جدت پر مبنی ترقی اور چین کا نیا ترقیاتی نقشہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
جدت پر مبنی ترقی اور چین کا نیا ترقیاتی نقشہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی سطح پر تیز رفتار تبدیلیوں، معاشی بے یقینی اور جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ کے اس دور میں چین کی ترقی کا سفر جدت، منصوبہ بندی اور طویل المدتی وژن کی ایک نمایاں مثال کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ اختراع پر مبنی ترقی نے چین کی معیشت اور سماج کو ایک نئی سمت دی ہے، جس کا اعتراف عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ عالمی دانشورانہ املاک تنظیم کے مطابق چین پہلی مرتبہ 2025 میں عالمی اختراعی درجہ بندی میں سرفہرست دس ممالک میں شامل ہوا، جو اسی سال چین کے 14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021 تا 2025) کی تکمیل کا بھی مظہر ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف گزشتہ پانچ برسوں میں حاصل کی گئی جدید کاری کے نتائج کو نمایاں کرتی ہے بلکہ آنے والے مرحلے کی سمت بھی واضح کرتی ہے۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی چین ایک نئے ترقیاتی خاکے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی بنیاد پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) پر رکھی جا رہی ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے ایک اہم اجلاس میں پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کی تیاری کے لیے سفارشات منظور کی گئیں، جن کے ذریعے 2026 سے 2030 تک چین کی معاشی اور سماجی ترقی کی سمت متعین کی گئی۔ یہ مرحلہ چین کے 2035 تک جدید ملک کے ہدف کی جانب پیش رفت میں ایک کلیدی سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
چینی قیادت کے نزدیک یہ دور سماجی و معاشی بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے اور ہر محاذ پر جدید کاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس عمل کی ایک نمایاں خصوصیت جامع مشاورت اور شمولیتی طرزِ حکمرانی رہی۔ جنوری 2025 میں پارٹی قیادت نے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودے کے لیے ایک خصوصی مسودہ ساز گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی قیادت صدر شی جن پھنگ نے خود سنبھالی۔
فروری 2025 میں اس گروپ کا پہلا مکمل اجلاس منعقد ہوا، جس سے باضابطہ طور پر مسودہ سازی کے عمل کا آغاز ہوا۔ اس دوران سیاسی بیورو کے اجلاسوں، نجی کاروباری شخصیات کے ساتھ سمپوزیمز، علاقائی ترقی سے متعلق مشاورتوں اور غیر جماعتی شخصیات سے مکالمے کے ذریعے وسیع پیمانے پر آرا حاصل کی گئیں۔ اس کھلے اندازِ پالیسی سازی نے اجتماعی دانش کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پالیسی سازی کے اس عمل میں عوامی رائے کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی۔ ایک ماہ پر محیط آن لائن مشاورتی مہم کے ذریعے نئے منصوبے پر شہریوں کی آرا حاصل کی گئیں، جن کا خلاصہ صدر شی جن پھنگ کے سامنے پیش کیا گیا اور اعلیٰ قیادت نے اس کا جائزہ لیا۔ اس طرح عوامی آواز کو اعلیٰ ترین سطح تک پہنچایا گیا۔
اکتوبر میں ہونے والے پارٹی اجلاس سے قبل صدر شی جن پھنگ نے اندرونِ ملک دوروں کے دوران مختلف اداروں اور کمیونٹیز کا دورہ کیا، جہاں آئندہ پانچ برسوں کی ترقیاتی ترجیحات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ قیادت کے متعدد اجلاسوں میں مسودے کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمرانی کا یہ تصور طویل المدتی وژن کے ساتھ عملی حقائق کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔
بالآخر، سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس میں “قومی معاشی و سماجی ترقی کے لیے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کی تشکیل سے متعلق سفارشات” کے عنوان سے یہ تاریخی دستاویز منظور کی گئی، جس کی تیاری میں آٹھ ماہ سے زائد کا وقت صرف ہوا۔
یہ سفارشات دراصل چین کے تیز رفتار معاشی نمو اور طویل المدتی سماجی استحکام کے دوہرے معجزے کو جاری رکھنے کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل اور روڈ میپ فراہم کرتی ہیں۔ صدر شی جن پھنگ نے اپنے نئے سال کے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ 2026 پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہوگا، جس کے لیے اعتماد کو فروغ دینا، اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا، اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کرنا اور مشترکہ خوشحالی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
سال 2025 عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بھرپور رہا، تاہم اس پس منظر میں چین نے مکالمے کو ترجیح دی اور باہمی فائدے پر مبنی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا۔ اس طرزِ عمل نے چین کو عالمی نظام میں ایک استحکامی ستون کے طور پر نمایاں کیا۔
اسی سال عالمی حکمرانی کے میدان میں ایک نمایاں “چینی لمحہ” سامنے آیا، جب صدر شی جن پھنگ کی جانب سے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کی گیا۔ زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی کے تصور پر مبنی اس اقدام کو 140 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل ہوئی، جو چین کی 2025 کی سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں بیجنگ میں دنیا کے پانچ براعظموں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور نمائندوں کی شرکت سے دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی 80ویں سالگرہ منائی گئی، جسے عالمی امن اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کے تحفظ کے لیے چین کے عزم کے اعتراف کے طور پر دیکھا گیا۔
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ چین نے عالمی حکمرانی میں مزید فعال کردار ادا کیا۔ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 2035 کے قومی اہداف کا اعلان، عالمی تجارتی تنظیم میں خصوصی رعایتوں سے دستبرداری، اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں بین الاقوامی ثالثی تنظیم کے قیام جیسے فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین عالمی نظم و نسق میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اختراع پر مبنی ترقی، جامع منصوبہ بندی اور فعال سفارت کاری چین کے اس سفر کی بنیادی خصوصیات ہیں جو اسے ایک نئے ترقیاتی مرحلے میں داخل کر رہی ہیں۔ پندرھواں پانچ سالہ منصوبہ نہ صرف چین کے داخلی استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک ایسے ماڈل کی صورت پیش کرتا ہے جو مکالمے، تعاون اور مشترکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ صدر شی جن پھنگ کے الفاظ میں، چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر عالمی امن اور ترقی کے فروغ کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہی عزم آنے والے برسوں میں چین کے کردار کو مزید نمایاں کر سکتا ہے۔ |
|