ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات ۔۔۔

(Usman Ahsan, Gujranwala)

نیم دانشوروں کا بھی احتساب ہونا چاہئیے

ڈاکٹر شاہد مسعود کے سنسنی خیز دعوؤں کے بعد ہر صحافی اور اینکر نے پتھر اٹھا لئیے اور شاہد مسعود کو سنگسار کرنے پر تیار ہوگئے۔ حالانکہ یہ سب وہ لوگ ہیں جو اپنے پروگراموں میں ڈاکٹر صاحب کو بلا کر ریٹنگ وصول کرتے تھے ۔ بندہ ناچیز اس وقت بھی ڈاکٹر شاھد کا ناقد تھا جب اسکا طوطی بولتا تھا ، میرا اسوقت بھی کہنا تھا کہ یہ شخص ریٹنگ کے لئیے سنسنی سے بھرپور خبریں گھڑتا ہے ۔ کراچی آپریشن کے دوران روزانہ یہ ڈاکٹر چکری کبھی فریال تالپور اور کبھی زرداری کے ریڈ وارنٹ نکالا کرتا تھا ۔ میرا اسوقت بھی کہنا تھا کہ یہ ڈاکٹر جھوٹا ہے بات کرکے گرم گرم توے پر بیٹھ کر مکرنے کا فن جانتا ہے ۔ سوال چنا کرو جواب گھوم پھرا کر گندم دے گا ۔ سنگی ساتھی میری بات کو ماننے سے انکاری تھے ۔ بھلا ہو چیف جسٹس صاحب کا جنھوں نے نوٹس لے کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا ۔ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے بات آگے پہنچا دے ۔ ٣٧ اکاونٹس کا دعوی بغیر تحقیق کے کردیا اور سبکی اٹھائی مگر ایسے لوگ سبکی محسوس نہیں کرتے بلکہ ہٹ دھرم ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹرشاہد مسعود نے غلط خبر دی اور اپنے مبینہ جھوٹے دعووں سے پاکستان کی دنیا بھر میں ہتک عزت کا سبب بنے۔ میرا مستقل طور پر کئی برسوں سے یہ تجزیہ ہے کہ کچھ دانشور حکمرآنوں سے مال و مراعات وصولتے ہیں اور انکی مدح میں قصائد لکھتے ہیں اور کچھ اینکر بیرونی آقاؤں سے مال وصول کر پاکستان کی منفی تصویر کشی کرتے ہیں ، ملک میں افراتفری اور لاقانونیت دکھا کر انویسٹرز یعنی سرمایہ کاروں کو ملک میں آنے سے روکتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کو اس پہلو پر بھی تفتیش کروانی چاہئیے ۔ ٢٧ کروڑ لے کر قصیدہ گوئی کرنے والے کو تو کورٹ نے طلب کیا ہے باقی نیم دانشوروں کا بھی احتساب ہونا چاہئیے ۔

ایسا آخر ہوتا کیوں ہے ؟ کیوں اینکر لمبی لمبی ہانکتے ہیں کیوں انکی گز گز لمبی زبانیں ہیں ؟ اسکی وجوہات میں سرفہرست کرپٹ حکام ، جو خود کرپٹ ہوگا وہ کیسے انکو لگام دے گا یہ جو مرضی سنسنی خیز انکشافات کرلیں جس کی مرضی پگڑی اچھال دیں ۔ دوسرا غیر فعال ادارے بھی اس سبقت لسانی کا سبب ہیں ۔ تیسرا ہتک عزت کے کمزور قوانین ، میرا ماننا ہے کہ اگر برطانیہ جیسے سخت قوانین یہاں ہوں تو اکثر اینکر گونگے ہو جائیں ۔ چوتھا فیکٹر نیم خواندہ تماش بین عوام ، ہم بحثیت قوم تماش بین ہیں ہم ہر اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو اچھا سرکس کرسکے جس کی گز لمبی زبان ہو ، جھوٹ اتنا بولے کہ سچ کا گمان ہو - بے شرمی میں پی ایچ ڈی کی ہو ۔ جھوٹا ثابت ہونے کے بعد بھی روزانہ پروگرام کرے عوام اسے بہت پسند کرتی ہے ۔

خدارا اپنی روش کو بدلو بہت تماشہ دیکھ چکے اب کچھ عقل و شعور کا مظاہرہ کرو جھوٹ کو جھوٹ سمجھو جھوٹے لیڈروں کو آذمانا چھوڑ دو ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Usman Ahsan

Read More Articles by Usman Ahsan: 139 Articles with 106061 views »
System analyst, writer. .. View More
05 Feb, 2018 Views: 371

Comments

آپ کی رائے