کوٹ برائے فروخت!

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)

 کوٹ کی اصل قیمت کا اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا، نہیں معلوم یہ کوٹ خادمِ پنجاب میاں شہباز شریف نے لندن سے خریدا ہے یا ترکی سے، یا پھر پاکستان کے دل لاہور سے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سوال یہ ہے کہ کوٹ ہے کس کا؟ اسی حوالے سے اس کی قیمت لگے گی۔ زمانے میں گزر جانے والے ہیروز کے زیراستعمال چیزوں کی نیلامی ہوتی آئی ہے، ان کے چاہنے والے ان چیزوں کو بھاری قیمت دے کر خریدا کرتے ہیں۔ ابھی کل ہی کے اخبار میں مصر کے شاہ فاروق کی گھڑی کی نیلامی کی بات تھی، تو لاکھوں ڈالر میں فروخت ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ چیز کی قیمت ہیرو کے مناسبت سے بھی ہوتی ہے اور اس کو فروخت کرکے کسی بہبود کے کام میں لگایا جانا مقصود ہوتا ہے اس لئے اس کو مہنگے داموں خرید کے ثوابِ دارین کے حصول کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم یہاں ایک عدد کوٹ عنقریب فروخت کے لئے پیش کیا جانے والا ہے،یہ کوٹ سیاسی اور حکومتی لحاظ سے اپنی زندگی کے عروج پر بیٹھے خادمِ پنجاب کا ہے، جسے وہ فروخت کرکے لودھراں کی ترقی پر قربان کردینا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ہفتہ ہی لودھراں میں قومی اسمبلی کا ضمنی الیکشن ہوا، جس میں اس سے گزشتہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے واضح برتری حاصل کی تھی، مگر اب وہاں سے مسلم لیگ ن کامیاب ہوگئی ہے، اس بڑی خوشی کے موقع پر مسلم لیگ ن ملکی سطح پر جشن منانے میں مصروف ہے۔ میاں برادران نے بھی اپنے لئے حالات کو مزید خوشگوار بنانے کے لئے فوری طور پر لودھراں کا دورہ ضروری تصور کیا ، اس موقع پر مزید اہم بات یہ ہوئی کہ دونوں بڑے تو تھے ہی ، آنے والے وقتوں کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ ( دونوں کزن) بھی موجود تھے، تاہم نہ جانے کیوں مریم اور حمزہ کو خطاب سے محروم ہی رکھا گیا۔ میاں برادران نے حالات کے مطابق جلسہ میں نئی نئی اصلاحات اوردلچسپ جملے استعمال کئے۔ شہباز شریف نے اپنی عادت کے مطابق جذباتی خطاب میں کہا کہ’’․․․ عمران خان کی اے ٹی ایم مشین کو لودھراں کے عوام نے دریائے ستلج میں غرق کر دیا ہے․․․․‘‘۔ محاورہ تو خوب تھا، کیونکہ دریا ساتھ ہے، مگر بدقسمتی سے پانی کی بجائے وہ ریت کا دریا ہے، پانی میں غرق نہ سہی کوئی چیز ریت میں دفن تو ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’․․․ لودھراں کے عوام نے اپنے فیصلے سے مجھ سمیت، میاں نواز شریف اور پوری مسلم لیگ ن کو خرید لیا ہے․․․․اب کانجو صاحب (عبدالرحمن کانجو، مقامی ایم این اے اور اب وزیر مملکت بھی) اپنے ساتھیوں کو لے کر لاہور آئیں، جو مطالبہ کریں گے اسے پورا کیا جائے گا، چاہے اس کے لئے مجھے اپنا کوٹ ہی کیوں نہ فروخت کرنا پڑے․․․‘‘۔

میاں شہباز شریف جذباتی آدمی ہیں، وعدے تو سیاست میں کرنے ہی پڑتے ہیں، اکثر اوقات پورے کرنے کی نوبت نہیں آتی، مگر اب انہوں نے بالکل بادشاہوں کے انداز میں اعلان کیا ہے کہ ’’مانگو جو مانگتے ہو‘‘۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اب کانجو صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ لاہور جائیں گے، اپنے منتخب نمائندوں سے ہاتھ تک نہ ملانے والے شہباز شریف انہیں نہ صرف شرفِ ملاقات بخشیں گے ، بلکہ ان کے ضلع کے لئے بہت سے ترقیاتی کاموں کے اعلانات بھی کریں گے۔ یہ وہ ضلع ہے جس کے قیام سے لے کر کم وبیش پندرہ برس تک یہاں کوئی بھی حکمران نہ آیا تھا، اب جہانگیر ترین نے یہاں سے سیاست شروع کی تو ضلع کی قسمت جاگی۔ ق لیگ کے پورے دور میں لودھراں میں یہ گروپ حکومت کے ساتھ تھا۔ 2013ء کے قومی الیکشن میں یہاں سے عبدالرحمن کانجو کے والد صدیق خان کانجو کے نام پر ’’شہید کانجو گروپ‘‘ نے کلین سویپ کیا تھا، مسلم لیگ ن کے میدان میں موجود ہونے کے باوجود ایک بھی نشست اُن کے ہاتھ نہ آئی تھی۔ الیکشن میں کامیابی کے باوجود اس گروپ کو حکومت نے کوئی اہمیت نہ دی تھی، اب آخر میں آکر جذبات پھر بھڑکے ہیں۔کانجو صاحب !لاہور جائیں، کوٹ برائے فروخت ہے، مسلم لیگ میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو کروڑوں روپے کا کوٹ خرید سکتے ہیں، اس سے پارٹی قائدین بھی خوش ہو جائیں گے اور خریدار کے لئے بھی پارٹی اور حکومت میں بہتر مواقع پیدا ہو جائیں گے، لیکن چند کروڑ کے کوٹ سے لودھراں میں کونسی ترقی ہوگی، اس کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ تاہم لودھراں والوں کو وزیراعلیٰ کا احسان مند رہنا چاہیے کہ ان کی خاطر میاں صاحب نے اپنا کوٹ تک فروخت کردیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 257148 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Feb, 2018 Views: 523

Comments

آپ کی رائے