لاہور میں ڈیرے

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

لاہور پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے لاہور گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ بدلتا اور پھیلتا چلا جا رہا ہے پرانے لاہور کے ساتھ ساتھ جدید لاہور بھی اپنے رنگ بکھیر رہا ہے پہلے کی نسبت لاہور کی جدت اور خوبصورتی میں اضافہ ہو گیا ہے دوسرے شہروں کے لوگ لاہور دیکھنے کے لئے امڈتے چلے آتے ہیں کیونکہ اس شہر میں ایک خاص کشش ہے اور اس کشش کو ہر پاکستانی محسوس کرتا ہے کیونکہ یہاں بزرگان دین کے مقبرے ہیں یہاں ہر طرف پھول ہی پھول ہیں یہاں کشادہ سڑکیں ہیں یہاں ٹرانسپورٹ کا جدید نظام موجود ہے یہاں طرح طرح کے لذیز کھانے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں یہاں تاریخی عمارات ہیں یہاں بڑے بڑے بازار اور مال ہیں یہاں کے لوگ محنتی اور مہمان نواز ہیں بس آخر میں یہی کہوں گا کہ لاہور لاہور ہے اور جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا ۔

سیاسی لحاظ سے بھی لاہور کی اہمیت سے سب واقف ہیں کل اپوزیشن نے مال روڈ پر اپنا جلسہ منعقد کیا حالانکہ حکومت نے مال روڈ پر جلسہ کی اجازت نہیں دی کیونکہ جلسہ کی وجہ سے جہاں شہریوں کے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ صرف لاہور میں رہنے والے ہی جانتے ہیں ایک تو لاہور میں ترقیاتی کام جاری ہیں جس کی وجہ سے تمام مصروف سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور اس پر یہ احتجاجی جلسے کرنا کہاں کی عقلمندی ہے لاہور کے باسیوں کو سکون سے رہنے دیں اور الیکشن کا انتظار کریں دو چار ماہ کی بات ہے الیکشن ہو جائیں گے کیونکہ فیصلہ تو لاہور کے باسیوں نے ہی کرنا ہے ۔اگر مال روڈ کی بجائے جلسہ کسی بڑے پارک میں کر لیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ ان سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ لاہور کے باسیوں کی تکلیف کا بھی احساس کریں مال روڈ پر جلسہ کرنے سے یہاں کے دکانداروں کو نقصان ہوتا ہے اس کے علاوہ تمام بنک بند کر دئے جاتے ہیں جس سے عام آدمی اور کاروباری آدمی کو لین دین میں دشواری پیدا ہوتی ہے ۔

ہر سیاسی جماعت اپنی دکانداری چمکانے کے لئے کسی کا خیال نہیں رکھتی جلسے جلوسوں کی بجائے ٹیلی ویژن کے ذریعے بھی اپنا موقف پیش یا جا سکتا ہے آج کے جدید دور میں اپنی بات پہنچانے کے کئی جدید ذرائع موجود ہیں ان میں سے اس وقت سوشل میڈیا سب سے زیادہ ایکٹو ہے کوشش کریں کہ ایسا کام نہ کیا جائے جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے سب جانتے ہیں کہ پہلے ہی ایک عام آدمی روز گار کے لئے در بدر بھٹکتا پھر رہا ہے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے بے روز گار ہیں اکثر تعلیم یافتہ لوگ ملک میں روز گار نہ ہونے کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں لیکن سیاست دان اب بھی نوجوانوں کو سہانے خواب دکھا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں اور برسراقتدار آکر سب وعدے بھول جاتے ہیں اور اپنی کمائی میں لگ جاتے ہیں خدارا جو بھی سیاسی جماعت اگلا الیکشن جیتے وہ صرف اور صرف ملک اور عوام کے لئے کام کرے ایک عام آدمی کے طرز زندگی میں بدلاؤ لائے اس کے لئے روز گار ،تعلیم ،صحت ،مہنگائی،کرپشن کے خاتمے اور اس کی بنیادی ضرورت زندگی پر توجہ دیں تبھی پاکستان ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔

ملک میں قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تا کہ لوگ انصاف کے لئے عدالتوں کی بجائے سڑکوں کا رخ نہ کریں عام آدمی کو انصاف اس کی دہلیز پر مہیا کیا جائے ۔اگر عدالتوں میں درست فیصلے کئے جائیں تو لوگ سڑکوں پر کیوں آئیں گے اس لئے ان جلسے جلوسوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں قانون کا بول بالا ہو اور ہر ایک کے ساتھ چاہے وہ کوئی سیاست دان ہو ،کوئی بیورو کریسی کا بندہ ہو،کوئی تاجر ہو یا پھر کوئی عام غریب مزدور ہو سب کے لئے ایک ہی قانون ہو تا کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں اگر ایسا ہو جائے تو ملک میں خوشحالی آئے گی توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ سے بچا جا سکتا ہے سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے عوم کی بہتری کے لئے کام کریں اب عوام باشعور ہو چکی ہے اور انہیں پتا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے آج کا نوجوان سیاسی بصیرت رکھتا ہے اور وہ اس کے اتار چڑھاؤ سے پوری طرح واقف ہے اس لئے اب عوام کو خصوصاً نوجوانوں کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا اگر آپ پاکستان اور اس کی عوام کے ہمدرد ہیں تو سیاسی دکان چمکانے کی بجائے ملک اور عوام کی خدمت کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو جائیں تا کہ ملک مزید تقسیم ہونے سے بچ جائے ۔سب سے پہلے ملک کی سلامتی اور خوشحالی اولین ترجیح ہونی چاہیئے دشمن پہلے ہی دھاک لگائے بیٹھا ہے اور آئے دن دھمکیاں دے رہا ہے ہم ایک ہو کر ہی اسے بہتر جواب دے سکتے ہیں پاکستان سے پیار کیجیئے پاکستان پہ جان قربان کیجئے ۔پاکستان زندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1340756 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
18 Jan, 2018 Views: 423

Comments

آپ کی رائے