آئین پاکستان اور قادیانیت

(Ubaidullah Latif, Faisalabad)

رانا ثناء اللہ صاحب نہ صرف ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے یعنی صوبہ پنجاب کے وزیر قانون بھی ہیں گزشتہ دنوں سماء ٹی وی چینل پر کیپٹن صفدر کی پارلیمنٹ میں تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے موصوف نے یہ بیان جاری فرمایا کہ علماء ان قادیانیوں کو اب بھی مسلمان سمجھتے ہیں اور قادیانیوں سے ختم نبوت کے مسئلہ پر معمولی اختلاف ہے قادیانی نماز روزہ کرتے ہیں ان کی مساجد ہیں وغیرہ وغیرہ رانا ثناء اللہ نے اپنے اس بیان میں صریح کذب بیانی کا مظاہرہ کیا ہے علماء ان قادیانیوں کو قطعًا مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ زندیق سمجھتے ہیں جو کافروں کی بدترین قسم ہے دوسری بات کہ وزیر قانون نے واضح طور پر آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ علماء پر الزام لگانے کی وجہ سے اسے نہ صرف نااہل قرار دیا جائے بلکہ آئین پاکستان کی رو سے اس پر فی الفور مقدمہ چلا کر سزا دی جائے اور یہ شخص جسے خود قانون کا علم نہیں اسے اس وزارت سے فارغ کیا جائے .

محترم قارئین ! اب آپ پاکستانی آئین کو بھی ملاحظہ فرمائیں کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں کیا کہتا ہے اور پاکستانی آئین و قانون قادیانیوں پر کون کونسی پابندیاں عائد کرتا ہے ۔چنانچہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل نمبر ۲۶۰ میں لکھا ہے کہ
آرٹیکل نمبر ۲۶۰
جو شخص خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان نہیں لاتا یا حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی اندازمیں نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مذہبی مصلح پر ایمان لاتا ہے وہ ازروئے آئین و قانون مسلمان نہیں ۔
آرٹیکل نمبر ۱۰۶ کلاز نمبر۳
صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان ،پنجاب،شمال مغربی سرحدی صوبہ اور سندھ کی کلاز نمبر 11میں دی گئی نشستوں کے علاوہ ان اسمبلیوں میں عیسائیوں ، ہندوؤں، سکھوں ، بدھوں ، پارسیوں اور قادیانیوں یا شیڈول کاسٹس کے لئے اضافی نشستیں ہونگی۔
اس ترمیم کے بعد بھی توہین آمیز قادیانی سرگرمیوں کی روک تھام نہ ہو سکی ، جذبات کی آگ پھر بھڑکنے والی تھی کہ ۲۷ اپریل ۱۹۸۴؁ء مندرجہ ذیل آرڈی ننس جاری کیا گیا ۔
آرڈی ننس
قادیانی گروہ ،لاہوری گروہ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں کے ارتکاب سے روکنے
کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈی ننس
ہر گاہ یہ امر قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروہ ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں کے ارتکاب سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے ۔
ہر گاہ کہ صدر پاکستان کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جو فوری کاروائی کے متقاضی ہیں لہٰذا پانچ جولائی ۱۹۷۷؁ء کے اعلان کی تعمیل میں اور ان تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جو اس سلسلے میں انہیں حاصل ہیں صدر پاکستان حسب ذیل آرڈی ننس وضع اور نافذکرتے ہیں ۔
1۔ مختصر عنوان اور آغاز
(ا)اس آرڈی ننس کا نام قادیانی گروہ ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کا خلاف اسلام سرگرمیوں کا ارتکاب (ممانعت و سزا )آرڈی ننس ۱۹۸۴؁ء ہو گا۔
(ب) یہ فوری طور پر نافذالعمل ہو گا۔
2۔ عدالتوں کے احکام اور فیصلوں کے استرداد کاآرڈی ننس
ا۔س آر ڈی ننس کی دفعات /عدالتوں کے احکام اور فیصلوں کے علی الرّغم نافذ ہونگے۔
حصہ دوم :
مجموعہ تعزیرات پاکستان کی ترمیم (قانون نمبر۱۴بابت۱۸۶۰)
۳ ۔مجموعہ تعزیرات پاکستان کی ترمیم (قانون نمبر۱۴بابت۱۸۶۰) میں نئی دفعات ۲۹۸ب
اور ۲۹۸ ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیرات پاکستان کی ترمیم (قانون نمبر۱۴بابت۱۸۶۰) کے باب پندرہ میں دفعہ ۲۹۸۸ (ا)کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا۔
۲۹۸ ب بعض مقدس ہستیوں اور متبرک مقامات کے لئے مخصوص القاب و آداب صفحات
وغیرہ کا غلط استعمال
۱۱۔ قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ ( جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتیہیں ) کا جو شخص کسی تقریر ، تحریر یا واضح علامت کے ذریعے سے
ا۔ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے کسی خلیفہ یا صحابی کے سوا کسی اور شخص کو ’’ امیر المومنین ‘‘ ’’ خلیفۃ المومنین‘‘ ’’صحابی ‘‘’’رضی اﷲ عنہ‘‘
ب ۔ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے افراد خاندان (اہل بیت) کے سوا کسی اور کو’’اہل بیت ‘‘ یا
ج۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے نام سے !
پکارے گا ،یااس کا حوالہ دے گا وہ تین سال تک کی قید (کسی قسم) اور جرمانے کی سزا کا مستوجب ہوگا۔
۲۲۔ قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ ( جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں ) کا جو شخص کسی تقریر ، تحریر یا واضح علامت کے ذریعے سے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا شکل کو ’’اذان‘‘ سے موسوم کرے گا یا مسلمانوں کے طریقے کے مطابق اذان کہے گا وہ تین سال تک کی قید (کسی قسم) کی سزا،نیز جرمانہ کا مستوجب ہو گا۔
۲۹۸ ج ۔ قادیانی گروہ وغیرہ کا اپنے آپ کو مسلم کہلانے ، اپنے عقیدے کی تبلیغ
کرنے یا نشرواشاعت کرنے والا شخص
قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ ( جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں ) کا جو شخص اپنے آپ کو بلاواسطہ یا بالواسطہ’’ مسلم‘‘ کہلاتا ہے ، یااپنے عقیدے کو اسلام کہتایا ظاہر کرتا ہے ، یا دوسروں کو تقریر،تحریر یاواضح علامت یا کسی بھی طریقے سے دعوت دیتا اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے وہ تین سال تک کی قید(کسی قسم) کی سزا یا جرمانہ کا مستوجب ہو گا ۔

قارئین محترم ! کیا رانا ثناءاللہ اس بات کو نہیں جانتا کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کا کئی روز موقف سننے کے بعدمتفقہ طور پر اقلیت قرار دیا جب قادیانی جماعت نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان کہناشروع کیا اور برملاتمام اسلامی اصطلاحات کو مرزاقادیانی اور اس کے خاندان اور ساتھیوں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا تو اس پر پاکستانی پارلیمنٹ نے قانون سازی کی یہی وجہ ہے کہ آئین پاکستان کی رو سے قادیانی جماعت ہو یا ان کا لاہوری گروپ یہ دونوں پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور کسی بھی قادیانی کو شعائر اسلام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں یہاں تک کہ اگر کوئی قادیانی یا لاہوری ایک مرتبہ شعائر اسلام کو اپنے یااپنی جماعت کے لیے استعمال کرے گا تو اسے کم از کم تین سال قید بامشقت گزارنا ہو گی ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 100 Articles with 114590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2018 Views: 1799

Comments

آپ کی رائے
bohat shandaarr article likha hai ... hamari kom tu murda hai ... ye apnay liye awaz nai utha sakti deeen k liye kia uthay gi .. ALLAH apki iss kawish ko kabool fermain or mujrim ko saza dee jay ye main bhi apeal kerti hoon ...
By: amna yousaf, Lahore on Jan, 15 2018
Reply Reply
0 Like