گلوبل گورننس کا چینی بیانیہ
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
گلوبل گورننس کا چینی بیانیہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی سیاست اس وقت شدید دباؤ، عدم اعتماد اور طاقت کے غیر متوازن استعمال کے دور سے گزر رہی ہے۔ جغرافیائی کشیدگیاں، معاشی عدم استحکام، ترقی پذیر ممالک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور بین الاقوامی اداروں کی کمزور ہوتی ساکھ نے عالمی حکمرانی کے موجودہ نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک ایسے عالمی تصور کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو برابری، انصاف اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔ اسی تناظر میں چین کی جانب سے پیش کیا گیا گلوبل گورننس انیشی ایٹو عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے اور اسے موجودہ عالمی چیلنجز کا ایک متبادل اور متوازن جواب قرار دیا جا رہا ہے۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو ستمبر 2025 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران پیش کیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی حکمرانی کے نظام کو زیادہ منصفانہ، جامع اور مؤثر بنانا ہے۔ اس انیشی ایٹو کے تحت اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا کو ایسے اصولوں کی بنیاد پر چلایا جائے جو تمام ممالک کے لیے یکساں ہوں، نہ کہ چند طاقتور ریاستوں کے مفادات کے تابع۔
یہ انیشی ایٹو ایسے وقت میں سامنے آیا جب دنیا کے کئی خطے یکطرفہ اقدامات، پابندیوں اور طاقت کے استعمال کے باعث عدم استحکام کا شکار ہیں۔ متعدد ممالک، خصوصاً ترقی پذیر دنیا، موجودہ عالمی نظام کو اپنے لیے غیر منصفانہ تصور کرتی ہے۔ اسی پس منظر میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو ایک اصلاحی تصور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو پانچ واضح اور سادہ اصولوں پر مبنی ہے۔ ان میں ریاستی خودمختاری کی برابری، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، کثیرالجہتی نظام کا فروغ، عوام کو مرکزیت دینا اور محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات شامل ہیں۔ ان اصولوں کا مقصد عالمی تعلقات کو طاقت کے بجائے قانون، تعاون اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار کرنا ہے۔
یہ تصور اس بات کی نفی کرتا ہے کہ عالمی نظام چند ممالک کے طے کردہ اصولوں پر چلے۔ اس کے بجائے یہ ایک ایسے فریم ورک کی وکالت کرتا ہے جس میں ہر ریاست، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، یکساں حقوق اور ذمہ داریاں رکھتی ہو۔
بین الاقوامی سطح پر گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے اس تصور کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ کئی بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انیشی ایٹو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے پرکشش ہے، کیونکہ یہ ان کے دیرینہ تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق متعدد ممالک اس انیشی ایٹو کو اس لیے اہم سمجھ رہے ہیں کہ یہ بعض بڑی طاقتوں کے غیر متوقع اور دباؤ پر مبنی طرزِ عمل کے برعکس ایک متوازن اور اصولی راستہ پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں ایک ایسا نظام فروغ پا رہا ہے جہاں چند ممالک قواعد بناتے ہیں اور دیگر سے ان پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جسے کئی ریاستیں اپنے مفادات کے خلاف تصور کرتی ہیں۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو اقوام متحدہ کے چارٹر سے بھی ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تصور کے تحت اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ عالمی فیصلے یکطرفہ اقدامات کے بجائے اجتماعی مشاورت کے ذریعے کیے جا سکیں۔
چین کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ چین عالمی نظام میں اقوام متحدہ کی مرکزیت اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے اصول پر قائم رہے گا۔ اسی سلسلے میں دسمبر 2025 میں نیویارک میں گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جسے اس انیشی ایٹو پر عمل درآمد کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق گلوبل گورننس انیشی ایٹو ترقی پذیر ممالک کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہ ان کی آواز کو عالمی سطح پر مؤثر بنانے کی بات کرتا ہے۔ اس تصور کے تحت عالمی نظام کو اس طرح ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ترقی، امن اور سلامتی کے فوائد تمام ممالک تک پہنچ سکیں۔
یہ انیشی ایٹو اس خیال کو فروغ دیتا ہے کہ عالمی مسائل جیسے ماحولیاتی تبدیلی، ترقیاتی عدم مساوات اور سلامتی کے خطرات کا حل صرف اجتماعی حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔
حقائق کے تناظر میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو نئے اعتماد، واضح اصولوں اور عملی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ یہ تصور نہ تو موجودہ عالمی نظام کو ختم کرنے کی بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی نئی بالادستی کا دعویٰ کرتا ہے، بلکہ اسے زیادہ منصفانہ، جدید اور موجودہ عالمی حالات کے مطابق بنانے کی کوشش ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اس انیشی ایٹو کی بڑھتی ہوئی حمایت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک ایک ایسے "ورلڈ آرڈر"کے خواہاں ہیں جو طاقت کے بجائے انصاف، اور تصادم کے بجائے تعاون پر مبنی ہو۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کس حد تک عملی شکل اختیار کرتا ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس نے عالمی گورننس پر جاری بحث کو ایک نیا رخ ضرور دے دیا ہے۔ |
|