چھاپ

(Amjad Siddique, Lahore)

علامہ طاہر القادر ی کی یورپ روانگی سے قبل اپنی رہائش گاہ پر پی پی رہنما قمرالزماں کائرہ سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پر قمرالزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سیاسی حالات کیسے ہی ہوں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے قانون کے دائرے میں رہنے ہوئے مظلوم خاندانون کو انصاف دلانے کی کوشش کریں گے۔علامہ صاحب نے عوامی لیگ کے صدر شیخ رشید کوبھی فون کیا۔علامہ صاحب کا شیخ رشید کو کہنا تھا کہ مجھے اللہ پر کامل بھروساہے کہ ملزم کرکپشن ریفرنسز اور سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عبرت ناک سزا بھگتیں گے۔علامہ طاہر القادری کی بیرون ملک روانگی سے قبل کی یہ مصروفیات ایک طرح سے اپنی ترجیحات کے اعادے کا اظہار تھیں۔علامہ صاحب اپنے ہم خیالوں کو جاتے جاتے پیوستہ رہ شجرسے امید بہار رکھ کا درس دے گئے ہیں۔اس ہم خیال گروپ کو فی الحال اپنا سازو سامان سمیٹنا پڑا ہے۔مگر ان تینوں اکابرین کے یہ روابط ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی جد وجہد ختم نہیں ہوئی۔علامہ صاحب اپنے بیس روزہ دورے کے بعد وطن واپسی پر دوبارہ اس مشقت میں جت جائیں گے۔ان کی عدم موجودگی ایک خلا پیدا کرے گی جو ان کے ہم خیالوں کے لیے شدید قسم کی بوریت کا سبب بنے گا۔جس انتہا ئی رویہ کامظاہرہ علامہ صاحب کرتے ہیں۔باقیوں کے لیے ممکن نہیں۔اس لیے ان کی عدم موجودگی ایک پھیکا پن پیدا کیے رکھے گی۔۔کچھ دوست پارلیمنٹ کے احترام کی زنجیر سے بندھے ہیں۔کچھ قانون کے تقدس کی ہتھکڑیاں لگوائے ہوئے اپنی حد قائم کرچکے۔کچھ آئین کی تقدیس کے مارے محدود ہیں۔علامہ صاحب ان ساری حدود و قیودسے آزاد ہیں۔وہ پارلیمنٹ کو مانتے ہیں نہ قانون کو اور نہ آئین کو تسلیم کرتے ہیں۔ کائرہ صاحب اور شیخ رشید صاحب کے لیے علامہ صاحب کی یہ عدم موجودگی بڑی صبر آزما ہوگی۔

نوازشریف مخالف دھڑوں کا فی الوقت اپنے تلوار یں نیام میں ڈال لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سردست اپنی ہار مان چکے علامہ صاحب کے لیے تو لفظ ہار کا کوئی وجود ہی نہیں مگر شیخ رشید صاحب کے لیے یہ غالبا تیسری شکست فاش ہے۔دھرنا اول کے بعد وہ واشگاف اندازمیں نوازشریف کی جیت کو اقرار کرچکے ہیں۔اس کے بعد دھرنا دوئم کے دوران بھی عمران خاں سے توتکار کرکے حکومتی جیت کو تسلیم کرگئے۔ان کا موقف تھا کہ خاں صاحب کو بنی گالہ سے باہر آنا چاہیے تھا۔جب دھرنا دوئم کی کامبابی کا جشن نہ منایا جاسکاتو شیخ صاحب کی یاس دیکھنے لائق تھی۔سیننٹ الیکشن کے شیڈیول آنے کے بعد شیخ صاحب کو ایک بار پھر ناکامی کا احساس ہواہے۔ تیسری بار وہ اپنے آلات حرب سمیٹنے گھر کو لوٹ رہے ہیں۔علامہ صاحب البتہ اس ہار کے لفظ سے نا آشنا ہیں۔دراصل انہوں نے کبھی کوئی دعوی ہی نہیں کیا۔وہ اپنے مخالفین کو نشان عبرت بنانے کا تو اعلان کرتے ہیں۔مگر ایسا نہ ہوسکنے کی صورت میں وہ خودپر کسی قسم کے تاوان کا اطلاق نہیں کرتے۔شیخ صاحب کا تو تکیہ کلام ہے کہ اگر ایسانا ہواتو میں یہ کردوں گا۔مجھے وہ کہہ لیں۔وغیر ہ وغیر ہ مگر علامہ صاحب اس اگر مگر سے آزاد ہیں۔اپنی زندگی میں غالبا ایک باران کی زبان پھسلی تھی جب کہہ بیٹھے کہ جو کوئی دھرنا چھوڑ کا واپس آئے اس کی گردن اتاردو۔جب کسی احمق نے یاددلایا کہ حضور آپ بھی اگر دھرنا چھوڑکر آگئے تو؟ شیخ صاحب نے کہہ دیا کہ اگر میں بھی دھرنا چھوڑ کر آیا تو میری بھی گردن اتاردینا۔ا س زبانی پھسلن کی علامہ صاحب نے بعد میں بہتیری وضاحت اور تشریح کی مگر آج تک یہ گرد ن اتاردو والی بات ان کے دامن سے چمٹی ہوئی ہے۔علامہ صاحب ان دنوں یورپ گئے ہیں۔ان کا باربار آنا اور لوٹ جانا بھی ان کی طبیعت کا عکاس ہے۔وہ مستقل مزاجی اور مستقل قراری کے لطف سے ناآشنا معلوم ہوتے ہیں۔نہ انہیں کینڈا میں قرارہے۔نہ وطن میں۔کینڈا میں انہیں اپنے پاکستانی معتقدین ستاتے ہیں۔اور یہاں ابھی کچھ روز ہ قیام ہی نہیں ہوپاتاکہ دنیابھر کی اصلاح کا احساس دوبارہ کسی طرف اڑان بھرنے پر اکسادیتاہے۔

ایک چھاپ سی لگ چکی ہے۔علامہ صاحب نے بیسیوں بکھیڑے پال لینے کی عادت کے سبب غیر آسودہ لوگوں کا ایک ہجوم بنا رکھاہے۔وہ نہ سیاست کو وقت دے پارے ہیں۔نہ اپنے مریدین کی تشفی کرپارہے ہیں۔کینیڈا کے چاہنے والے بھی ان کی بار بار آنیاں جانیاں دیکھ کر متفکرہیں۔علامہ صاحب کو اب اس میچورٹی کی طرف آجانا چاہیے جو ان کی عمر کا تقاضہ ہے۔ان کی بحیثیت عالم اور پیر کی بے حد تکریم ہے۔جانے وہ کیوں بار بار سیاست کی دنیا داری میں پڑ کراسے ڈانواں ڈول کردیتے ہیں۔انہوں نے پچاس بار اپنی سیاست کے شروع کرنے اور پھر سمیٹ لینے کا اعلان کیا۔کئی بار الیکشن لڑنے اورکئی بار نہ لڑنے کا موقف اپنایا۔ان کی متلون مزاجی جانے فطری ہے۔یا کسی طرف سے بنوائی جاتی ہے۔پچھلے دس بارہ سالوں نے علامہ صاحب کی شخصیت کو وہ چھاپ دی ہے۔جو ان کے کینیڈا اور پاکستان دونوں کے معاملات کو تہس نہس کرچکی۔غیرواضح منشور حیات کی یہ چھاپ تب تک چمٹی رہے گی۔جب تک علامہ صاحب بیسیوں کشیوں کی سواری کی عادت ترک نہ کریں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65976 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2018 Views: 233

Comments

آپ کی رائے