ملک کے جمہوری نظام میں جمہوری اقدار کے تقاضوں سے تغافل: ایک لمحۂ فکریہ

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
ہو بحر میں آزاد وطن صورت ماہی
آزادی انسانیت کا بنیادی تقاضا ہے ؛ آزادی کا تقاضا انسانی اقدار کا تحفظ ہے۔ ملک انگریزی استبداد سے آزاد تو ہو گیا لیکن فرقہ پرستانہ جراثیم روز بروز ترقی پر ہیں۔ مسلم اقلیتوں سے بد سلوکی روز کا معمول بن گیا ہے۔ جمہوری قدروں کی اِس قدر پامالی تعجب خیزہے۔ ہر روز نیا طوفان؛ ہر روز نئے ہنگامے؛ ہر روز نئی افتاد؛ عقل محوِ حیرت ہے۔ اِسی ملک کے باشندوں پر عرصۂ حیات تنگ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اِسی ملک کے واسیوں کی مذہبی آزادی بلکہ انسانی حقوق کی آزادی مسلسل چھیننے کی کوششیں ہیں۔ جس سے جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی، وہ چاہتا تھا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لایق نہ رہیں۔ اس نے مسلمانوں کے مقابل ہندوؤں کی مدد کی اس لیے مسلمان دونوں طرف سے سازشوں کے شکار تھے، ایسے میں تحریکِ آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کی اسلامی شناخت ختم کرنے اور ایمان کو کم زور کرنے کے لیے ایک تحریک چلائی گئی اور ہندوؤں سے ایسے اتحاد و دِداد پر زور دیا گیا جس کے نتیجے میں شرکیہ مراسم مسلم سوسائٹی میں داخل ہونے لگے۔ ۱۹۲۰ء میں گاندھی کے ایما پر تحریک ترک موالات چلائی گئی، کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت میں اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں۔ اعلیٰ حضرت نے اس کی مخالفت کی اس لیے کہ اسلامی شریعت سے یہ کام غلط تھا، ترک موالات کے نتیجے میں مسلمان معاشی بد حالی کے شکار ہوئے۔ یہاں تفصیل کی گنجایش نہیں، بہر حال اعلیٰ حضرت اور ان کے محبین و تلامذہ نیز مسترشدین نے اس تحریک کی عملی طور پر مخالفت کی۔ علی گڑھ میں ترک موالات کی مخالفت میں ڈاکٹر سرضیاء الدین (وایس چانسلر م۱۹۴۷ء) اور ان کے چند احباب سرگرم عمل رہے۔ اس تحریک کا طوفان مسلم یونی ورسٹی میں بھی داخل ہوا، سید نور محمد قادری لکھتے ہیں:

’’یہ تعلیمی ادارہ ڈاکٹر سر ضیاء الدین مرحوم، مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی اور مولانا سید سلیمان اشرف بہاری (م۱۹۳۵ء، شاگرد اعلیٰ حضرت) کی مساعی جمیلہ سے مکمل شکست و ریخت سے تو بچ گیا، لیکن اپنے دوستوں مثلاً مولانا محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور مولوی محمود حسن کے ہاتھوں اسے گہرے زخم لگے جو بڑی مدت کے بعد جا کر مندمل ہوئے۔‘‘(تقدیم، المبین ص۲۶)

ڈاکٹر ضیاء الدین نے اعلیٰ حضرت کی اسلامی فکر کا احترام کرتے ہوئے ترک موالات کی مخالفت کی اور اپنے دانش مندانہ اقدام سے یونی ورسٹی کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حامیانِ ترک موالات کی کم ظرفی پر علی گڑھ کے فارغ نواب مشتاق احمد خاں اپنا مشاہدہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’ان تین چار ہنگاموں کے بعد مسلمان یہ عام طور پر محسوس کرنے لگے کہ انھوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر اپنا ہی نقصان کیا۔ علی گڑھ میں تعلیمی سال کی بربادی ہوئی، نظم و ضبط متاثر ہوا اور اس سارے دور میں بنارس ہندو یونی ورسٹی پر کوئی آنچ نہ آئی۔‘‘(کاروانِ حیات لاہور ۱۹۷۴ء، ص۸۸)

آخرالذکر اقتباس سے مشرکین کی شاطرانہ ذہنیت کا اندازا بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ انگریز کا اصل دشمن مسلمان تھا، مشرکین پر وہ حد درجہ مہربان تھے، مجاہد آزادی علامہ فضل حق نے لکھا تھا: ’’ہندوؤں میں سے صرف وہ مارے گئے جن کے متعلق دشمن و معاند ہونے کا یقین تھا…… ادھر نصاریٰ نے ماتحت ہندو روسا کو پیغام بھیجا کہ جو شخص بھی (مسلمان) تمہارے علاقہ میں سے گزرے اسے پکڑ لیا جائے۔‘‘(الثورۃ الہندیہ، ص۵۱)

مسلمان آزادی کی لڑائی میں اگر خود کفیل ہوتے تو شاید آزادی کے بعد حکومت میں کچھ وقار ضرور حاصل کر لیتے اور اپنے جمہوری دستوری حقوق کے تحفظ کے تئیں کچھ سعی پیہم کیے ہوتے؛ لیکن ہوا یہ کہ مشرکین سے اتحاد نے مسلمانوں کو کہیں کا نہ چھوڑا، اس دور میں سماجی مصلح اور بے مثال سیاسی تدبر کے مالک اعلیٰ حضرت (م۱۹۲۱ء) نے مسلمانوں کو انگریزوں کے ساتھ ساتھ مشرکوں سے بھی بچنے کی تلقین کی تھی کہ نہ انگریز تمہارے خیر خواہ ہیں نہ مشرک۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمان پنی آنکھیں کھولیں، آزادی کو سات دہائیاں گزر گئیں لیکن مسلمان فرقہ پرستوں کا آج بھی نشانہ بن رہے ہیں اور آزادی سے جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے، منظر نامہ مطالبہ کر رہا ہے کہ مشرکین سے باخبر ہو کر اسلام سے رشتہ مضبوط کر لیا جائے تبھی ہمارا تشخص باقی رہے گا۔ اور ہم آزادی کے ساتھ جی سکیں گے۔

بر کیف ضروری ہے کہ ملک کے دستوری نظام کے استحکام کے تئیں ہم بیدار ہوں۔ اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے کوششیں کریں۔ ملک کو تیزی سے فرقہ وارانہ ماحول کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ بھگوا توا فکر ملکی استحکام میں دیمک کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی مخالفت ضروری ہے۔ اِس لیے بہ حیثیت ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہماری ذمہ داری ہے کہ جمہوری نظام کی بالا دستی کے لیے تگ و دو کریں اور اس کے استحکام کے لیے منظم انداز میں سعی و کاوش کریں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے اور قومی فلاح کے لیے ضروری بھی ہے۔
٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 145620 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jan, 2018 Views: 268

Comments

آپ کی رائے