علاقہ غیر یا اپنے لوگ!!

(Shafqat Ullah, )

1976 میں ذوالفقار علی بھٹو نے سب سے پہلی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد فاٹا کے نظم و نسق کی اصلاحات کی جا سکیں جو 1977 میں ہونے والے الیکشن کیلئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد حالیہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرنا تھا۔اس بارے میں ہمارے ملک کے کئی دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ ضیاء مارشل لاء نے فاٹا کو اس بحران سے دوچار کر دیا جس سے یہاں کی عوام آج تک نہیں نکل پائے۔ضیاء دور میں افغانستان میں مداخلت کیلئے فاٹا کو دنیا بھر کے جنگجوؤں کا مرکز بنایا گیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔لیکن یہ میری نظر میں قطعاً غلط ہے اور ملک دشمن عناصر کے مؤقف کو ترویج و جلا بخشتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر روس کو اس وقت سبق نا سکھایا جاتا تو اس کا آئندہ ٹارگٹ پاکستان تھا اور پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان اتنا مضبوط نہیں رہ گیا تھا جبکہ بھٹو کی کئی پالیسیوں نے بھی ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا، جبکہ ضیاء الحق کے دور میں اٹھائے گئے اقدام ہی کی بدولت آج فاٹا پاکستان کا حصہ ہے۔تحریک طالبان پاکستان اور افغانی طالبان کے مابین زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ اسلام و پاکستان مخالف لابی نے تحریک طالبان پاکستان کو بنایا ہے اور طالبان کا نام اس لئے دیا گیا کہ افغانی طالبان کو بدنام کیا جا سکے اور دنیا میں انہیں رسوا کیا جا سکے جوکسی زمانے میں حقیقی معنوں میں جہاد فی سبیل اﷲ میں مگن تھے۔تحریک طالبان پاکستان کو موساد، را، امریکی سی آئی اے اور پینٹاگون جیسی دیگر ایجنسیاں چاہے افرادی ہو مالی ہو یا عسکری معاونت کر رہی ہیں اور یہ بکاؤ مال فاٹا کے چند مادیت پرست قبائلی وڈیرے ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی سودا کیا۔فاٹا کی دوسری اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل 2006میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں امتیاز صاحبزادہ کی سربراہی میں ہوئی،جس میں حتمی سفارشات یہی تھیں کہ فاٹا کے وسیع تر مفاد کیلئے ضروری ہے کہ اسے خیبر پختون خواہ میں ضم کر دیا جائے۔بد قسمتی سے اس انضمام کو افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط کیا گیا گویا انہیں ان کے آئینی اور شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا۔تیسری اصلاحاتی کمیٹی نومبر 2015 میں تشکیل دی گئی۔آرمی پبلک سکول پر حملے کے نتیجے میں قومی ایکشن پلان بنا اور ایکشن پلان کی شق 12 کے مطابق فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی تبدیلیاں وجود میں آئیں۔جبکہ اس اصلاحاتی کمیٹی میں فاٹا کا کوئی بھی رکن شامل نہیں تھا جو فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہی تھی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں کو علاقہ غیر کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مطلب غیر لوگوں کی سرزمین ہے، یعنی دوسرے الفاظ میں انہیں اس ملک کا شہری ہی نہیں سمجھا جا رہا۔فاٹا کے 19 پارلیمانی اراکین نے فاٹا کے وسیع تر مفاد کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9ستمبر 2015 کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں فاٹا کو خیبر پختون خواہ میں ضم کرنے کے مطالبے کا حامل ایک بل جمع کرایا،کچھ نام نہاد جمہوریوں کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کے اصل مالک سرگرم عمل مقتدر ادارے ہیں اور جب تک ان کی مرضی شامل نہیں ہو گی تب تک وہاں ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا،جبکہ یہ قبائلی علاقے آزادی پاکستان کے بعد سے اب تک پسماندہ ہی رہے ہیں۔لیکن وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ فاٹا میں کوئلہ سمیت دیگر بیش قیمتی معدنیات کے خزانے موجود ہیں جبکہ یہاں ہر قسم کا پہاڑ، خشک میوہ جات اور سیاحت کیلئے بھی کئی مقامات موجود ہیں جو فاٹا کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔جہاں تک میرا خیال ہے وہ یہ کہ فاٹا اول دن سے آج تک پسماندہ ہی رہا ہے اور اسکی وجوہات وہاں کے چند نام نہاد وڈیرے اور یہ غلیظ جمہوریے ہیں جنہوں نے کرپشن کا وسیع تر جال بچھا رکھا ہے اور جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے فاٹا کے بیش قیمتی خزانوں کو ملک کے فائدے کی بجائے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا ہے، یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ فاٹا میں نا تو استصواب رائے کو بڑھوتری مل پا رہی ہے اور نا ہی اس کا انضمام ہو پایا ہے! ان میں دو بڑے نام مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی شامل ہیں۔قبائلی عوام کا ماننا ہے کہ انہیں ایک سازش کے تحت ہی پسماندہ رکھا گیا ہے تاکہ انہیں وقتاََ فوقتاً اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے۔فاٹا کے قبائل میں وہاں تحریک طالبان پاکستان سے اور دوسری طرف سے وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آ کر بہت حد تک بغاوت سر اٹھا رہی تھی، اول تو یہ کہ جب فاٹا فیڈرل حکومت ماتحت ہے تو اسے بھی بجٹ اس کے مطابق نہیں دیا جاتا، پھر وہاں پر کسی قسم کی کوئی بنیادی سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی، لیکن اس سپولے کا سر پھن نکلنے سے پہلے ہی پاک آرمی نے کامیاب پیش قدمی سے کچل دیا ہے۔اب پھر سے فاٹا میں امن و امان کی صورتحال قائم ہو چکی ہے ،جس کیلئے پاک فوج اور فاٹا کے قبائل نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔اب انضمام و استصواب رائے کی بات پھر سے چل نکلی ہے۔اس معاملے میں فاٹا کے چند دانشور تو یہ کہتے ہیں کہ فاٹا کی عوام کا دیرینہ حق انہیں دیا جائے اور فاٹا کو ایک الگ صوبے کے طور مستحکم کیا جائے جو کہ حقیقت میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کا بیہودہ کرپٹ ایجنڈا ہے۔اس کے برعکس وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ فاٹا کو خیبر پختون خواہ میں ضم کر دیا جائے اور وہاں کے چند پارلیمانی اراکین بھی یہی چاہتے ہیں کہ فاٹا کوکے پی کے میں ضم کر دیا جائے جبکہ اس بات سے پی ٹی آئی کے چند ذمہ دار اراکین پارلیمنٹ انحراف کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ کے پی کے پہلے ہی مسائل کا گڑھ ہے اور فاٹا کو ساتھ لے کر ہم اپنے مسائل میں اضافہ نہیں کر سکتے لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ فاٹا کے قدرتی وسائل سے انہیں فائدہ کتنا ہونے جا رہا ہے! فاٹا کے دانشور حضرات جو الگ صوبے کے قیام کا نعرہ لگاتے ہیں انہیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تک فاٹا اس قدر مستحکم نہیں کہ وہ بطور صوبائی حکومت انتظامات سنبھال سکے اور نا ہی ان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کر سکیں ۔آئندہ وقت میں پاکستان جس قدر معاشی عدم استحکام کا شکار ہے فاٹا کے الگ صوبہ بننے کے بعد اگر اس میں شورش پنپ گئی کہ فاٹا بھی پاکستان سے آزادی چاہتا ہے تو اس وقت صورتحال پر قابو پانا انتہائی مشکل ترین ہو جائے گا، اور اس کے امکانات بھی بہت زیادہ ہیں، افغان بارڈر پر لگائی گئی باڑ سے ان کا واحد تجارتی کاروبار جو خیر تھا تو قبائلیوں کا کالا دھندہ ہی بند ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ ان کے آدھے رشتے دار بارڈر کے اس پار اور آدھے اس پار بیٹھے ہیں، اب افغانستان سے آنے والوں کیلئے پاسپورٹ ضروری قرار دیا جا چکا ہے، اور پھر وہاں کے ہسپتالوں کو بھی این جی اوز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فی الوقت وہاں پر آرمی کی کارروائیوں کو کچھ حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے اور یہ حقیقت میں کون لوگ ہیں سب جانتے ہیں۔فاٹا کی عوام کو ایف سی آر سے بھی بڑا اعتراض ہے کیونکہ یہ ایف سی آر کافی حد تک قبائل معاشرے کے ضابطوں اور پاکستانی آئین سے متصادم ہے۔اس کیلئے بھی ایک منظم لائحہ عمل کے ذریعے ایف سی آر کی بجائے آئین پاکستان کو لاگو کیا جائے کیونکہ ایف سی آر تو پہلے ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔میری نظر میں اگر فاٹا کے پی کے ساتھ چل کر پہلے مستحکم ہوتا ہے اور وہاں تعلیمی طور پر شعور بیدار ہو جاتا ہے تو اس کے بعد فاٹا کے الگ صوبہ کی حیثیت سے قائم ہو جانا نا گزیر ہو جائے گا اور تب کئی اور بھی نئے صوبے بنائے جائیں گے۔بے شک فاٹا کی عوام کا استصواب رائے اور مشاورت آئینی اور قانونی حق ہے لیکن ان کیلئے فی الحال یہی بہتر ہے کہ وہ کے پی کے کی صوبائی حکومت کے تحت کام کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 213 Articles with 91619 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
18 Feb, 2018 Views: 496

Comments

آپ کی رائے