جسٹس برادری

(Amjad Siddique, Lahore)

ریاست پاکستان کی بد قسمتی ہی سمجھی جائے گی کہ یہاں ایک ایسا طبقہ پاورمیں آچکا جو معاملات کو اپنے انداز میں چلانے کی سوچ رکھتاہے۔ یہ سوچ اچھی۔مخلصانہ اور صحیح ہوتی تو بات کچھ اور تھی۔مگر یہ سوچ ہمیشہ قانون۔آئین اور اخلاقیات کے منافی رہی۔جو لوازمات ریاست کو محترم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔یہ سوچ ان کی مخالف رہی۔اور جن بد مستیوں سے ریاست کمزور ہوتی ہے۔اس سوچ کا محور بنی رہیں۔یہ طبقہ ریاستی اداروں کو بے سمت اور کھوکھلا رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتاہے۔تمام ریاستی اداروں کو مفلوج کرکے دراصل یہ طبقہ عدم پرسش کا ماحول پیدا کردیتاہے۔نہ ریاستی ادارے پنپ رہے ہیں۔نہ حکومتی ادروں کی کوئی سمت بننے دی جارہی ہے۔عدلیہ کوبھی مسلسل اس سوچ کی چھیڑ خانیوں کا سامنارہا۔اس ادارے کی ترجیحات میں ادل بدل اس سوچ کی قوت اور اثر پذیری کی دلالت کرتے ہیں۔عدلیہ میں کبھی ڈوگر کورٹ کی تصویر بنی جو سراسر حکمرانوں کی تائید و توثیق کی مہر تھی۔ کبھی چوہدری کورٹ کانقشہ نظر آیا۔جس میں وہ حکمرانوں کو کسی بھی طریقے سے زیر کرنے میں کوشاں رہی۔وہ طاقت۔عزم اور خودمختارانہ جنون اس کا مقدر نہ بن سکا جس سے وہ پاکستان کورٹ کا نام پاسکے۔

نوازشریف کی ناہلی کے بعد سے پارلیمنٹ اور عدلیہ میں تصادم کے خدشا ت بڑ ھ چکے تھے۔پچھلے کچھ دنوں سے دونوں طرف سے جو عزائم ظاہر کیے جارہے ہیں۔وہ اس تصادم کے خوفناک انجام کی جھلک دکھارہے ہیں۔پہلے یہ خبر آئی کہ پارلیمنٹ عنقریب کچھاس قسم کی قانون سازی کرنے جاری ہے جس سے عدلیہ او رفوج کی تقرریوں۔تنزلیوں کے نظام میں واضح تبدیلی آسکتی ہے۔دونوں ادارے فی الوقت خودمختارانہ اندازمیں فرائض نباہ رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے ایسے اشارے ملے جیسے اب ان دونوں اداروں کے معاملات بھی پارلیمنٹ کی نگرانی میں طے ہوا کریں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کی طر ف سے یہ کہنا کہ ججوں کو کوئی نہیں نکال سکتا۔اسی کسی کی حکومتی کانا پھوسی کانتیجہ ہوسکتاہے۔ثاقب نثار نے یہ بھی کہا ہے کہ عوام عدلیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی بنے گے۔

جس طرح سے حالات بن رہے ہیں۔لگ یہی رہا ہے کہ کچھ بڑا ہونے جارہا ہے۔نوازشریف اس وقت خطرناک حد تک مقبول ہوچکے ہیں۔ان کے مخالفین کی غلطیوں نے انہیں بہت زیادہ طاقتور بنا دیا۔جو لوگ انہیں پاکستان کا سب سے بر ابندا بنانے کی مہم چلا رہے تھے ناکا م رہے۔اس کا اثر الٹاہوا اب نوازشریف کی چھوٹی موٹی کوتاہیاں بھی اب لوگ فراموش کرنے پر آمادہ ہیں۔جمہوری حکمرانوں نے جو مجرمانہ غفلت اپنائی ریاست کو اپنے اپنے مفادات کی بجاآوری کا ایک وسیلہ بنائے رکھا۔آج وہ کوتاہیاں دور کرنے کا وقت آتا محسوس ہورہا ہے۔مخالفین کی طرف سے سینٹ الیکشن کے شیڈیول کا اعلان ہونے کے بعد اپنے آلات حرب سمیٹ لینے کے بعد اگلے الیکشن تک کے لیے حالات نوازشریف کے حق میں جاچکے۔اب اگر نوازشریف گروپ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے لیے کچھ اعلی سطحی قانون سازشی کرتی ہے تو ان کے مخالفین کی ایک بڑی تعداد با امر مجبور ی ان کا ساتھ دے گی۔عام قیاس یہی ہے کہ سوائے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے باقی سبھی لوگ اس قانون سازی کے کریڈت میں حصے دار ہونگے۔

چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا کہ ججوں کو کوئی نکال نہیں سکتادرست نہیں اگر ایک دوتہائی کے قریب اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کو نکالا جاسکتاہے تو کسی جج کی بساط ہی کیا ہے؟ ججز سمیت تمام اعلی عہدے داران کورکھنے او رنکالنے کا کوئی نہ کوئی فارمولہ موجود ہے۔انکی طرف سے یہ کہنا کہ عوام ہمارے لیے ریڑھ کی ہڈی بنے گے۔بھی مناسب نہیں ۔بھئی آپ لوگوں کا عوام سے تعلق کیوں ہونے لگا؟ آپ نظام عدل سے ہو۔نہ کہ نظام سیاست سے۔عوام تو اپنی حمایت انتخابات لڑنے والوں سے وابستہ کرتی ہے۔وہ تو انہیں پانچ سالوں کے لیے چنتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی ہیرا پھیریوں سے یہ پانچ سال پور ے نہیں ہونے دیتے۔کسی نہ کسی بہانے نکال باہر کرتے ہیں۔عوام اگر ریڑھ کی ہڈی بنے گی بھی تو وہ اپنے ان نمائندو ں کی بنے گی۔جنہیں وہ منتخب کرتی ہے۔اپنے انتخاب کی بے حرمتی پر اسے غصہ آسکتاہے۔وہ یہ سوال پوچھ سکتی ہے کہ جب اسے یہ اختیاردیاجاتاہے کہ و ہ کوئی نمائندہ چن لے تو پھر اس اختیار کاپاس کیوں نہیں رکھا جاتا؟ یا تو یہ اختیارختم کردیاجائے۔یا پھر اس کا احترام کیا جائے؟

نظام عدل اب تک دو تصویریں پیش کرتارہاہے۔ڈوگر کورٹ یا چوہدری کورٹ۔یہ دونوں تصویریں درست نہیں۔عدلیہ نہ کسی کو شاباشی دینے کے لیے ہوتی ہے۔نہ کسی کی ٹانگیں کھینچنے کے لیے۔انصاف کا ترازودرست ہونا چاہیے۔اس اٹھانے والے کی آنکھوں پر پٹی اس لیے باندھی جاتی ہے کہ وہ ماحول او رشخصیات سے مرعوب نہ ہوپائے۔جب تک نظام عدل ان دونوں تصویروں سے نہ نکلے گا کمال دکھایا بھی نہ جاسکے گا۔جب تک جسٹس برادری ڈوگر کورٹ اور چوہدری کورٹ میں منقسم رہے گی۔ تب تک جسٹس برادری کی طر ف سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا کی گونچ سنائی دی جاتی رہے گی۔جب پاکستان کورٹ قائم ہوگی تب جسٹس برادری کو عوام کو اپنی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے کے محتاجی نہ باقی رہے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65327 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Feb, 2018 Views: 447

Comments

آپ کی رائے