کشکول، دھرنے اور قوم
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
حسیب اعجاز عاشرؔ ہمارے ہاں آئی ایم ایف کوئی مالیاتی ادار ہ نہیں بلکہ ایسا گلے کا طوق ہے، جس کے آگے ہماری خودمختاری، سیاسی بصیرت اور اجتماعی عقل سب ہاتھ باندھے کھڑے ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ افسوس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جب بھی ہم اس کشکول کو چھوڑنے کا ارادہ کرتے ہیں، عین اسی لمحے ہماری سیاست اسے دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر قوم کے سر پر رکھ دیتی ہے۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں۔ 2016 میں پاکستان نے پہلی بار جرأت مندی دکھائی اور آئی ایم ایف کو خیرآباد کہنے کی سوچا، جب ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر تقریباً 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، برآمدات میں اضافہ اور معیشت میں معمولی لیکن مستقل بہتری کے آثار نظر آ رہے تھے۔ GDP کی شرح نمو اُس سال تقریباً 4.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ قوم کی آنکھوں میں امید کے چراغ جل رہے تھے کہ شاید ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں امید زیادہ دیر زندہ نہیں رہتی۔ جیسے ہی معیشت نے سر اٹھایا، سیاست نے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔دھرنے، جلسے، جلوس، لاک ڈاؤن، کنٹینر اور وہ انقلابی خطابات جن میں قوم کو بتایا گیا کہ اب سب کچھ بدلنے والا ہے، حقیقت میں صرف معاشی اعصاب کو مفلوج کرنے کے مترادف ثابت ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے ہاتھ کھینچ لیا، کاروبار نے سانس روک لی، اور معیشت دوبارہ آہستہ آہستہ بستر پر جا پہنچی۔تحریک انصاف کے یہ رویے ریاستی اعصاب کو کمزور کر گئے بلکہ اداروں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک بار پھر غیر یقینی کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کی داخلی اور بیرونی سرمایہ کاری رک گئی، براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) 2.7 ارب ڈالر تک محدود ہو گئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی دیکھی گئی۔تعجب تو اِس بات کا ہے کہ پھر تحریک انصاف کی حکومت آئی۔ قوم کی توقع تھی کہ اب وہ فیصلے ہوں گے جو روایتی سیاست نہ کر سکی، مگر یہاں بھی معاملہ وہی رہا: تاخیر، تذبذب اور تضاد۔ آئی ایم ایف جانا ایک ناگزیر حقیقت تھی، مگر اسے سیاسی نعرہ بنا کر اتنا مؤخر کیا گیا کہ نقصان کئی گنا بڑھ گیا۔ اسی دوران، پاکستان کے قرضوں کا بوجھ ناقابلِ تصور حد تک بڑھ گیا۔ 2023 کے مطابق ملکی بیرونی قرضہ تقریباً 150 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، ہر آنے والا بجٹ قرض کے مرہونِ منت تھا، ہر ترقیاتی منصوبہ قسطوں میں جکڑا ہوا، اور وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے کاغذات میں گم تھی۔ ہر سال قومی بجٹ کا تقریباً 40 فیصد قسطوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا تھا، اور اس کے باوجود مالی خسارہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ قوم کو تسلی دی جاتی کہ یہ سب“سابقہ حکومتوں کی غلطیوں ”کا نتیجہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ قوموں کو تسلی نہیں، سمت چاہیے۔ اب ایک بار پھر موجودہ حکومت کی جانب سے یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ رواں سال پاکستان آئی ایم ایف کو خیرآباد کہنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ خوش آئند خبر ہے، مگر تجربات ہمیں نصیحت کرتے ہیں کہ خوشی منانے سے پہلے رک جائیں۔ کیونکہ عین اسی وقت ملک میں ایک بار پھر جلسے، جلوس اور احتجاج زور پکڑ رہے ہیں۔ ڈی چوک پر کفن پہننے کی باتیں ہو رہی ہیں، اور تاریخی سبق دہرانے کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔ ہم کب سمجھیں گے سوالات کی بھرمار معیشت سے نکل کر ریاست کے گریبان تک پہنچ ر ہے ہیں۔ذرا سوچیں تو صحیح کہ کیا پاکستان ایک اور سیاسی انتشار کا متحمل ہو سکتا ہے؟ جواب ”نہیں“ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بیرونی دنیا میں جنگیں، پابندیاں، اور عالمی معیشت پر دباؤ ہے۔ ایسے میں داخلی عدم استحکام زہرِ قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان تو پہلے ہی کمزور معیشت، نازک سفارتی توازن اور سماجی تھکن کا شکار ہے۔ وقت تقاضا کر رہا ہے کہ ہم سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ترک کریں اور قومی بقا کو مقدم رکھیں۔ یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ہمارے طاقتور حلقے، سیاسی جماعتیں، مذہبی تنظیمیں اور عوامی نمائندے ہی ملک کے چلانے والے ہیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے، مگر ریاست کو مفلوج کرنا جمہوریت نہیں بلکہ خودکشی ہے۔ طاقت کے مراکز اگر سیاسی عمل کو انجینئر کرنے کی روش ترک نہ کریں تو وہ بھی اس کشتی میں سوراخ ہی کر رہے ہیں جس میں سب سوار ہیں۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ چھوٹی جماعت ہو یا بڑی، مذہبی ہو یا سیکولر، سب پاکستانی ہیں۔ کوئی باہر سے نہیں آئے گا ہمیں بچانے، نہ آئی ایم ایف، نہ کوئی دوست ملک۔ ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے اجتماعی عقل، ضبط، برداشت اور مکالمہ درکار ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو رگڑ لگانے کا شوق۔ایک دانشور نے صیح فرمایا تھا: ''ہماری بدقسمتی یہ نہیں کہ ہم غلطیاں کرتے ہیں، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم انہیں بار بار دہرانے پر فخر محسوس کرتے۔'' آج بھی یہی سبق ہمارے سامنے ہے: کیا ہم تاریخ کو دہرانے سے رک جائیں گے، یا ایک بار پھر کشکول اٹھا کر یہی کہیں گے کہ قصور ہمارا نہیں، پہلے والوں کا ہے؟؎ Haseeb Ejaz Aashir | 0334-4076757
|