریاست کیلی فورنیا میں بھارت مخالف ریلی ہے، جس میں تقریبا چھ سے آٹھ ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔ حال ہی میں خالصتان تحریک کے حق میں کئی نعرے سامنے آئے ہیں۔ آپریشن بلیو اسٹار کی برسی کے موقع ہونے والے اجتماع میں بھی خالصتان تحریک کے نعرے گائے گئے ۔

سکھوں سے پہلا وعدہ یہ کیا گیا کہ کانگریس حال اور مستقبل میں ایسی کوئی بھی قرارداد منظور نہیں کرے گی، جس سے سکھوں کے جذبات مجروح ہوں یا وہ قرارداد ان (سکھوں) کے لیے اطمینان بخش نہ ہو۔ لیکن تقسیم کے بعد صرف تین ماہ بعد ہی 10اکتوبر1947کو پنڈت جواہر لال نہرو نے سکھوں کو قانون شکن لوگ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ قانون شکن لوگ ہیں، انہوں نے ہندو قوانین کو توڑا ہے۔ حکومت کو ان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ بعدازاں بھارتی آئین میں آرٹیکل 25 کا بھی اضافہ کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ سکھ ازم ہندوؤں کا ایک فرقہ تھا۔ بھارتی حکومت نے راجیہ سبھا میں موجود سکھ ارکان کی جانب سے مسترد کیے جانے کے باوجود آرٹیکل 25کو آئین کا حصہ بنا دیا۔دوسرا وعدہ، سکھ ریاست قائم کی جائے گی۔

تقسیم کے وقت سکھوں کے لیے ملک کے شمال میں ایک خود مختار ریاست کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 1937میں کلکتہ میں کانگریس کی جانب سے منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ زبان کی بنیاد پر اس ریاست کے قیام سے اقلیت کی ثقافت، زبان اور اقدار کا تحفظ کیا جاسکے گا۔ 1945میں خود جواہر لال نہرو کا اس بابت کچھ یوں کہنا تھا،صوبائی سرحدوں کی ازسرِ نو تقسیم ناگزیر ہے۔

میں ایک خودمختار یونٹ کے حق میں ہوں۔ اگر سکھ ایک یونٹ کے طور پر فعال ہونا چاہتے ہیں، تو میں اس بات کو پسند کروں گا کہ وہ صوبے میں خودمختار ہوں۔ سکھ قوم کو قانون شکن قرار دینے والے نہرو نے نو جنوری 1930کو ایک تقریب میں سکھوں کو پنجاب کے بہادر سپوت پکارتے ہوئے کہا تھا کہ یہ (سکھ)خصوصی التفات کے حق دار ہیں اور شمالی پنجاب میں ان کے لیے ایک مخصوص ریاست بنانے میں، میں کوئی برائی نہیں سمجھتا، اور سکھ بھی آزادی کو محسوس کرسکتے ہیں۔لیکن بعد میں بھارتی راہ نما پینترا بدلتے ہوئے نہ صرف اپنے اس وعدے سے مکر گئے بل کہ سکھوں کے الگ صوبے کے جائز مطالبے کو ملک کی وحدت کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔ سکھوں کو بہادر سپوت کہنے والے نہرو اپنے ہی بیان سے کچھ اس طرح مکرے،میں ملک میں خانہ جنگی برداشت کرسکتا ہوں لیکن پنجابی ریاست نہیں پنجابی بولنے والوں کے لیے ریاست بنانے کا مطلب سکھ قوم کو پھلنے پھولنے کا موقع دینا ہے۔تیسرا وعدہ، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

انڈین نیشنل کانگریس سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اور راجیہ سبھا کے رکن بینی گل شیوا راو نے فریمنگ آف انڈین کانسٹی ٹیوشن کے صفحہ 181پر اقلیتوں کے تحفظ کو کچھ اس طرح بیان کیا تھا، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے، یہ ایک اقرارنامہ تھا، ایک درخواست اور ایک ایسی یادداشت تھی جس کے تحت لاکھوں بھارتیوں سے معاہدہ کیا گیا تھا، اور ہمیں اس عہد کو پورا کرنا چاہیے۔لیکن دوسرے وعدوں کی طرح حکومت نے اس وعدے کو پورا کرنے کے بجائے بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے کی پالیسی پر عمل کیا اور اقلیتوں کو یہ باور کرایا گیا کہ انہیں یا تو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر رہنا ہوگا یا وہ خود کو ہندو اکثریت میں ضم کرلیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار بھارت میں جمہوریت کا لفظ محض دستاویزات کی حد تک ہے۔

اسے عملی طور پر کبھی نافذ نہیں کیا گیا۔ حکومتی مکروفریب نے نہ صرف سکھ قوم کو مشتعل کیا بل کہ انہیں غلامی کی ایک نئی زنجیر میں پہنادی۔ حکومت اور ہندو عوام کی جانب سے انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ پنجاب میں 72سے 96فیصد اعلیٰ سرکاری عہدوں پر ہندو اکثریت قابض ہے۔ فوج میں بھرتی میرٹ کے بجائے آبادی کے لحاظ سے ہورہی ہے۔ سکھوں کا کوٹا 40فی صد سے کم ہوکر 1اعشاریہ 2فی صد رہ گیا ہے۔ اس بارے میں سکھوں کی تاریخ اور فلسفے پر اتھارٹی سمجھے جانے والے ہرجندر سنگھ دل گرہ کا کہنا ہے کہ، سکھوں کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں امتیاز برتا جا رہا ہے، ہندووں نے سکھوں کے بارے میں تذلیل آمیز لطیفے بنانا شروع کردیے ہیں۔ وہ موقع ملنے پر معصوم سکھوں پر حملے کرتے ہیں۔

سکھ اپنی ہی ریاست پنجاب میں ہندو انتہاپسندوں کی شر انگیزی سے محفوظ نہیں۔ کچھ عرصے قبل ہی گرو گوبنِد سنگھ کی یاد میں ہونے والی تقریب پر انتہاپسند ہندووں نے گھریلو ساختہ تیزابی بم اور پتھروں سے حملہ کردیا تھا۔ لیکن پولیس نے یہ سب دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا، اور حملہ آور سکون سے اپنا کام کرکے فرار ہوگئے۔

الگ صوبے کی جدوجہد1955میں بھارتی حکومت نے زبان کی بنیاد پر سکھوں کے لیے علیحدہ صوبہ بنانے سے انکار کردیا اور پنجابی ریاست کے لیے جدوجہد کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف غیرآئینی تھا بل کہ یہ آزادی اظہار ایکٹ کی براہ راست خلاف ورزی بھی تھی۔ سکھوں نے اس حکومتی فیصلے کی پرامن احتجاج کے ذریعے مذمت کی ۔ سکھوں کی سیاسی اور مذہبی پیشوا ماسٹر تارا سنگھ نے اپنی تقریر میں اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم نے آزادی کا مطالبہ کیا لیکن حکومت ہمیں غلام بنانا چاہتی ہے اب تو ہم پر پنجابی صوبے کا نام تک لینے پر پابندی ہے۔ یہ سب ہماری حرمت کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ہم پنجابی صوبے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور پولیس کو رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں پیش کریں گے۔ تارا سنگھ کی ہدایت پر خود مختار پنجابی ریاست کے حق میں مہم اور گرفتاریاں پیش کی گئیں۔ انتہا پسند ہندووں کی جانب سے سکھوں کے اس مطالبے کو پاکستان کی سازش سے تعبیر کیا۔ سکھوں کو ملک دشمن اور غدار کہا گیا۔

1960تک تقریبا 25ہزار سکھوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔ ان کی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ، جلاوگھیراو کیا گیا۔ سکھ راہنماؤں نے مختلف مواقع پر نہرو سے ملاقات کی، لیکن انہوں نے ہر بار سکھوں کے مسائل سننے اور ان کے مطالبات مانے سے انکار کیا۔ نہرو نے پنجابی ریاست کے قیام کو ملکی مفاد اور پنجاب میں رہنے والے ہندووں کے لیے خطرہ قرار دیا، جب کہ سکھ راہ نما اجیت سنگھ اور تارا سنگھ نے نہرو کو متعدد بار یہ بات بات باور کروانے کی کو شش کی کہ ہم سکھ اکثریت والی ریاست نہیں چاہتے۔ ہم تو صر ف ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں بنیادی زبان پنجابی ہو۔ اس میں یہ زبان بولنے والے ہندو، سکھ سب شامل ہوں۔سکھوں کے شدید احتجاج کے بعد 1966میں بھارتی حکومت نے پنجابی ریاست کی سرحدوں کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا۔ کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر پرانے پنجاب کو تین حصوں ہریانہ، ہماچل اور سکھ اکثریت کے پنجاب کے نام سے ہی علیحدہ ریاست قائم کی، لیکن اس میں بھی بددیانتی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پنجاب کے کئی وسائل میں ہریانہ کو شراکت دار بنایا گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Javed Ali Bhatti

Read More Articles by Raja Javed Ali Bhatti: 141 Articles with 61073 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2018 Views: 441

Comments

آپ کی رائے