جمہوری ہندوستان کا مکرو چہرہ!

(Inayat Kabalgraami, )

 آبادی کے لحاض سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہندوستان ہے ، 26کو ہندوستان یوم جمہوریہ کے نام سے مناتا ہے، اس کے ساتھ ہندوستان اس بات کا دعویٰ گیر بھی ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے ۔ 15اگست 1947کو آزاد ہونے والاہندوستان آج بھی ہندو ں مذہبی جنون کا غلام ہے ۔ سب سے بڑے جمہوریت کا دعوائے دار ملک میں ایک ہی مذہب کی امریت قائم ہے ۔

2014 ء کو جمہوری ہندوستان میں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیت پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ نریندر مودی کا ماضی مسلمان دشمنی کے حوالے سے سیاہ کارناموں سے بھرا پڑا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے لئے مودی کا انتخابی بی جے پی کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تھا۔اس وقت ہندوستان کی آبادی ایک ارب پچیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے ، اس میں پچیس کروڑ مسلمان ہیں ۔ اس کے علاوا بیس کروڑ دیگر اقلیت ، سیکھ ، عیسائی ، پارسی وغیرہ وغیرہ موجود ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیت بھی ہندو انتہاپسندوں کے عتاب کا شکار ہیں، خود نچلی ذات کے ہندو بھی انتہا پسندوں کے مظالم سے محفوظ نہیں ہیں۔

روز اول سے ہی ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا آرہاہے ، کشمیر میں ہونے والے مظالم کے ساتھ گجرات میں 2002ء کے مسلم کش فسادات کے علاوہ کئی مثالیں تاریخ موجود ہے ۔ لیکن جب سے ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے مسلمانوں پر ہندو انتہاپسندوں کے مظالم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہیں۔ 2002ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات کے وقت وہاں کے وزیر اعلیٰ بھی نریندر مودی ہی تھے اور آج مسلمانوں کے اپر مظالم میں اضافے کا زمہ دار بھی نریندر مودی ہی ہے ۔

نریندر مودی اور اس کے سوامی یوگی ادیتا ناتھ کی جوڑی نے مسلمانوں پر مظالم کی جو تاریخ رقم کی ہیں ہندستان میں اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملے گی ۔ کچھ عرصہ قبل ہی ہندوستان کے ایک اردو اخبار کی ایک رپورٹ پر نظر پڑھی تھی جس میں لکھا گیا تھا کہ بقرا عید سے کچھ دن قبل ایک 15 سالہ مسلمان لڑکا جس کا نام جنید تھا اپنے اور دو دوستوں کے ساتھ دہلی سے عید کی خریداری کر کے اپنے گاؤں بذریعہ ٹرین واپس جا رہا تھا۔ ان سب د وستوں کا حلیہ ان کے مسلمان ہونے پر دلالت کر رہا تھا۔ سیٹ پر بیٹھنے کے مسئلے پر ڈبہ میں سوار ایک گروہ سے کچھ تکرار ہوئی جو وقفے وقفے سے جاری رہی لیکن زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یہ مذہبی رنگ اختیار کر گئی۔ اس گروہ نے جنید کی ٹوپی، مسلمان ہونے اور گائے کاگوشت کھانے کے طعنے دیئے اور پھر یہ سارا معاملہ زبردست حملے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس گروہ کے لوگوں نے جلد ہی چاقو نکال لئے اور جنید کو بے رحمی سے شہید کر دیا۔ ایک شہری کا اس قدر سفاکانہ اور بہیمانہ قتل ہندوستان کی جمہوریت اور اس کے سیکولر آئین پر ایک بدنما داغ ہے۔ مرکزی یا ریاستی حکومت کے کسی ذمہ دار نے اس واقعہ کی مذمت میں کوئی بیان نہیں دیا اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ اس طرح ہندو ستان میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہو حال میں ہی ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر ہم سب نے ہی دیکھی ہوگی ، جس میں شمبو لال نامی ایک ہندو ایک مسلمان کو مزدوری کے بہانے بولا کر بے دردی سے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا دیتا ہے اور اپنی اس ظلم کو درست عمل قرار دینے کے لئے دیگر ہندووں سے اپیل بھی کرتا ہے کہ وہ بھی ایسا کریں۔

ہندو جنونیت سے بھری نریندر مودی کی حکومت نے وندے ماترم،سوریہ نمسکار اوریوگا کے نام پر بھی مسلمانوں کا مذہبی استحصال شروع کیا ہوا ہیں۔ جب کہ د وسری جانب بی جے پی کے وفاقی و صوبائی قائدین نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے، حتیٰ کہ یہاں تک کہا گیا کہ جو سوریہ نمسکار ( چڑھتے سورج کی عبادت) نہیں کرتا اسے ہندوستان چھوڑ کر چلے جانا چاہئے۔ بی جے پی کے کچھ قائدین جو خود کو سیکولرز ظاہر کرتے ہیں ان کے مطابق یوگا کرنے سے اسلام نے منع نہیں کیا ، ان کا یہ کہنا ہے کہ یوگا ایک قسم کی ورزش ہے جس سے صحت کو فائدہ ملتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی مسلمان ملکوں میں یوگا کیا جاتا ہے تو پھر ہندوستانیمسلمانوں کو ہی یوگا پر کیوں اعتراض ہے؟ مگر یوگا کی حمایت میں بات کرنے والے ان نام نہاد سیکولرز کو اس بات کا علم بخوبی ہوگا کہ کچھ مسلمان ملکوں میں یوگا صرف ورزش کے لئے ہوتا ہے عبادت کے لیئے نہیں مگر ہندوستان میں یوگا عبادت کے تور پر کیا جاتا ہے اس دوران منتروں کا جاپ اور سوریہ نمسکار بھی ہوتا ہیں، اس مذموم پروگرام میں بلاتفریق سارے ہندوستانیوں بشمول مسلم اقلیت کی شرکت پر حکومتی اصرار غیر جمہوری‘ غیر اخلاقی اور اسلام مخالف طرز عمل ہے۔ کچھ ہندوستانی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ سائنس نے نماز کو دنیا کی سب سے بہترین ورزش قرار دیا ہے کیوں نریندر مودی ہندوں کو نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کرتی ؟

2014 ء میں ’’سب کاوکاس‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے نریندر مودی حکومت نے مسندِ اقتدار سنبھالا تھا مگر اس دور حکومت میں مذہبی انتہا پسندی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ مودی حکومت مختلف ہیلو بہانوں سے مسلمانوں کو تنگ کرتی رہتی ہیں ، کبھی گائی کے ذبیحہ تو کبھی تین طلاق اب یوگا اور سوریہ نمسکار ( چڑھتے سورج کی عبادت) کے نام پر جبکہ یوگا میں شامل سوریہ نمسکار اور اشلوکوں پر مبنی منتر پڑھنے کا عمل ہندستانی سیکولر آئین کی روشنی میں ملنے والے بنیادی مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ مودی حکومت کے نمائندے غیر جمہوری بیانات دینے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور گائے کا گوشت کھانے والوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دینا‘ گھر واپسی‘ چار شادیایوں کا تمسخر اُڑانا معمول بن چکا ہے، لیکن وزیراعظم مودی اپنی زبان پر خاموشی کا قفل ڈالے ہوئے ہیں۔ہندستان جو سیکولر اور جمہوری ہونے کا دعوی ٰکرتا ہے ، مگر وہاں مسلمانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے اتنی سفاکی اور بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے کہ انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان باڈی بلڈر نوید پٹھان، جنید اور افراز الاسلام کے اذیت ناک قتل سے ہی جمہوری ہندوستان کا مکرو چہرہ عیاں ہوجاتا ہے ۔

مودی حکومت ایک منظم منصوبے کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کو تنہا اور پریشان کرنا چاہتی ہیں۔ مودی اور اس کی پارٹی کی یہ کوشش ہے کہ ہندستانی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی آواز ختم ہوجائے۔ حالیہ اترپردیش ریاستی انتخابات میں 403 اراکین کی اسمبلی میں صرف 25 مسلمان امیدوار جیت پائے ہیں۔ جب کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد تین کروڑ آسی لاکھ سے بھی زائد ہے۔

قارئین میں اس موقع پر یہ بات اٹھانا ضروری سمجھتا ہوں کہ تقسیم ہند کی بنیاد دو قومی نظریہ ختم ہو گیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ہندو سیاسی جماعتوں کی سیاست کو دیکھتے ہوئے بھانپ لیا تھا کہ یہ ہندو اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیں گے۔ پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اﷲتبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ اس نے ہمیں ایک آزاد ملک دے کر اتنی بڑی نعمت سے نوازا جہاں ہم اپنی مرضی سے کاروبار زندگی اور مذہبی آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس کوپاکستان کی قدر جاننی ہو تو وہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار پر نظر دوڑائیں۔
اﷲ تو ہی ہمیں پاکستان کی قدر نصیب فرما(آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 30 Articles with 11740 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jan, 2018 Views: 499

Comments

آپ کی رائے