تاریخ تحریک آزادی کشمیر

(Hanzala Ammad, )

جموں و کشمیر جسے جنت ارضی بھی کہا جاتا ہے تقریباً 48,471 مربع میل پر پھیلی ہوئی ریاست ہے۔ یہ علاقہ براعظم ایشیاء کے تقریباً وسط میں اور برصغیر کے شمال میں واقع ہے۔ اس مناسبت سے اسے ایشیاء کا دل اور برصغیر کا تاج بھی کہتے ہی۔ جغرافیائی اعتبار سے اس نہایت اہم خطے کے شمال میں سابق سوویت یونین کی ریاست تاجکستان جو کہ اب آزاد اسلامی ملک ہے اور چین کا علاقہ سنکیانگ ہے۔ اس کے مشرق میں تبت، جنوب میں بھارت ، جنوب مغرب میں پاکستان اور مغرب میں افغانستان واقع ہے۔ اگر داخلی طور پردیکھا جائے تو ریاست جموں و کشمیر تین طبقات پر مشتمل ہے۔ بقول چراغ حسن حسرت پہلی منزل جموں، دوسری منزل وادی کشمیر اور تیسری منزل بلتستان ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ لداخ اور بائیں ہاتھ گلگت کا علاقہ ہے۔

خطہ کشمیر ماضی میں بدھ مت کا مرکز رہا جبکہ مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ آٹھویں صدی عیسوی میں برصغیر پر مسلمانوں کے حملے کے بعد شروع ہوا۔ پہلی اسلامی حکومت کا آغاز چودھویں صدی کے آغاز میں اس وقت ہوا جب بدھ مت کے حکمران رنچن شاہ نے اسلام قبول کیا اور اسلامی نام صدر الدین اختیار کیا۔ پہلی باقاعدہ اسلامی حکومت کی بنیاد شاہ میر نے رکھی جو بعد میں سلطان شمس الدین کے لقب سے تخت نشین ہوا۔اس خاندان نے کشمیر پر لمبا عرصہ حکومت کی اور کشمیر کو اسلامی تشخص میں رنگ دیا جو آج تک کشمیر کی پہچان ہے۔

اس خاندان کے بعد 1555ء میں ایک اور مسلمان خاندان ’’چک‘‘ کی حکمرانی قائم ہوئی لیکن یہ خاندان اپنے اختلافات پر قابو نہ رکھ سکا چنانچہ صرف 31 برس بعد ہی 1586ء میں مغل بادشاہ اکبر نے کشمیر کو سلطنت مغلیہ کا حصہ بنا لیا۔ جب مغلیہ سلطنت روبہ زوال ہوئی تو احمد شاہ ابدالی کے پنجاب پر حملوں کے دوران 1752ء میں کشمیر افغانوں کے قبضے میں چلا گیا جو 1819ء تک قائم رہا۔ 67 برس پر محیط اس عہد کے بعد کشمیر پر رنجیت سنگھ کی فوجوں نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور یوں کشمیر پر سکھوں کا تسلط قائم ہو گیا۔ سکھوں کا یہ عہد کشمیر کی تاریخ میں ظلم و سربریت کا سیاہ دور ہے۔ سکھ کشمیریوں سے نفرت کرتے تھے اور ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے تھے۔ اگر کوئی کشمیری کسی سکھ کے ہاتھوں قتل ہو جاتا تو قاتل کو صرف 16 سے 20 روپے تک جرمانہ کیا جاتا تھا۔ جس میں سے مقتول کے ورثاء کو 2 روپے ادا کر کے بقیہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی جاتی تھی۔

1842ء میں جب سکھوں کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو 9 مارچ1842ء کو فریقین میں معاہدۂ لاہور طے پایا۔ اس کے تحت کشمیر کا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے چند روز بعد اپنے ایک وفادار گلاب سنگھ ڈوگرہ کو 75لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض فروخت کر دیا۔ اس سلسلے میں ایک معاہدہ انگریزوں اور گلاب سنگھ ڈوگرہ کے درمیان بھی طے پایا جس کے تحت وادی کشمیر اور اردگرد کے علاقے اپنی آبادی اور تمام اسباب و وسائل کے ساتھ گلاب سنگھ ڈوگرہ کے حوالے کر دیے گئے۔ اسے ’’معاہدۂ امر تسر‘‘ کہا جاتا ہے۔
اقبال نے اس انسانیت سوز واقعہ کو یوں بیان کیا ہے:
دہقاں و کشت و جوئے و خیابان فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

ہر کشمیری کو صرف 7 سکوں کے عوض ڈوگرہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا جبکہ زمین رشک فردوس بریں 155 روپے فی مربع میل کے حساب سے پڑی۔ ڈوگرہ حکمران بھی اپنے پیشروؤں کی مانند مسلمانوں سے بے انتہا تعصب رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ دوپہر سے پہلے مسلمانوں کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو دوپہر سے پہلے کسی ڈوگرہ حکمران کے سامنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ اس دور میں بھی مسلمانوں نے اس ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی کہ جب مساجد کو اصطبلوں اور بارود خانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور اذان دینے اور خطبہ پڑھنے پر پابندی تھی۔ پونچھ کے مسلمان لیڈروں سردار سبز علی خان اور ملی خان کی کھالیں زندہ ہی اتروا دی گئیں، محض اس جرم میں کہ وہ ڈوگرہ حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف مزاحمت کرتے تھے۔

انھی مظالم کے باعث 1929ء میں سرینگر میں شیخ عبداﷲ نے ریڈنگ روم پارٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اسی زمانے میں جموں میں چودھری غلام عباس، اے آر ساغر اور دیگر چند ساتھیوں سے مل کر ’’ینگ مینز ایسوی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ینگ مینز نے بھی مسلمانوں کے حقوق کے لیے خاطر خواہ جدوجہد کی لیکن یہ دونوں تحریکیں تحریک آزادی کا روپ نہ دھار سکیں۔

1931ء میں بریلی کے علاقے میں ایک مسجد شہید کر دی گئی اور ایک پولیس اہلکار نے جان بوجھ کر قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ ان واقعات سے مسلمانوں میں غم و غصہ پھیلنے لگا اور وہ اس کا اظہار سڑکوں پر مظاہروں کی صورت میں کرنے لگے۔ پولیس نے بہت سے مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ جب ان کا مقدمہ عدالت میں چلا تو بہت سے مظاہرین عدالت کے باہر جمع ہوئے اور کارروائی سننے پر زور دیا۔ پولیس نے ان مظاہرین پر گولی چلائی اور یوں 13 جولائی 1931ء کو 27 افراد شہید اور بے شمار زخمی ہوئے۔ ان واقعات کی خبر ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گئی اور مسلمانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ انھی حالات کے باعث کشمیر کے مسلمانوں میں اتحاد کی فضا ابھری اور 14 اگست 1931ء کو پہلی بار جموں میں کشمیر ڈے منایا گیا۔

یہ بھی حسن اتفاق تھا کہ ٹھیک 16 سال بعد اسی دن پاکستان آزاد ہوا۔ بہرحال ان واقعات کے ہندوستان بھر میں پھیلنے کے بعد مسلمانوں میں اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کا جذبہ شدومد سے پیدا ہواجو کہ آج بھی زندہ ہے۔ اس وقت اکتوبر1931ء میں پورے پنجاب میں چلو چلو کشمیر چلو کی صدائیں گونجنے لگیں۔ اس موقع پر برطانوی حکومت نے مداخلت کی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کو روکنے کا کہا گیا۔ یوں یہ تحریک بھی تحریک آزادی کی مکمل شکل نہ اختیار کر سکی۔ انھی دنوں 1933ء میں سرینگر پتھر مسجد میں جموں و کشمیر ’’مسلم کانفرنس‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔

یہ تحریکیں اگرچہ تحریک آزادی کی شکل اختیار نہ کر سکیں لیکن اس کے باوجود ان تحریکوں کے باعث مسلمانوں میں ایک بیداری کی لہراٹھی تھی اور وہ منظم ہو رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر ہندوؤں کو شدید تکلیف ہوئی چنانچہ انھوں نے بھی ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کو کشمیر میں دعوت دی کہ وہ یہاں اپنے اڈے قائم کرے۔ چنانچہ 1934ء میں آر ایس ایس نے اپنا کام شروع کر دیا اور جابجا اس تنظیم کے مراکز کھل گئے۔ یہ مراکز بظاہر ورزش گاہ اور اکھاڑے کی مانند تھے کہ جہاں ہندو نوجوان جسمانی ورزشیں کرتے تھے لیکن درحقیقت یہ ریاست کی ہندو اقلیت کو مسلمانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے جنگی تربیت فراہم کرنے کے مراکز تھے۔ یہی مراکز بعد ازاں مسلمانوں کے خلاف منظم مظالم اور قتل عام کے لیے استعمال کیے گئے۔

ایک طرف وادی کشمیر میں ڈوگرہ رائے کے خلاف کاوشیں جاری تھیں جبکہ دوسری طرف ہندوستان بھر میں تحریک آزادی کو ایک نیا رخ مل چکا تھا۔ علامہ محمد اقبالa کی طرف سے ایک الگ وطن کا نظریہ پیش کیا جا چکا تھا۔ برصغیر میں جوں جوں مطالبہ پاکستان زور پکڑتا گیا ریاست میں بھی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کی حیثیت سے مسلم کانفرنس کا پلہ بھی اسی رفتار سے بھاری ہوتا گیا۔

3 جون 1947ء میں جب تقسیم ہند کا فارمولا منظور ہوا تو برصغیر کی 562 ریاستوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی جغرافیائی اور معاشیاتی حقائق کے پیش نظر اپنی اپنی آبادی کی خواہشات کے مطابق بھارت یا پاکستان سے الحاق کر لیں۔ ریاست جموں و کشمیر کی 80 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اس کی 600میل لمبی سرحدپاکستان سے ملتی تھی۔ ریاست کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گزرتی تھی اور بیرونی دنیا کے ساتھ ڈاک اور تار کا نظام بھی پاکستان سے جڑا تھا۔ ریاست کی دونوں پختہ سڑکیں راولپنڈی اور سیالکوٹ سے گزرتی تھیں۔ ان سب حقائق کے پیش نظر ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق لازمی طور پر ایک قدرتی اور منطقی فیصلہ ہونا چاہیے تھا لیکن مہا راجہ ہری سنگھ اور کانگریسی لیڈروں کے عزائم اس فیصلہ کے بالکل برعکس تھے۔ مقاصد کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے انھوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مل کر سازش کا جال بنا جس کے پھندے میں مقبوضہ ریاست کے بے بس اور مظلوم باشندے آج تک بری طرح گرفتار ہیں۔

جب 14 اگست 1947ء کو تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا تو ریڈ کلف نے و اضح طور پر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور ناانصافی پر مبنی کئی فیصلے کیے۔ ان سب میں وادی کے حوالے سے اہم یہ تھا کہ گور داسپور کا علاقہ جو مسلم اکثریت کا حامل تھا اسے بھارت کے ساتھ شامل کر دیا گیا تاکہ بھارت کو ریاست تک پہنچنے کا زمینی راستہ دیا جا سکے۔ مہاراجہ بھی پہلے ہی یہ سازباز کانگریسی لیڈروں کے ساتھ کر چکا تھا۔ لیکن اس بات کی خبر جب غیور کشمیری باشندوں کو ہوئی تو انھوں نے طے کیا کہ وہ ڈوگرہ راج سے لڑیں گے اور ریاست کا الحاق پاکستان سے کروائیں گے۔ لیکن ا س سے قبل ڈوگرہ فوج نے صوبہ جموں میں مسلمان اکثریت کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور مسلمانوں کے قتل عام اور ریاست بدری کا طریقہ کار اپنایا گیا۔ چنانچہ اس وقت جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور بہت سوں کو اغوا کر لیا گیا۔ بہت سی عورتیں جنھیں پاکستان لے جانے کا کہہ کر ٹرکوں میں بٹھایا گیا، وہ آر ایس ایس کے غنڈوں کے حوالے کر دی گئیں۔ جنھوں نے ان کی عصمت دری کی اور بعد ازاں انھیں قتل کر دیا۔ یوں جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔

جموں کے بعد مہاراجہ کو پونچھ کی فکر سوجھی۔ پونچھ میں 95 فیصد مسلمان تھے۔ یہاں بہت سے ریٹائرڈ فوجی بھی تھے۔ ان تک جب مسلمانوں کے قتل عام کی اطلاع پہنچی تو یہ فوراً لڑنے کا تیار ہو گئے۔ یہاں سردار عبدالقیوم نے دھیر کوٹ سے گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ وادی کے لوگوں نے عورتوں او ربچوں کو پاکستان منتقل کرنا شروع کیا اور خود سر پر کفن باندھ کر ڈوگرہ فوج سے لڑنا شروع کر دیا۔ چنانچہ راولاکوٹ، وادی جہلم اور بہت سے علاقوں سے ڈوگرہ فوج فرار ہو گئی۔

کشمیر کے لوگوں کی رشتہ رادیاں افغانوں اور پٹھانوں کے محسود اور دیگر قبائل سے تھیں۔ عورتیں اور بچے جب وہاں پہنچے تو ان پر ظلم کی داستانیں سن کر ان کے خون کھول اٹھے۔ چنانچہ ان علاقوں سے لشکروں کے لشکر کشمیر کی طرف روانہ ہوئے۔ چنانچہ چند ہی دنوں میں مظفر آباد اور ایبٹ آباد کے درمیان ہٹ راوی کے جنگل میں ایک بڑا لشکر جمع ہو گیا۔ خورشید انور نے اس لشکر کی کمان سنبھالی اور انھوں نے ڈوگرہ فوج سے لڑنا شروع کیا۔ چنانچہ مظفر آباد، کوٹلی، راولاکوٹ اور موجودہ آزاد کشمیر کو نہ صرف ڈوگرہ بلکہ ہندوستانی فوج سے بھی آزاد کروا لیا گیا۔ کیونکہ مہاراجہ اس وقت بھارت فرار ہوچکا تھا۔اس نے بھارت سے مدد مانگی تھی۔ بھارت نے اس شرط پر مدد فراہم کی کہ وہ الحاق کی دستاویزات پر دستخط کر ے۔ مہاراجہ نے فوراً حامی بھر لی چنانچہ بھارتی فوجیں بھی سرینگر اور وادی کے دیگر حصوں میں پہنچنا شروع ہو گئیں تھیں۔

یوں جو حصہ مجاہدین نے آزاد کرواا لیا وہ آزاد کشمیر کہلایا جبکہ باقی ماندہ کشمیر پر بھارت نے اپنا غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ چونکہ بھارت اپنی گھناؤنی کارروائیوں سے واقف تھا سو اس نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق محض عار ضی اور وقتی ہے۔ الحاق کا حتمی فیصلہ جموں و کشمیر کے باشندوں کی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدازنہ رائے شماری کے ذریعے کرا یا جائے گا۔ اس بات کا اعلان پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ میں بھارت کی طرف سے دائر کردہ جنگ بندی کی اپیل منظور کر لی گئی اور بھارت نے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کی کہ کشمیر کا فیصلہ استصواب رائے سے کیا جائے گا اور انھیں حق خودارادیت دیا جائے گا۔ یوں 15اگست 1948ء کو اقوام متحدہ میں قرار داد حق خود ارادیت منظور کی گئی لیکن بھارت آج تک اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے اور مسلسل عذر تراشیوں بلکہ ہٹ دھرمی سے کام لے رہا ہے۔

تقسیم ہند کے بعدبھی کشمیریوں نے اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھا اور اس میں حالات کے مطابق عروج و زوال آتے رہے۔ 1966 ء میں محمد مقبول بٹ نے نیشنل لبریشن فرنٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد بھی کشمیریوں کو آزادی دلوانا تھا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی جہت ملی۔ یہاں بھی گوریلا جنگ کا آغاز ہو ااور بہت سے مسلح آزادی کی تنظیمیں وجود میں آئیں اور1990ء میں تحریک آزادی کشمیر میں بہت تیزی آئی۔ دوسری طرف بھارت سرکار اور فوج نے اس تحریک کو دبانے کے لیے ہر طرح کے مظالم اختیار کیے اور ہلاکو و چنگیز خان کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ 1999ء میں جب کارگل کے مقام پر جنگ چھڑی تب بھی مسئلہ کشمیر حل ہونے کے قریب تھا لیکن بھارت نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی دہائی دی جس کو پاکستان نے مان لیا اور یوں تب بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہو سکا۔

9/11 کے بعد جب دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا آغاز کیا گیا اور امریکہ افغانستان میں آیاتو بھارت نے خطے میں اس کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے اقدامات کیے۔ جس کے باعث تحریک آزادی کشمیر کمزور ہوئی لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہ کی جا سکی۔ اس کے مظاہر وقتاً فوقتاً ہمیں دیکھنے کو ملتے رہے۔

آج بھی کشمیریوں کے حوصلے اسی طرح بلند ہیں اور بھارت سے حد درجہ بیزاراور آزادی کے اسی قدر متوالے ہیں جس قدر ان کے آباؤ اجداد تھے۔ اس کی واضح مثالیں کشمیر میں بھارتی افواج پر ہونے والے حملے اور بھارت کے یوم جمہوریہ کو ایک بار پھر یوم سیاہ کے طور پر منانے جیسے اقدامات ہیں۔ اسی طرح 5 فروری کو دنیا بھر میں کشمیریوں اور اہل اسلام نے مظاہروں، جلسے جلوسوں کے ذریعے کشمیر سے یکجہتی کا ثبوت دیا۔ کشمیریوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم ہر صورت بھارت سے آزادی حاصل کر کے رہیں گے اور پاکستان سے الحاق ہی کشمیریوں کی منزل ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hanzala Ammad

Read More Articles by Hanzala Ammad: 101 Articles with 35315 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2018 Views: 522

Comments

آپ کی رائے