اسلامی قوانین و اپنے تہذیبی آثار کے تحفظ کیلئے عملی مظاہرہ ناگزیر:

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
تہذیبی مطالعہ کے نام پر غیر اسلامی تہذیبوں کا فروغ صہیونی سازش- مسلمان دین پر استقامت اختیار کریں
اِن دنوں ساری دنیاکے مسلمان بے چینی و اضطراب کے صبر آزما مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ خونِ مسلم سے کئی ملکوں میں ہولی کھیلی گئی۔ عصمتیں تار تار کی گئیں۔ املاک تباہ اور کاروبار برباد کیے گئے۔ بچوں ،بوڑھوں اور بچیوں تک کو خاک و خوں میں نہلایا گیا۔ شام، یمن، فلسطین میں مسلسل مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ عراق، پاکستان، افغانستان میں بم دھماکوں نے سیکڑوں مسلمانوں کی جانیں لیں۔ اسرائیلی جیلیں مسلمانوں سے پُر ہو گئیں۔ بنگلہ دیش سمیت کئی عرب ممالک مسلم پناہ گزینوں سے بھر گئے۔ دکھ، درد، کلفت، تکلیف اور غموں کی یہ لہریں تھمی نہ تھیں کہ مزید کئی رخ سے تازہ دَم حملوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔

عربوں کا المیہ: نصف صدی سے زیادہ مدت گزری۔ بیت المقدس کی پاکیزہ زمیں پر یہودیوں کو برطانوی سازشوں کے نتیجے میں لا آباد کیا گیا۔ دنیا کے بیش تر خطوں سے چُن چُن کر لایا گیا۔ فلسطینیوں کو کھدیڑا گیا، یہودیوں کو بسایا گیا۔ اہلِ فلسطین تبھی سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔انھیں کئی بار دہشت گرد قرار دیا گیا۔ اطراف کے تمام مسلم ممالک بے حسی کے شکار ہیں۔ کسی کو قومی غیرت بیدار نہیں کرتی۔ کسی کی اسلامی حس نہیں جاگتی۔تمام مسلم حکمرانوں کو اقتدار پیارا ہے۔ انھیں اﷲ کی رحمت کی جگہ معاذاﷲ امریکہ و اسرائیل پر بھروسہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہود ونصاریٰ کی غلامی قبول کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحات کے نام پر حرمین طیبین میں خواتین کو بازاروں میں لایا جا رہا ہے۔ آرٹ کے نام پر فحاشی و سنیما کو پیغمبر اسلام ﷺ کی زمین پر تحفظ دیا جا رہا ہے۔تھیٹر قائم کیے اور کروائے جا رہے ہیں۔ رقص و سرود کی محافل جم رہی ہیں۔ زمانی تقاضوں کے نام پر خطۂ اسلام میں یہودی کلچر کا فروغ تشویش ناک ہے۔

غیر اسلامی آثار کا فروغ: اس وقت مصر میں فراعنہ کی تہذیب، عراق میں بابل و سامرہ کی تہذیب، ایران میں کسریٰ کی تہذیب اور دیگر مملکتوں میں اسلام سے قبل کے شعرا، بادشاہ اور اقوام کی تہذیب و تمدن کو عظیم اور باوقار قرار دے کر انھیں زندگی دی جا رہی ہے۔ مقصد اسلامی تہذیب کے مقابل دیگر تہذیبوں کو زندہ کرنا ہے، اسلامیکلچر سے مسلمانوں کو دور کرنا ہے۔ ورنہ کیا وجہ تھی کہ جنت البقیع مدینہ منورہ و جنت المعلیٰ مکہ معظمہ میں اسلاف کے آثار اُس زمانے میں چُن چُن کر مٹائے گئے جس زمانے میں مصر میں فراعنہ کے آثار کھود کھود کر محفوظ کیے جا رہے تھے، لاطینی امریکہ میں قدیم آثار تازہ کیے جا رہے تھے۔ یہودی بیت المقدس میں زیر زمین اپنے آثار اور ہیکل کا سراغ ڈھونڈ رہا تھا۔ اور اِس طرح مسلمانوں کے آثار مٹا رہا تھا۔ اُسی زمانے میں بابل میں شرکیہ آثار کو محفوظ کرنے کی مہم شباب پر تھی۔ مسلم آثار کی تاراجی کا صہیونی منصوبہ یہی تھا کہ مسلمان اپنے نشاں کو راہِ ہدایت نہ سمجھیں وہ مغربی تمدن میں گم ہو جائیں۔ اپنی راہ بھول جائیں۔ افسوس اس مہم میں بعض مسلمان ہی شریک رہے، اپنے آثار اپنے ہاتھوں مٹانے کی بدترین مثال انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملے گی۔ یہ بیسویں صدی کا المیہ تھا جس نے مسلمانوں کو خون کے آنسو رُلایا۔آج تمہیں حضرت عثمان غنی ، حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرات شہدائے بدر و احد، خیبر و خندق کے آثار تو نہ ملیں گے لیکن فراعنہ کے اہرام و منار مصر میں ضرور مل جائیں گے، عجائب گھروں میں شرکیہ تہذیبوں کے باقیات سلامت ملیں گے۔

ہندوستان میں فرقہ پرستانہ مراحل: ہندوستان میں بھی کئی دہائی سے فرقہ پرست کھل کر اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت، بھگوا قوتوں کے ذریعے دھماکے، مسلم آثار سے متعلق تشکیک، اور مسلم پرسنل لا پر حملہ یہ سب کچھ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ جس کی رہنمائی عالمی صہیونی قوتیں کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں کئی عنوانات زیر بحث ہیں: [۱] طلاقِ ثلاثہ سے متعلق بِل [۲] بِنا محرم عورت کا حج ……اِس سے قبل بھی ذبیحہ کے معاملے میں نشانہ مسلمان ہی تھے۔ جب کہ آزاد ملک میں کھانے پینے سے متعلق بھی گرفت سمجھ سے بالا تر تھی۔ یکے بعد دیگرے بھگوا توا ذہنیت کی تسکین کے لیے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانا اضطراب کا سبب ہے۔

طلاق سے متعلق مسلم قانون کی آفاقیت:تمام امور میں شرعی قوانین موجود ہیں؛ جس میں ایک دوسرے کے حقوق کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ کبھی کوئی اِن حقوق کی پاس داری نہ کرے اور طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل کا مرتکب ہوجائے، یا طلاق ہی مسئلے کا حل ہو تو اس میں افہام و تفہیم کے ساتھ شرع کی روشنی میں معاملہ کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے۔جس میں فطری تقاضوں کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے۔ اِس کے باوجود ہزاروں مسائل، مہنگائی اور دیگر حکومتی کوتاہیوں سے نظریں ہٹا کر اسلامی قوانین کے مقابل بِل لانا سازش کا پتہ دیتا ہے۔ ملک کی دوسری قومیں اپنے یہاں خواتین کے لیے جس قدر سوتیلا نظام بنا رکھی ہیں؛ ان کی اصلاح سے نگاہیں موند کر اسلامی قوانین کو نشانہ بنانا اسلام دشمنی کا مظاہرہ ہے۔ امریکہ و یہود کی خوش نودی کے لیے مودی حکومت کا طلاقِ ثلاثہ بِل خاندانوں کی تباہی کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے۔ دوسری سمت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی زندگی اسلام کے آئینے میں گزاریں تاکہ کسی غیر شرعی کورٹ کے چکر کی نوبت ہی نہ آئے۔ بچوں بچیوں کی تربیت اسلامی شریعت کے مطابق کریں تاکہ انھیں اپنے مذہب کے پیارے پیارے اصولوں پر عمل میں ہی سکون و قرار ملے۔ اِس سے بُرے فیصلوں کی قلعی بھی کھلے گی اور ایسے بِل کا کھوکھلا ہونا ثابت ہو جائے گا۔ ہم اپنے اعمال کی اصلاح کریں، اپنے گھروں کا ماحول اسلامی بنائیں۔ شریعت پر استقامت اختیار کریں۔ غیر شرعی کاموں سے نفرت کریں۔ یاد رکھیں کہ جن کی تہذیبوں کی سمت ہم بہے جا رہے ہیں؛ یہود و نصاریٰ-وہ کبھی ہمارا بھلا چاہنے کے نہیں؛ پیار کیجئے تو اپنی تہذیب سے؛ مر مٹیے اپنی شریعت پر۔ اِسی سے خیمۂ باطل میں ہلچل ہو گی اور ان کے فریب کی دھجی ہمارے عمل سے بکھر جائے گی۔

محرم کے بغیر حج: یہاں بھی کوتاہی ہماری ہے۔ اسلامی تربیت کے فقدان نے ایسی خواتین کو بے لگام کر دیا؛ جنھیں خوفِ خدا نہیں رہا؛ فریضۂ اسلامی حج جیسے پاکیزہ سفر کے لیے بِنا محرم کا تصور ان کی مذہب سے دوری کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جو اپنے شرعی فیصلوں کو عزیز رکھتی ہیں، جن کے یہاں اسلامی تربیت ہے وہ ایسے قوانین کی خواہش مند نہیں ہو سکتیں۔ ایسے قانون کی تشکیل میں یقینی طور خادم الحرمین بھی ذمہ دار ہیں؛ جن کی لچک دار پالیسیوں نے خلافِ شرع قانون بننے میں مدد کی۔ ہندوستانی حکومت کو محرم کے بغیر حج کا فیصلہ واپس لینا چاہیے، سعودی حکومت کو بھی اسلامی شریعت کے مطابق اپنی عالمی حج پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں۔ اسی کے ساتھ اسلامی ماحول سازی وقت کی ضرورت ہے تا کہ فتنہ و سازشوں کا منھ موڑا جاسکے۔
٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 145556 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2018 Views: 358

Comments

آپ کی رائے