گوروں کے دیس میں - ساتویں قسط

(Shakeel Ahmed, Gizan, Saudi Arabia)
گوروں کے دیس میں (قسط وار)

برطانیہ کے شمال میں واقع ایک خوبصورت شہر ہے۔بلندو بالا پہاڑ،سرسبز میدان اور جھلیں یہاں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔اس جگہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ مشہور شاعر سر ولیم ورڈز ورتھ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ اس لئے سیاح خاص طورپر اس شہرکی سیرلئے آتے ہیں۔

لندن میں موسم نے اپنے تیور بدلے ہوئے تھے۔ ہلکی ہلکی بھوندا بھاندی دلکش اور ٹھنڈک بھرا احساس دلا رہی تھی۔ مجھے اپنی اگلی منزل کے لئے ٹرین پکڑنی تھی اس لئے صبح سویرے ناشتے سے فارغ ہو کر ہوٹل سے روانہ ہوا۔ استقبالیہ پر کمرے کی چابی رکھی تو وہ ہی پری چہرہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اب تو دونوںمیں کافی اچھی شناسائی ہو چکی تھی۔ایک خوبصورت مسکراہٹ اور نیک تمناوں کے ساتھ اس نے مجھے رخصت کیا۔اسٹیشن پر زیادہ گہما گہمی زیادہ نہیں تھی شائد ابھی کام پر جانے کے اوقات شروع نہیں ہوئے تھے اس لئے میں باآسانی تقریبا ۵۰ منٹ میں الفورڈ سے ایوسٹن اسٹیشن پہنچ گیا۔ ایوسٹن لندن سے باہر جانے اور آنے والی ٹرینوں کا مرکزی اسٹیشن ہے۔ یہاں کافی گہما گہمی تھی۔ابھی میری ٹرین میں کافی وقت باقی تھا اس لئے اسٹیشن پر موجود مختلف برانڈ کی دوکانوں کا چکر لگایا اور کچھ فری چاکلیٹس بھی انجوئے کیں۔یہ ایک دلچسپ بات تھی کہ ہر دوکان میں ایک کمپلیمنٹری باکس رکھا ہوتا ہے جہاں سے آپ فری میں ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ اور اگر پسند نہ آئے تو چلے جائیں لیکن مجھ جیسےبہت سے اور لوگ بھی یہاں منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لئے چلے جاتے ہیں نہ کہ خریدنے کی غرض سے۔لندن شہر میں تمام شاپنگ مالز کی فری ریٹرن پالیسی بھی ہوتی ہے جس کا لوگ غلط استعمال بھی کرتے ہیں مثلا کپڑے خریدے، پہنے اور وآپس کر دئے مجھے تو دوستوں نے یہاں تک بتا یا کہ خواتین چھٹی والے دن میک اپ شاپس سے فری میں تیار ہو کے پارٹی میں چلی جاتی ہیں۔ اور بہت سے لوگ شرٹس اور سوٹ خریدتے ہیں شادی اٹینڈ کر کے وآپس کر جاتے ہیں کیونکہ کمپنی کی پالیسی ہے کہ آپ ۲۵ دن کے اندر خریدی ہوئی اشیاہ اگر پسند نہ آئے تو وآپس کر سکتے ہیں۔مجھے بتایا گیا کہ یہ ٹرینڈ عام ہے اور کوئی برا بھی نہیں مناتا۔

اس وقت صبح کے ۹ بج چکے تھے ۔میری ٹرین روانگی کے لئے تیار تھی اور بورڈنگ شروع ہو چکی تھی۔گوروں کے دیس کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ آپ کے مقررہ وقت سے نہ ایک منٹ پہلے اور نہ ایک منٹ بعد میں۔ آپکو ہر صورت وقت پر پہنچنا ہی ہے ورنہ پھر آپ افسر ہیں یا فقیر کوئی آپکا انتظار نہیں کرئے گا۔ ٹرین اپنے مقررہ وقت پر اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ ورجن ٹرین نام سے تو تھوڑی عجیب احساس ہو تا ہے لیکن بے حد آرام دہ اور بہترین ٹرین تھی ۔مجھے توگوروں کے دیس میں جہاں بھی جانے کا اتفاق ہوا چاہے وہ لندن ہو یا سوٹزرلینڈ یا پھر پیرس ہو یا اٹلی ہر جگہ ٹرینیں جہاز سے زیادہ آرام دہ اور پر آسائش ہوتی ہیں۔

اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے مجھے پرسٹن اسٹیشن سے ٹرین تبدیل کرنی تھی اس لئے میں نے اسٹیشن آتے ہی باہر کی طرف چھلانگ لگائی اور جلدی سے معلومات کی غرض سے لوکل ہیلپ ڈیسک کی طرف لپکا کیونکہ اکثر اگلی ٹرین کی ٹائمنگ بہت کم ہوتی ہے اس لئے آپ کو چست رہنا پڑتا ہے۔ گوروں کے دیس میں ایک اور اچھی بات یہ لگی کہ وہ سیاحوں اور سیاحت کا خاص خیال رکھتے ہیں کیونکہ ان ملکوں کی اچھی خاصی معیشت کا دارومدار سیر و سیا حت سے وابستہ ہے۔ اس لئے میری اب تک کے سیاحتی تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ یہ لوگ آپ کو رنگ، نسل یا قومیت کی بنیاد پر ٹریٹ نہیں کرتے بلکہ آپ کوایک سیاح کے طور پر ہی ڈیل کیا جاتا ہے اور سب کو ایک ہی جیسی عزت اور احترام دیا جاتا ہے۔ اسلئے ہر اسٹیشن پر مرد و خواتین آفیسرز ہر وقت موجود رہتے ہیں اورکوئی بھی، کسی بھی وقت ان سے معلومات حاصل کر سکتاہے۔ میں ابھی اگلی جانے والی ٹرین کی معلومات لےہی رہا ہے کہ ایک نہایت دلکش اور خوبصورت مگر تھوڑی پختہ عمر کی خاتون میرے قریت آکر رکی۔کچھ دیر کےلئے تو میں بس اُسے دھیکتا ہی رہ گیا۔شکل سے تو وہ کسی بہت ہی سلجھے اور بڑے گھرانے کی خاتون لگ رہی تھی۔چہرے پر بکھرے سنہری بال اس کو اور بھی جازب نظر بنا رہے تھے۔یقینااپنے جوانی کے ایام میں بہت ہی پرکشش رہی ہوگی۔ میں ابھی اپنےخیالوں میں ہی کھویا تھا کہ وہ انتہائی شائستہ انداز میں مجھ سے گویا ہوئی۔تو ایسے لگا کسی نے ہاتھ سے پکڑ کر ایک حسین خواب سے جگا دیا ہو۔غالباوہ اپنی ایک دوست کے ساتھ اسی منزل کی جانب سفر کر رہی تھیں جہاں میں جا رہا تھا۔میں نے اُسے تسلی دی کہ فکر نہ کریں میں بھی اُسی سمت جا رہا ہوں۔ اُس کی دوست ایک معمر خاتون تھیں۔مجھے ایک اور حیرانی یہ ہوئی کہ اتنی معمر ہونے کے باوجو د وہ تفریح کے لئے جا رہی تھیں۔ہمارے ہاں تو ۴۰ کے بعد ہی لوگ اپنے آپ کو سب تفریعوں سے الگ کر لیتے ہیں کہ بس ہماری اب عمر نہیں ہے ان چونچلوں میں پڑنے کی۔

پردیس میں حسین ہمسفر مل جائیں تو سفر اور بھی خوبصورت اور پرکشش ہو جاتا ہے۔ اگلی ٹرین کا وقت ہوا تو میں نے انکا سامان اٹھانے میں تھوڑی مدد کی اور معمر خاتون کا بیگ اُٹھا یا اور ٹرین میں رکھ دیا اور ہمارا سفر شروع ہو گیا۔ مجھے لگامیری موجودگی کو وہ اپنے لئے باعث اطمینان سمجھ رہیں تھیں۔شاید ان کو لگ رہا تھا کہ چلو منز ل تک پہنچنے میں آسانی ہو جائے گی۔دوران گفتگو معلوم ہوا کہ وہ حسین خاتون ایران سے تعلق رکھتی ہیں وہ پہلے برطانیہ میں رہ چکی تھیں اور اب اپنی دوست سے ملنے آئی تھیں۔اُن کی شائستہ گفتگو نے اجنبیت کااحساس ختم کر دیا تھا اور کچھ ہی دیر میں ایسا لگا ہم برسوں سے ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔میرا ٹکٹ لیک ڈسٹرکٹ تک کا تھا لیکن ان نئے دوستوں نے بتا یا کہ وہ تو اس سے آگے ایک اور جگہ ہے جس کا نام وینڈر میرے ہے تک جا رہی ہیں اور وہ بہت ہی خوبصورت تفریح مقام ہے۔بس میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ ان کے ساتھ ہی اگلی منزل تک چلتا ہوں۔انکا مشورہ واقع ہی سود مند ثابت ہوا اور اگر میں وہاں تک نہ جاتا تو بہت سے خوبصورت لمحات میری یادوں کا حصہ بننے سے رہ جاتے۔

خیریت سے اپنی منزل تک پہنچے اور نئے دوستوں کو الوداع کہا اور اپنے راستے چل دیا کیونکہ انھوں نے ہو ٹل جانا تھا اور کچھ دن ادھر ہی رکنے کا پروگرام تھا جبکہ میرے پاس وقت کی کمی تھی اور میں نے وآپس لندن جانا تھا۔نئی جگہ نئے لوگ کچھ معلومات لیں اور چل پڑا کوئی ۴۰ منٹ کی واک کے بعد جو کچھ میرے سامنے تھا وہ الفاظ میں بیا ن کرنا مشکل ہے۔ دیو قامت سرسبز پہاڑوں میں گھری جھیل اور اس میں چلتی کشتیا ں اور جھیل کنارے ڈھیر ساری بطخیں جو پانی میں ڈبکیاں لگا رہی تھی۔ اس منظر نے مجھے کچھ دیر کے لئے دم بخود کر دیا۔دل چاہ کاش بس ادھر ہی رہ جاوں ۔سیاحوں کی کثیر تعداد موجود تھی اور قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔میرا مشورہ ہے کہ جب بھی یہاں آنا ہو کم سے کم ۳دن کا پلان بنا کر آئے۔ تب ہی آپ اسے مکمل طور پراطمینان سے دیکھ اور انجوائے کر سکتے ہیں۔ افسوس وقت کی کمی آڑے آئی اور مجھے کچھ گھنٹون بعد ہی وہا سے وآپس لوٹنا پڑا۔ لیکن میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ اگر زندگی میں پھر موقع ملا توزیادہ دنوں کے لئے آوں گا۔

(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shakeel Ahmed

Read More Articles by Shakeel Ahmed: 11 Articles with 11454 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Feb, 2018 Views: 515

Comments

آپ کی رائے