کشمیر میں خاندان پانڈواں کی حکومت۔۔۔۔ایک نظر میں

(Amir Jahangir, )

راجہ دیال گونند کی وفات کے بعد عملاً اوکنند خاندان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ 3036ق م کو پانڈواں خاندان کے چشم و چراغ ہرن دیونے تخت نشین ہوکر کشمیر پر پانڈواں خاندان کی حکومت قائم ہوئی۔ دراصل ہرن دیو ، ارجن دیو کی نسل میں سے تھا ۔ اپنے بھائی’’ خیمہ جے ‘‘کے بادشاہ بننے پر ناراض ہوا اور اس کے خلاف علم بغاوت بلندکر دیا۔لیکن مقابلہ کی سکت نہ رکھنے کے باعث ساتھیوں کے ہمراہ کوہستان چمبہ کی گھاٹیوں کی طرف چلا گیا۔ وہاں موجود ایک فقیر سے ملا اور دنیا سے بے زار ہو کر اس فقیر کی عرصہ دراز تک خدمت کرتا رہا ایک دن فقیر نے اس کے حسن اخلاق اور خدمت سے متاثر ہو کر اس کو کامیابی اور کامرانی کی خبر دیتے ہوئے کشمیر کی طرف روانہ کر دیا ۔ کشمیر آ کر دیال گونند کی حکومت میں ملازمت اختیار کی اور حسن اخلاق اور بے باکی کے باعث خوب شہرت پائی ۔ فقیر کی پیشن گوئی کی خبر اس کے ذہن میں آئی تو اس سے ایک دن ساتھیوں کے ہمراہ دیال گونند کو قتل کر کے علم خود مختاری بلند کیا اور مخالفین کو سخت ہزیمت پہنچائی اور اس طرح کشمیر کا حکمران بن گیا۔اس طرح خاندان پانڈواں کی 3036ق م کوکشمیرپر حکومت کی بنیادپڑی۔ اور اس خاندان نے کشمیر پر 994سال تک حکومت کی ۔

ہرن دیو نے عدل و انصاف سے حکومت کی اور تمام رعایا اس کی گرویدہ ہوگئی ۔ اپنی حکومت کی بنیادیں اتنی مضبوط کر دیں کہ اس کے جانشینوں نے عرصہ تک عیش و آرام سے حکومت کی ۔ 30سال تک حکومت کرنے کے بعد 3006ق م کو ہرن دیو وفات پا گیا ۔ ہرن دیو کی وفات کے بعد اس کا بیٹا رام دیو کشمیر کا حکمران بنا ۔ رام دیو نے 3006ق م میں تخت نشین ہو۔ا رعایا کو آسودہ حال کرنے کے لیے آمدنی کے چھٹے حصہ کے بجائے دسواں حصہ بطور خراج مقرر کیا ۔ انتظام ملک چلانے کیلئے پہلی دفعہ باضابطہ طور پر قواعد و ضوابط تشکیل دیئے اور امن و امان قائم کیا ۔ تعمیرات کا شوقین تھا کریوہ پٹن پر بابل نام کا عالیشان شہرآباد کیا ۔ کشمیر میں پہلی مصنوعی نہر کو ہستان وچھن پارہ سے شہر مینو سودا میں جاری کی ، مندر مار تنڈی شور بنوایا ۔ اس مندر کی تزین و آرائش دیکھ کر اس کی عظمت و شان دلچسپی کا اندازہ ہوتا تھا ۔ یہ کشمیر کا پہلا حکمران راجہ تھا جس نے ملکی ترقی و بھلائی اور عوام الناس کی بہبود و آسائش کے لیے کام کیا۔

رام دیوکے دل میں تعمیرات اور ایک مستحکم حکومت کے بعد تسخیر ممالک میں خواہش پیدا ہوئی ۔ ایک لشکر جرار تیار کیا اور پھر جدھر جانا نصرت و فتح کے جھنڈے گاڑ دیتا۔ کابل ، پنجاب ، اور ملتان تک ،قنوج ، مالوہ ، بیجانگر ، کوہستان، شوالک ، کمائیوں ، نگرکوٹ، بنکوٹ، درگاہ مندر، قلعہ جموں ، مالوف، ہندوستان اور بنگالہ کو اپنی مفتوحات میں شامل کیا ۔ کہاجاتا ہے کہ اس نے تقریباً 500راجاؤں کو اپنا مطیع بنایااورواپسی پر کشمیر میں ایک جشن کا انتظام کیا اور مال غنیمت عوام الناس میں تقسیم کیا ۔ پنڈت رتناگر کے مطابق رام دیو اولو العزمی ، کریم ا لنفسی اور سخاوت میں خوب ممتاز تھا ۔ صدقہ خیرات کرتا تھا۔ اور سادھوں کی خدمت میں سرگرم عمل رہتا تھا ۔

دوسادھو ( ہارو سوامی ، مارو سوامی ) جو رام دیو کو علاقہ سلہدہ سے ملے تھے کو اپنا مشیران خاص مقرر کیا ۔ ان ہی کی راہنمائی میں فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ان دونوں کی بہت عزت کرتا تھا ۔لوگ ان دونوں کو دیوتا مانتے تھے وہ اچانک غائب ہو جاتے اور کچھ عرصے بعد واپس سامنے آ جاتے ، ان سے بہت متاثر تھا اور ایک دن اچانک رام دیو نے 69سال کی جاہ و جلال والی حکومت ترک کرتے ہوئے 2937ق م کو اپنے بیٹے بیا سدیو کے سر پر تاج حکومت رکھتے ہوئے تارک الدنیا ہو گیا ۔ چشمہ بون پر آباد مندر پارٹی شور پر جا بیٹھا اور ایک دن اچانک غائب ہو گیا اور اس کے بعد ہارو سوامی ، مارو سوامی بھی نہ نظر آئے اور کہا جانے لگا کہ تینوں رفیق ایک ہی وقت میں غائب ہوئے تھے ۔

راجہ بیاسدیو نے حکومت سنبھالتے ہی عدل و انصاف کی حکومت قائم کی ۔ اس کا اہم کارنامہ یہ تھا کہ اس نے سرکاری طور پر تعلیم کا سلسلہ سب سے پہلے متعارف کروایا ۔ وید کی تعلیم کے لیے مدارس قائم کروائے اور پنڈتوں کو بلایا ۔ لوگوں کے دلوں میں علم و ہنر کا شوق پیدا کیا ۔ پانڈواں خاندان کے راجاؤں کو تعمیرات کا شوق میراث میں ملاتھا ۔ اس نے شہر بابل کی مرمتی اور تجدید کروائی ، مصنوعی نہر کے اختتام پر تالاب بنواکر پانی جمع کیا ۔ فوجی طاقت میں اضافہ کیا ۔ امن و امان کے لیے جدید قوانین متعارف کروائے ۔ ملکی معاملات سے فارغ ہو کر فقیرانہ لباس میں منادر کے درشن کے لیے نکل گیا۔ والئی مارواڑ کی دختر گلابوں کے سوئمبر کی رسم میں فقیرانہ لباس میں ہی پہنچ گیا ۔ گلابوں نے اپنی قسمت اس سے جوڑ دی تو بیاسدیو اس کو لے کر واپس کشمیر آیا اور ساتھ ایک ہزار مورتی مہادیو ساتھ لا کر مارٹنڈ اور شورکے منادر کو مورتیوں سے مزین کیا ۔ 56سال تک کشمیر پر حکمرانی کے بعد 2881ق م میں طبعی موت مرگیا ۔

راجہ بیاسدیو کی وفات کے بعد اس کا بیٹا راجہ درنا دیو2881ق م کو کشمیر کا حکمران بنا ، یہ انتہائی سادہ لباس اور غریب پرور تھا، باپ کے مندر کے دورازے پر بیٹھ کر لوگوں کی داد رسی کرتے ہوئے انصاف کا بول بالاکرتے ہوئے امن و امان کو اس قدر فروغ دیاکہ اس کے دور میں سوداگر اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر جاتے تھے ۔ فقیرانہ خیالات کا آدمی تھا اس کا مشہو ر قول ہے کہ ـ’’ــہزار ریاضت اور پرستش سے ایک مظلوم کی چارہ جوئی بہتر اور افضل ہے ـ‘‘۔

راجہ درنا دیو ساری عمر رعایا کی خدمت میں رہا اور اس کی بیوی ’’رانی مارگی دیوی‘‘ نے کوٹھیر کے مقام پر مندر مارگی شو ر تعمیر کر ا کے اپنے شوہر کی حسین یاد چھوڑی۔ آخر کار کار یہ امن پسند حکمران 58برس کشمیر پر حکمرانی کرنے کے بعدرعایا کے دلوں میں داغ حسرت کا محکم نشان چھوڑ کر طبعی موت مراتھا۔

راجہ درنا دیوکی موت کے بعد اس کا بیٹا سہم دیو 2823ق م کو کشمیر کا حکمران بنا۔راجہ سہم دیو ایک عادل حکمران تھا۔ اس راجہ کے دور میں خاص بات یہ تھی کہ اس کے دور میں کشمیر کی آبادی میں اضافہ ہوا۔راجہ سہم دیو نے اپنے نام سے’’ موضع سہم پور‘‘اورکئی منادر بھی تعمیر کروائے۔عدل و انصاف کا اس حد تک دلدادا تھا کہ اپنے چچا زاد بھائی کو انصاف کی خاظر خود قتل کروا دیا۔ راجہ سہم دیو عدل و انصاف سے54سال حکومت کرنے کے بعد2769ق م کو فوت ہو گیا۔

راجہ سہم دیو کی وفات کے بعد اس کا بیٹا راجہ گوپال دیو حکمران بنا۔گوپال دیو پیرانہ سالی میں حکمران بنااس کی خوش قسمتی تھی کی ایک چست و چالاک وزیر ’’ششوپال‘‘مل گیا۔اس وزیر نے بڑی خوش اسلوبی سے امور مملکت کو چلایا۔اس دور میں ختن کے راجہ نے کاشغر پر حملہ کرتے ہوئے قبضہ کیا۔ راجہ گوپال دیو نے یہ خبر سن کر اپنے وزیر کو راجہ ختن پر حملہ کا حکم دیا ۔ اس معرکہ میں راجہ گوپال دیو اور اس کی فوج دونوں مارے گئے۔اس دکھ میں کچھ ہی عرصہ بعد راجہ گوپال دیو 13سال تک کشمیر پر 2756ق م تک حکومت کرنے کے بھی فوت ہو گیا۔

راجہ گوپال دیو کی وفات کے بعد اس کا بھائی وزیا نند 2756ق م کو کشمیر کا حکمران بنا۔ملکی معاملات کو بہتر کرنے کے بعد بھائی کے وزیر کا انتقام لینے کی غرض سے فوج تیار کرتے ہوئے راجہ ختن پر حملہ آور ہوا ۔ختن اور کاشغر دونوں کو فتح کر کے کشمیر کی سرحدی حدود میں وسعت دی۔راجہ وزیا نند نے اپنے نام سے ایک مندر’’وزیا ایشری‘‘تعمیر کروایا۔اس مندر کی اونچائی 300گز تھی جس کو ایک مصنوعی گاؤکش مقناطیس سے معلق ہے۔وزیانند 25سال تک عدل و انصاف سے حکومت کے بعد 2731ق م کو انتقال کر گی۔

راجہ وزیا نند کی وفات کے بعد گوپال دیو کا بیٹاسکھ دیو 2731ق م کو کشمیر کے مسند حکومت پر بیٹھا۔ابتداء میں سکھ دیو نے کشمیر کی سرحدی حدود میں اضافہ کرنے ہوئے ترکستان اور ملتان کو کشمیر کا حصہ بنایا۔بعد میں یہ راجہ عیش وعشرت میں مبتلا ہو گیااور اپنے چچا زاد بھائی رامانند کو اپنا وزیر خاص مقرر کر دیا۔راما نند نے بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔جس کی وجہ سے مختلف باجگدازراجاؤں نے سر کشی کی۔راجہ چتراؤتھ والئی دہلی نے خودمختاری کا اعلان کیا۔کوہستان بھی ہاتھ سے نکل گیا۔کشمیر کے اندرانی حالات بھی خراب ہو گئے تھے۔ راما نندنے سکھ دیو کو شکار کے موقع پر کوہستان امرناتھ میں گرفتار کرتے ہوئیدریائے لمبو دری میں غرق کر دیا۔یو ں سکھ دیو کی حکومت کا 44سال کے بعد 2687ق م کو خاتمہ ہوا۔

سکھ دیو کے قتل کے بعد راجہ رامانندنے انتظام حکومت2687ق م کو سنبھالا۔امن و امان سے حکومت کرنے کے بعد شاہی خزانہ کو مستحکم کرنے کے لیے دسواں حصہ خراج کے بجائے پانچواں حصہ مقرر کیا۔جموں اورکوٹ نگرکے راجاؤں کو اپنا مطیع بناتے ہوئے سلطنت کو وسیع کیا۔ایک مستحکم حکومت کی بنیاد رکھتے ہوئے57برس کے بعد 2630ق م کو انتقال کر گیا۔

راما نند کی وفات کے بعد اس کا بیٹا سندیمان نے حکومت سنبھالی۔یہ اعلی درجہ کا مدبر حکمران تھا۔عالی شان عمارتیں اور پر فضاء مقامات تعمیر کروئے جس کشمیر کے حسن میں مزید اضافہ ہوا۔راجہ سند مت نے اپنے نام سے دریائے بہت(جہلم) کے دونوں اطراف میں ’’کھوئی ہامہ‘‘کے مقام پر ’’سندمت نگر‘‘تعمیر کروایا۔سندیمان نے کشمیر میں 21خوبصورت منادر تعمیر کروائے۔ مندر ’’ ز شٹی شور‘‘جس کے آثار شنکر اچاریہ کی پہاڑی پر اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔مسلمان اس مندر کو تخت سلیمان بھی کہتے ہیں۔تعمیر و ترقی کے بعد امن وامان کے بعد تسخیر ممالک کے شوق میں نکل پڑا۔ہندوستان کے مختلف علاقوں کو تخت و تاراج کرتا ہوا کابل اور قندھار تک جا پہنچا۔قندھار کے راجہ نے جب سندیمان کی آمد کی خبر سنتے ہی امن کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے اپنی بیٹی ’’پابتی دیوی‘‘کو راجہ سندیمان کے عقد میں دے دیا۔راجہ اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر سب کچھ بھول گیا اور واپس کشمیر لوٹنے کا فیصلہ کیا۔بد قسمتی سے واپسی پر دریا اٹک عبور کرتے ہوئے’’پابتی دیوی‘‘ دریا برد ہو گئی اور اس بات کا راجہ سندیمان کو شدید صدمہ ہوا اور بے زار ہو گیا۔اس خبر پر راجہ قندھار نے اپنی دوسری بیٹی جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھی کو راجہ سندیمان کے عقد میں دی۔راجہ تمام غم بھلا کر امور مملکت میں مشغول ہو گیا۔لیکن اس کے بعد اس کی زندگی نے وفا نہ کی اور 65سال تک حکومت کرنے کے بعد 2065ق م کو خالق حقیقی سے جا ملا۔

راجہ سندیمان کی وفات کے بعد اس کا بیٹا مرہن دیوحکمران بنا۔مرہن دیو نے حکومت سنبھالتے ہی اپنے چھوٹے بھائیکامن دیو کو ابنا نائب مقرر کیا۔مرہن دیو ایک عادل حکمران تھاجبکہکامن دیو ایک سخت طبیعت کا مالک تھا۔دونوں بھائیوں کے درمیان اختلاف ہواتو کامن دیو نے طبل جنگ بجا دیا۔مرہن دیو شفقت برادری میں اپنے بھائی کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا لیکن ناکام رہا۔کامن دیو نے قتل وغارت کرتے ہوئے کشمیر کے مغربی حصہ پر قبضہ کرتے ہوئیایک آزاد اور خود مختار حکومت کی بنیاد رکھی۔اس علاقہ کو کامن راج(کامراج)کا نام دیا۔اور شرقی حصہ پر مرہن دیو کی حکومت کی وجہ سے مرہن دیو(مراج) کا نام دیا۔مرہن دیو نے عدل وانصاف سے حکومت کی اور کامن دیو نے ظلم وستہ کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ مرہن دیو 55سال کشمیر پر عدل و انصاف سے حکومت کر کے2510ق م کو فوت ہوا۔

مرہن دیو کے بعد اس کا بیٹا چندر دیوتخت نشین ہوا۔ان دنوں کامن دیو عذاب الہی کے باعث موذی مرض میں گرفتار تھا۔چندر دیو نے موقع پا کر حملہ کیا اور کامن دیو اور اس کی اولاد کو گرفتار کر کے قتل کردیا۔اس طرح تمام کشمیر پر صرف ایک حکمران رہا۔کچھ عرصہ بعد یہ راجہ محفل رقص و سرور کو پسند کرنے لگا۔اور ملکی معاملات سے عدم دلچسپی کا مرتکب ہونے لگا۔اس کے دربار میں ہمیشہ360رانیاں موجود ہوتی تھیں۔ملکی معاملات دن بدن بگڑتے گئے اور52سال تک کشمیر پر حکومت کرنے کے بعد2485ق م کو راجہ چندر دیو اتنی رانیوں کے باوجود لاولد مرا۔

چندر دیو کی وفات کے بعد اس کا بھائی آنند دیو نے حکومت سنبھالی۔28سال تک ظلم وستم سے حکومت کرنے کے بعد 2430ق م کو طبعی موت مر گیا۔

راجہ آنند دیو کی وفات پر اس ک بیٹا درپتا دیو تخت نشین ہوا۔عدل و انصاف سے حکومت کی اور عوام کی فلاح و بہبود ،ترقی کے لیے کام کیا۔تعمیرات میں ’’موٖضع شاداکاجو لامکھی‘‘مندر سہر فہرست ہے۔51سال کی حکومت کے بعد اس کے بھائی ہرنام دیو نے علم بغاوت بلند کیا اور بھائی کے ہاتھوں یہ راجہ قتل ہوا۔

راجہ آنند دیو کے قتل کے بعد اس کا بھائی ہرنام دیو حکمران بنا۔راجہ ہرنام دیو رقص و سرور کی محفل میں گم رہتا تھا ۔شراب نوشی میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔شراب کے حصول کے لیے جگہ جگہ انگور کے باغات لگوائے۔شراب وکباب کی محافل عام تھیں۔اس دور میں شراب حلال تھی۔رنڈی بازی اور زنا کاری عام تھی۔کسی کی عزت محفوظ نہ تھی۔راجہ ہرنام دیو کے سپہ سالار’’درگا‘‘ نے بغاوت کرتے ہوئے راجہ کے خلاف فوج کشی کی۔شاہی محلات کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے شہر بابل کا ایک حصہ جل کر خاکستر ہو گیا۔زبردست مقابلہ کے بعد ’’درگاہ‘‘ پسپا ہو ا اور ہر نام دیو کی حکومت بہ دستور رہی ۔اس راجہ کے دور میں خراج بالکل معاف تھا ۔درگاہ کے بیٹے انگو نے چن دوستوں سے مل کر باپ کا بدلہ لینے کے لیے شکار کے موقع اس راجہ کو قتل کر دیا ۔یوں راجہ ہرم دیو کی 39سال حکومت کے بعد 2312ق م میں قتل کر دیا گیا۔

راجہ ہرنام دیو کے قتل کے بعد اس کا بیٹا سلکن دیو گدی نشین ہوا ۔راجہ سلکن دیو بھی عیاش حکمران تھا ۔ہفتہ میں ایک دن امور ملکی کی طرف توجہ دیتا اور باقی چھ دن خوب عیاشی کرتا تھا ۔الغرض 28برس تک داد حکومت دے کے 2340ق م کو فوت ہوا۔

راجہ سلکن دیو کی وفات کے بعد اس کا بیٹا سنیادت عروس مملکت سے ہمکنار ہوا ۔راجہ سنیادت عیش و عشرت کا دلدادہ تھا ۔ہر وقت بدنی آرایش و زیبایش میں مصروف رہتا تھا ،انتہا درجہ کا بے وقوف تھا ،ہر وقت بناؤ سنگھار میں رہتا تھا ،اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار آئینہ کے سامنے بناؤ سنگھار میں مصروف تھا کہ ایک رانی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس پرراجہ سنیادت کو غصہ آگیا اور رانی سے کہا کہ اے بدچلن تو نو میرے سامنے کسی غیر مرد کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ہے ۔اس جرم میں رانی کی ناک کٹوا دی ۔یہ راجہ ہر وقت عیش و عشرت میں مدہو ش رہتا تھا اور ایک دن اس کے بھائی منگلادت نے محل میں گھس کر اس کا کام تمام کر دیا ۔اس طرح 17سال بعد اس کی حکومت کا 2295میں خاتمہ ہو گیا۔
منگلات دت نے اپنے بھائی راجہ سنیادت کو قتل کر کے خود حکومت سنبھالی ،یہ بھی بھائی کی طرح عیاش تھا ،شراب خانے ،زنانہ اور قمار بازی عام تھی ،شراب پر ٹیکس لگا کر ملکی خزانہ میں اضافہ گیا ،اس دور میں قدرتی ناراضگی کے باعث ایک زہریلی ہوا چلی اور ہزاروں جانیں تلف ہوئی تھیں ۔آخر کار
29سال کی حکومت کے بعد یہ راجہ 2256ق م کو دنیا فانی سے چل بسا ۔

منگلا دت کی وفات کے بعد اس کا بیٹا کھیمہ واندر مسند نشین ہوا ۔کھیمہ اندر بھی عیش وعشرت ،شراب و شباب میں کوئی ثانی نہ رکھتا تھا ،جس گھر میں چاہتا داخل ہو جاتا ،بہو ،بیٹی کی عزت محفوظ نہ تھی ،ایک دن اپنے وزیر درنا کی بیوی کی خوب صورتی کا سن کر اس کے گھر داخل ہو گیا اور تعلق استوار کیا ،واپسی پر اپنی انگوٹھی وہاں بھول گیا ،وزیر نے انگوٹھی دیکھی تو اس سے انتقام لینے کی ٹھان لی ،چناں چنہ 26سال کی حکومت کے بعد اس وزیر نے اسی کے ملازموں کے ذریعے 2190 ق م رات کے وقت اس کا کام تمام کر وا دیا۔

راجہ کھیم اندار کی وفات کے بعد اس کا بیٹا بھیمہ سین گدی نشین ہوا ۔اس راجہ نے بابل کے بجائے سندمت نگر کو اپنا مسکن بنایا ،باج شاہی میں اضافہ کیا ،کاشغر کے علاقے سے ہاتھ دھونے پڑے ،راجہ بھیم سین نے اپنے دور میں مندر کوٹی شور تعمیر کروایا ،ہندوستانی طبیب کو بلا تحقیق پھانسی چڑادیا ،61سال حکومت کرنے کے بعد 2129کو داعی اجل سے جا ملا۔

راجہ بھیم سین کی وفات کے بعد اس کا بیٹا میندر سین حکمران بنا ،عیش و عشرت میں مصروف رہتا تھا ،کوئی عیب ایسا نہ تھا ،ہندرسین اور اس کی رعایا میں نہ پایا جاتا تھا ،خدا تک کو بھول گئے تھے ،انتظامی مملکت وزیر شور اندر کو تفویض کیے ،کچھ عرصے کے بعد وزیر سے بدگمان ہوا تو اس کو معزول کرکے ذلیل و خوار کیا راجہ نگر کوٹ نے بغاوت کی لیکن مارا گیا ،راجہ پندرسین 46سال تک عیش و عشرت سے حکومت کر کے 2083 ق م کو خالق حقیقی سے جا ملا ۔

راجہ پندرسین کے بعد اس کا بیٹا سندر سین گدی نشین ہوا ۔راجہ سندرسین کے دور میں راجہ ہر نام دیو کے دور کی تمام بد افعالیاں دوہرائی گئیں ،پندرسین کے دور میں لوگ خدا کو نہیں مانتے تھے لیکن اس کے دور میں ہر ایک نے خوائی کا دعویٰ کر ڈالی ،زنا ،قمار بازی عام تھی ،اسی اثناء میں سندمت نگر کا ایک شخص نندگیت نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے پیغام عام کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور وہ مایوس ہو کر شہر سے نکل کر قریب والی پہاڑی کرالہ سنگر کی زمین پھٹ کر پانی ابلنے لگا اسی بھونچال کی وجہ سے بارہ مولہ کے قریب ایک پہاڑی دریائے بہت (جہلم) میں جاگری ،سندمت نگر پانی میں ڈوب گیا اور تمام آبادی غرق ہو گئی ،سندمت نگر اسی مقام پر تھا جہاں آج کل جھیل وولر کا قدرتی حسن سیاحوں کا استقبال کرتی ہے ،سردیوں میں پانی کم ہوتا ہے تو پرانی عمارتوں کے آثار نظر آتے ہیں ،اس حادثہ سے خاندان پاؤنڈ وال کی حکومت کا چراغ گل ہو گیا۔41سال کی حکومت کے بعد 2042 ق م راجہ سندر سین کی وفات کے ساتھ خاندان پانڈواں کی حکومت کا نام و نشان بھی مٹ گیا ،ظلم و ستم ،عیش وعشرت کی داستان کے ساتھ خود بھی جھیل وولر میں غرق ہو گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15083 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2018 Views: 383

Comments

آپ کی رائے