فقرے

(Amjad Siddique, Lahore)

ایسے سیاسی و غیر سیاسی فقروں کی بھرمار ہمیشہ رہی ہے۔جو اقتدار کی خواہش تو بلا کی رکھتے ہیں۔مگر اس کے لیے کچھ کرنا نہیں چاہتے۔جتنی بڑی مراد ہو وہ اتنی ہی بڑی تڑپ کی متقاضی ہوتی ہے۔یہ لوگ بجائے اقتدار کی اہلیت پیدا کرنے اور اسے بڑھانے کے ہوائی قلعوں پر دارومدادرکھنے والے ہیں۔انہیں فقرے کہابھی اسی سبب گیا ہے کہ یہ دامن پھیلائے دربدر پھرتے نطر آتے ہیں۔صدا یہ ہوتی ہے کہ کچھ بھی کروالو مگر کسی طرح اقتدار تک پہنچادو۔اپنے اپنے درواکرتے لوگ ان کی شکل دیکھ کر بمشکل ہنسی ضبط کرتے ہیں۔انہیں کچھ دینا تو کیا اللہ تیرا بھلا کرے بھی کہنے سے احتراز برتاجاتاہے۔جواب یہ دیا جاتاہے کہ اگر کچھ کرنے کے قابل ہوتے تو دربدر ٹھوکریں کھاتے۔اپنا بوجھ خود نہ اٹھا پاتے۔مختلف دروں کے پھیرے لگاتے یہ سیاسی فقرے کبھی کہیں سے ملامت پاتے ہیں۔کبھی کہیں سے دھتکارے جاتے ہیں۔مگر ڈھٹائی دیکھیے کہ باربار دھتکارنے کے باوجود اپنی صدا ترک نہیں کرتے۔ممکن ہے کبھی کوئی فقرااس طعن زنی سے عبرت پاتا سیدھی راہ کی طرف لپکے مگریہاں بھی وہ زیادہ دیر ٹک نہیں پاتا۔طبیعت کی سہل پسندی اسے جلد ہی دوبارہ فقرا گروپ کی طرف دھکیل دیتی ہے۔برسوں کی ریاضت اور محنت کا جو راستہ اقتدار کی طرف جاتاہے۔ان کے بس کی بات نہیں۔یہ لوگ بار بار توبہ کرتے ہیں۔باربار یہ توبہ توڑتے ہیں۔دربد ر دھکے کھاتے اقتدار کی صدا لگاتے سیاسی فقرے بار بار ذلت اٹھاتے ہیں۔مگر اس کے سوا ان کے پاس شاید کوئی چارہ بھی نہیں۔

پارلیمنٹ کو لعنتی کہنے پر عمران خاں نادم نہیں ہیں۔ان سے جب اس بیان پر رائے پوچھی گئی تو کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے لیے لعنت سے زیادہ سخت الفاظ کہنا چاہتاتھا۔وہاں چور،مافیا بیٹھے ہیں۔کیسے عزت کروں۔خاں صاحب کی طرف سے ندامت کی بجائے ڈٹے رہنے کی روش ان کی سیاست کو مذید بوجھل بنادے گی۔ان کی بجائے پی پی کی جانب سے قدرے حقیقت پسندانہ رویہ سامنے آیا ہے۔ایک تو پارٹی قائد آصف زرداری کی جانب سے عمران خاں پر پالیمنٹ کو لعنتی کہنے پر تنقید سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا عمران پارلیمنٹ اور حکومت میں تمیز کریں۔دوسرا قائد حزب اختلا ف سید خورشید شاہ نے بھی اس قرارداد کی تائید اور حمایت کی جو عمران خاں اور شیخ رشید کی مزمت سے متعلق پارلیمنٹ میں منظور کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو برا بھلا کہنے والے کو سیاست کرنے کا حق نہیں۔پی پی کی جانب سے بروقت موقف کی وضاحت ایک احسن اقدام ہے۔اگر چہ جناب زرداری اور شاہ صاحب نے بھی اس جلسے میں کچھ اسی طرح کا ملتاجلتا اظہار خیال کیا تھا۔خاں صاحب اپنے اناڑی پن سے مار کھارہے ہیں۔الفاط کے چناؤ میں کچھ فرق ہوسکتاہے مگر پی پی اور تحریک انصاف کی اس جلسے سے مراداور نیت ایک ہی سی تھی۔پی پی ایک وسیع تجربہ رکھنے کے سبب بات کوگھماپھرا کر کرنے کے فن سے آشنا ہے۔اس کے پاس کہہ مکرنیوں کا بھی ایک معقول تجربہ ہے۔خاں صاحب انجانے میں کچھ غلط بھی کہہ جاتے ہیں۔اور اس غلط کہنے کی بعد میں ٹھیک طو رسے تشریح نہیں کرپاتے۔

نوازشریف کے خلاف فقرے جمع ہیں۔ایسے فقرے جو شارٹ کٹ کے رسیا ہیں۔جن کی یا تو سیدھے رستے پرچلنے کی نیت نہیں یا پھر وقت نے انہیں گھیر گھار کر اس طرف دھکیل دیاہے۔وہ کٹھنائیوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے ہتھیار ڈالتے ادھر آگئے۔ اس گروپ میں پی پی شامل نہ تھی۔مگر جو غیر سنجیدہ سیاست پچھلے ساڑھے چار سالوں میں پی پی قیادت نے کی وہ اسے فقرا گروپ کا حصہ بنے پر مجبور کررہی ہے۔زرداری دور میں کی گئی کوتاہیوں کی تلافی ان ساڑھے چار برسوں میں کرنا مقصو د تھی۔اگر یہ تلافی ہوجاتی تو پی پی سینہ تان کر اگلے الیکشن کے لیے میدان میں اترتی۔بجائے تلافی کرنے کے اس قدر لاابالی پرمبنی رویہ روا رکھا گیاجیسے قیادت عوام کے تمام تحفظات دور کیے بیٹھی ہو۔اتنی بے فکری اپنائی جیسے عوام اسے نوازنے کے لیے بے چین ہو۔اس لاابالی طرز سیاست نے پارٹی کو مختلف ضمنی الیکشن میں جو کول ریسپانس دیا۔اس کے بعد زرداری صاحب کے پاس سوائے اس فقراگروپ کو جوائن کرنے کے اور چارہ ہی کیا بچاتھا۔۔تحریک انصاف اس گروپ کو ایک عرصے سے لیڈ کررہی تھی۔پی پی کی اس گروپ میں شرکت کا جس اندازمیں جیالوں کی طرف سے برا منایا گیاہے۔لگتا نہیں وہ اس گروپ میں زیادہ دیر ٹکی رہ پائے۔عمران خان کے پاس تو اور آپشن نہیں مگر زرداری صاحب کے پاس ابھی بلاول کی شکل میں ترپ کا پتہ ہے۔انہیں بھٹو کا دیا ہوا پارٹی کا ایسا بنیاد ی ڈھانچہ بھی میسر ہے۔جو کسی بھی وقت کمال دکھائے کی استطاعت رکھتاہے۔جس کی نظیر کسی دوسری سیاسی جماعت میں نہیں ملتا۔عمران خاں کے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔ان کی انقلابی اور جنونی سیاست صر ف اس لیے دم توڑ گئی کہ وہ ایشو ز اور اصولوں کی بجائے فقرا گروپ کی پناہ بن بیٹھے۔ان کی ساکھ ان کے قول وفعل میں زبردست تضاد کی نذر ہوگئی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 68236 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jan, 2018 Views: 339

Comments

آپ کی رائے