عزمِ ایمانی سے اسٹریٹجک برتری تک

حسیب اعجاز عاشرؔ
14 اگست 1947ء کوجب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک نو زائیدہ مملکت کے طور پر نمودار ہوا تووسائل کے اعتبار سے یتیم، جغرافیائی طور پر کٹا پھٹا اور سیاسی طور پر بے حد نازک حالت میں،نہ خزانے تھے، نہ کارخانے، نہ اسلحہ خانے، اور نہ ہی وہ عسکری سازوسامان جو ایک ریاست کو ریاست بناتا ہے۔برطانوی راج کے خاتمے پر تقسیم کے وقت جو فوجی اثاثے تقسیم ہونے تھے، ان میں بھی پاکستان کے ساتھ وہ انصاف نہ کیا گیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بھارت نے نہ صرف یہ کہ وعدہ خلافی کی بلکہ عسکری سازوسامان، اسلحہ، رقوم اور حتیٰ کہ فوجی یونٹوں کی منتقلی میں بھی دانستہ تاخیر اور رکاوٹیں ڈالیں۔ کہا جاتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت ہماری بحریہ کے پاس محض چند چھوٹی کشتیاں تھیں اور فضائیہ چند تربیتی طیاروں پر مشتمل تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ریاست کا دفاع بندوق سے زیادہ حوصلے، یقین اور قربانی کے جذبے پر استوار تھا۔
بھارت نے ابتدا ہی سے پاکستان کو ایک نظریاتی اور وجودی خطرہ سمجھا۔ کشمیر پر حملہ، سرحدی کشیدگیاں اور مسلسل دباؤ اس بات کا ثبوت تھے کہ نوزائیدہ پاکستان کو سانس لینے کی مہلت بھی دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ 1965ء کی جنگ آئی تو دنیا نے دیکھا کہ پاکستان عسکری اعتبار سے کمزور ہونے کے باوجود حوصلے میں مضبوط تھا۔ اس زمانے میں ہماری بحریہ کے پاس صرف ایک آبدوز ”پی این ایس غازی“ تھی اور وہی ایک آبدوز دشمن کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ وسائل کم تھے مگر جذبہ بے مثال تھا۔
1971ء کا سانحہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا زخم ہے،جس کے درد احساس دلایا کہ دفاعی خود کفالت ناگزیر ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے پاکستان کی دفاعی پالیسی نے ایک نیا رخ لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ تاریخی جملہ کہ“ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے”۔یہ نعرہ قومی حکمتِ عملی کادوٹوک اعلان تھا۔سائنس دانوں اور انجینئروں کو یکجا کیا گیا، اور ایک طویل، صبر آزما مگر فیصلہ کن ایٹمی پروگرام کے سفر کا آغاز ہوا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس داستان کے وہ کردار ہیں جن کا ذکر کیے بغیر یہ قصہ ادھورا رہتا ہے۔ ان کی قیادت، محنت اور خفیہ جدوجہد نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عالمی دباؤ، پابندیاں اور دھمکیاں اپنی جگہ، مگر 1998ء میں چاغی کے پہاڑوں نے گواہی دی کہ پاکستان اب ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔اسی تسلسل میں میاں نواز شریف کا کردار بھی اہم ہے کہ انہوں نے عالمی دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا۔ اگر اس وقت یہ جرات مندانہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو شاید آج پاکستان کا دفاعی توازن کہیں اور ہوتا۔ یہ ایٹمی دھماکے قومی وقار کی بازگشت ثابت ہوئے،یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کی ضمانت بنا ہو ا ہے۔ اب اصل امتحان دفاعی خود انحصاری تھا۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں خالد ٹینک کی تیاری، چھوٹے ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں، آرٹلری سسٹمز اور ڈرون ٹیکنالوجی میں پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے صرف جنگی صلاحیت ہی نہیں بڑھائی بلکہ دفاعی صنعت کی بنیاد بھی مضبوط کی۔
فضائی شعبے میں جے ایف-17 تھنڈر ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کا کردار بھی اہم رہا۔ جے ایف-17 کو پاکستان لانے میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے کلیدی کردار ادا کیااور آج یہی طیارہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کی پہچان بن چکا ہے۔
اور اب سرسری سی بات حال کی۔اس مقام پر اگر پاکستان کی دفاعی قوت کے تکنیکی پہلوؤں کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ داستان نامکمل رہ جائے گی۔ کیونکہ جدید دنیا میں جنگیں صرف بندوق اور ٹینک سے نہیں، بلکہ ڈیٹا، سافٹ ویئر، الیکٹرانکس اور ذہانت سے لڑی جاتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں جس خاموشی، تسلسل اور رازداری کے ساتھ اپنی میزائل، ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی کو ترقی دی ہے، اس نے دوستوں کو مطمئن اور مخالفین کو متفکر کر دیا ہے۔جبکہ پاکستان کا میزائل پروگرام دفاعی خود مختاری کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ غوری، شاہین، ابدالی، نصر اور ابابیل جیسے میزائل مختلف رینجز، درستگی اور ڈیٹرنس فلسفے کی عملی شکل ہیں۔ خصوصاً ابابیل میزائل کی ملٹی پل وار ہیڈ (MIRV) صلاحیت نے خطے میں اسٹریٹجک توازن کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو چند ہی ممالک کے پاس موجود ہے، اور اس کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ جارحیت کو روکنا ہے۔اسی طرح کروز میزائل ٹیکنالوجی میں بابُر اور رعد جیسے نظام پاکستان کی انجینئرنگ مہارت کا مظہر ہیں۔ زمین، سمندر اور فضا سے لانچ ہونے والے یہ میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نیوی بھی بتدریج ایک مستحکم قوت کے طور پر ابھر رہی ہے آغوش کلاس اور ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ، فریگیٹس، میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹس اور ساحلی نگرانی کے جدید نظام اس امر کی علامت ہیں کہ پاکستان نے سمندری راستوں، بندرگاہوں اور معاشی شہ رگوں کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ یہ سب کچھ کسی ایک دن میں نہیں ہوا بلکہ برسوں کی تحقیق، بھرپور محنت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان کی ایک اور بڑی مگر کم بیان کی جانے والی قوت الیکٹرانک وارفیئر، سائبر صلاحیت اور انٹیلی جنس فیوژن ہے۔ حالیہ برسوں میں ہونے والی ایک بڑی فضائی جھڑپ کے بعد بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے یہ اعتراف سامنے آ چکا ہے کہ پاکستان کو ان کے جدید طیاروں، ریڈارز اور پرواز کے طریقِ کار سے متعلق حیرت انگیز حد تک پیشگی معلومات حاصل تھیں جو کہ معلوماتی برتری (Information Superiority) کا ثبوت ہے۔ جدید جنگ میں یہی برتری فیصلہ کن ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی فضائیہ کو دنیا کی چند پیشہ ور اور تکنیکی طور پر ہم آہنگ فضائی قوتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر، ڈیٹا لنکس، مقامی ریڈار سسٹمز اور مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر نے پاکستان کو ایک ایسا دفاعی ماڈل دیا ہے جو کم وسائل میں زیادہ مؤثر نتائج پیدا کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کی دفاعی صنعت نے جس انداز میں عالمی توجہ حاصل کی ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ معتبر بین الاقوامی ذرائع، بالخصوص Reuters، کے مطابق پاکستان نے لیبیا کے ساتھ چار سے ساڑھے چار ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے ہیں جن میں جنگی طیارے اور دیگر عسکری سازوسامان شامل ہے۔ آذربائیجان کو چالیس جے ایف-17 طیاروں کی فروخت تقریباً 4.6 ارب ڈالر کا ایک تاریخی معاہدہ ہے جو پاکستان کی دفاعی برآمدات میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سوڈان کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب معاہدے کی بات چیت جاری ہے جس میں تربیتی طیارے، ڈرونز اور دفاعی نظام شامل ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ جے ایف-17 کے بدلے قرض کی ممکنہ تنظیمِ نو پر مذاکرات ہو رہے ہیں، اگرچہ یہ معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ عراق، بنگلہ دیش، نائجیریا اور دیگر ممالک کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب اس فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں سے دنیا دفاعی ضروریات پوری کرنا چاہتی ہے۔سوشل میڈیا پر تومجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر کی دفاعی برآمدات کا دعوی زیرگردش ہے مگرفی الوقت یہ دعویٰ ابھی مبالغہ آرائی ہے مگر خارج الامکان بھی نہیں کیونکہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اب دفاعی میدان میں محض خریدار نہیں رہا، ایک ذمہ دار اور معتبر فروخت کنندہ بن چکا ہے۔پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ آج حرمین شریفین کے دفاع میں پاکستان کو کردار ملنا بلاشبہ اعزاز و سعادت ہے۔
قارئین کرام: ہمارا دفاعی سفر درحقیقت ایک قوم کے اجتماعی عزم کا لازوال سفر ہے جو ایمان سے شروع ہوا، سائنس پر پہنچا اور اب خود کفالت کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ اگر آج پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے تو اس میں سپاہی کی قربانی، سائنس دان کی محنت، سیاست دان کے فیصلے اور قوم کے صبر سب شامل ہیں۔ اور شاید یہی وہ سرمایہ ہے جس کے سہارے قومیں تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں، بلکہ تاریخ کا رُخ بھی موڑ دیا کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک اسٹریٹجک حقیقت بن چکاہے۔ ایک ایسی حقیقت جسے نظر انداز کرنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جس سرزمین نے خالی ہاتھ جنم لیا تھا، وہ آج دفاعی خود کفالت، تکنیکی بصیرت اور عسکری وقار کی علامت بن چکی ہے۔ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا، مگر اتنا ضرور طے ہو چکا ہے کہ اب پاکستان تاریخ کے حاشیے پر نہیں، اس کے متن میں لکھا جا رہا ہے۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 159 Articles with 164618 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More