محمدافضل گورو کا عدالتی قتل

(Ghulam Ullah Kiyani, )

دنیا میں یہ پہلا عدالتی قتل ہے جس میں9فروری2013 کو نام نہاد جمہوری ملک کی سب سے بڑی عدالت نے انصاف کے بجائے عوام کی تسکین کے لئے فیصلہ صادر کیا ۔پانچ سال قبل بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے انوکھے فیصلے میں اجتماعی ضمیر کی تسکین کو جواز بنا کر سب کو حیران کر دیا۔دنیا میں آج تک کہیں بھی عوام کی خواہشات کو ٹھوس شواہد اور دلائل کا متبادل نہیں سمجھا گیا۔ انسانی حقوق کے عالم ادارے چیختے رہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ٹرائل شفاف نہ تھا۔ عدالت میں دفاع کرنے کے لئے اپنی مرضی کا وکیل یا قانونی چارہ جوئی کا موقع نہیں دیا گیا۔ ٹرائل کے مرحلہ پر وکیل مقرر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ خدشات کا ازالہ نہ کیا گیا۔بھارت نے بین الاقوامی سٹنڈرڈز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افضل گورو شہید کے اہل خانہ کو بھی آگاہ نہ کیا اور ان کی جسدخاکی کو اسلامی طریقے سے سپردخاک کرنے بھی نہیں دیا گیا۔ لاش کو عالمی قوانین کی پامالی کرتے ہوئے جیل میں ہی گھڑا کھود کر ڈال دیا گیا۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی جے این یو افضل گورو کی پھانسی کے بعد جو مظاہرے ہوئے ان سے بھارت جیسے ہل گیا۔ طالب علم رہنماکنہیا کمار کو جیل جانا پڑا۔ کیوں کہ وہ کمیونسٹ نواز تھے اور انھوں نے اور ان کے دیگر دوستوں نے آزادی کی حمایت کی۔ عدالتی قتل کے خلاف نعرے لگائے۔ یہ مارچ 2016کی بات ہے جب دہلی ہائی کورٹ کے بینچ نے جسٹس پرتبھا رانی کی سربراہی میں جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے سربراہ کنہیا کمار کو 23روزہ قید کے بعدضمانت پر رہا کیا۔ فیصلے کے شروع میں فلمی گانے کے شعر نقل کئے گئے
میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے
اگلے ہیرے موتی میرے دیش کی دھرتی

افضل گورو کوبدنام زمانہ بھارتی تیاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔ ان پر 2001کو دہلی پارلیمنٹ پر حملے کا الزام تھا۔ ملزم کو مجرم ثابت کرنے میں ناکامی کے باوجودافضل گورو کو پھانسی دی گئی۔ شہید گورو نے پھانسی سے قبل بھارت سے کہا کہ وہ اسے پھانسی دیدے، مگر یہ اس کے جوڈیشل اور سیاسی سسٹم پر سیاہ دھبہ بن جائے گا۔آج بھارت کے نظام عدل میں ایک مزید داغ کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین قانون اور بین الاقوامی اداروں نے بھی اسے عدالتی قتل قرار دیا۔ کیوں کہ ملزم کو اپنا دفاع کرنے کا موقع نہ دیا گیا۔ انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ کئے گئے۔ بلکہ یہ نامکمل رکھے گئے۔یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس قتل کی مذمت کی۔ جیل کے مینول کے مطابق پھانسی سے قبل افضل گورو کے اہل خانہ کو اطلاع دینی ضروری تھی۔مگراطلاع نہیں دی گئی۔پاکستان نے اس کے برعکس ایک بھارتی جاسوس جو کہ حاضر سروس فوجی افسر تھا، کو اس کے اہل خانہ سے ملاقات کرائی۔ حفاظتی بندوبست کے لئے کلبھوشن جادیو کی اہلیہ کے جوتے اترائے گئے جس پر بھارت نے دنیا میں واویلا کیا۔ سارا کام جلد بازی میں ہوا۔ جبکہ ان کے جسد خاکی کوجیل میں ہی قید کر دیا گیا۔ تین سال بعد شہید کے اکلوتے بیٹے غالب گورو نے میٹرک کے امتحانات میں ٹاپ کیا اور95فیصد نمبرات حاصل کئے۔ تمام پانچ مضامین میں اے گریڈ سکور کی۔ ایک شہید کے بیٹے نے اپنے والد کی تربیت کا حق ادا کیا۔ دوآب گاہ سوپور کی زرخیز زمین نے افضل گورو جیسے بیٹے کو جنم دے کر ایک اعزاز حاصل کیا ہے۔ جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ بھارت، نا انصافی، جانبدار ی اور نسلی امتیاز کی نئی نئی مثالیں پیش کر رہا ہے۔ انصاف مسلمان اور کشمیری کیلئے نہیں۔ہندو کے لئے ایک انصاف ہے اور مسلم کے لئے دوسرا۔ مسلمان بھی اور کشمیری بھی تو پھر انداز بالکل بدل جاتا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ بات ثابت کر دی ۔اس نے کشمیریوں کو سیاست، انتقام اور نام نہاد عوام کے ضمیر کی تسکین کے لئے تختہ دار پر لٹکا دیا۔اسے قانون و انصاف کی زبان میں ناروا امتیازی سلوک ہی کہا جا سکتا ہے۔مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید جیسے آزادی پسند دو انقلابی کشمیریوں کو بھارت نے جیل کے اندر ہی پھانسی دے دی اور افضل گورو شہید کی پھانسی کے ایک سال بعد سپریم کورٹ آف انڈیا نے سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔کشمیری اس وجہ سے سراپا احتجاج ہیں کہ انصاف کا دوہرا معیار ہے۔ کشمیری کو پھانسی اور بھارتی شہری کو بری کر کے بھارتی عدلیہ ہی بے نقاب ہوئی ہے۔ ہندو اور غیر ہندو کے لئے دو الگ الگ ضابطے ہیں۔ بھارت اب انصاف نہیں بلکہ عوام کی تسکین کے لئے فیصلے کرتا ہے۔ اس کا عدالتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک کشمیری کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ جن افراد کی رحم کی درخواستیں بھارتی صدر کے دفتر میں دہائیوں سے زیر التوا تھیں، انہیں بری کرنے کے لئے تامل ناڈو حکومت کوشش کر رہی تھی۔ اور بظاہر مرکز کے ساتھ ٹکر بھی لینے کو تیار تھی۔ راجیو گاندھی کے قاتل پھانسی کے منتظر تھے۔ لیکن سپریم کورٹ نے ایک نیا فیصلہ دے کر ان کی پھانسی کو عمر قید میں بدلنے کا ایک راستہ نکالا۔ اگر افضل گورو کو بھی جلد بازی میں عدالتی قتل نہ کیا جاتا تو وہ بھی شاید اس نئے قانون کے دائرے میں آ سکتے تھے۔ موت کا وقت متعین ہے۔ موت خود بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کا ایک جواز موجود رہتا ہے۔ علالت، حادثہ وغیرہ ہی مورد الزام ٹھہرتے ہیں۔ تا ہم جو سلوک کشمیریوں کے ساتھ روا رکھا گیا ہے اس پر لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ شہداء کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوکر بھارت سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جس قانون کے تحت راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کیا گیا، وہ قانون بنانے میں ایک سال کی تاخیر کی گئی۔ اس تاخیر کا زمہ دار بھی بھارتی نظام ہے۔ جس میں آج بھی چھوت چھات موجودہے۔ اب اچھوت کشمیری اور آزادی پسند ہے۔ اس معاملہ میں سات سال کی تاخیر کی گئی ۔دوسری طرف جلد بازی اتنی ہوئی کہ افضل گورو کے کم سن بچے اور اہلیہ تک کو بھی آگاہ نہ کیا گیا۔ یہ ثابت ہوا کہ قاتلوں سے عدالت نے نرمی کی۔ قتل کے شواہد کے باوجود پھانسی روک دی گئی۔ لیکن بھارتی پارلیمنٹ پر نام نہاد حملہ کیس میں جس کشمیری کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہد بھی نہ تھے، کیس مشکوک تھا، لیکن پھانسی دیدی گئی۔ افضل گورو کی پھانسی اور راجیو گاندھی کے قاتلوں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا خود ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری بھارت کے دشمن ہیں۔ ایل ٹی ٹی ای اور کشمیری مجاہدین میں غیر معمولی فرق ہے۔ مسلم اور غیر مسلم کا فرق۔ یہی بھارت اور اس کے تمام نام نہاد اداروں نے مسلسل ثابت کیا ہے۔ افضل گورو کی جدوجہد اور قربانی کو سبھی سلامی پیش کرتے ہیں۔ ان کے نقش قدم پر چلنے کاا عادہ کیا جاتا ہے۔ شہید افضل گورونے تختہ دار پر چڑھ کر بھارتی عدلیہ کو بے نقاب کیا ۔ اﷲ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231181 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
12 Feb, 2018 Views: 332

Comments

آپ کی رائے