آواز شام

(Dur Re Sadaf Eemaan, Karachi)

شام میں رات کا سماں ہے، کیا لکھوں؟ کیسے وہ ظلم تحریر کروں، جو اس زمین پر اس جگہ ہورہا ہے، سینکڑوں لاشیں گر گئیں، پانی کی طرح لہو بہتا جارہا ہے، بہتا جارہا ہے، سوشل میڈیا پر اس ظلم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ تقاضا حفاظت امت محمدیہ ہورہا ہے، مگر افسوس کہ نہ ہمارے تقاضے میں جان ہے نہ ہی اقتدار پرستوں کی سماعت و بصارت کام کر رہی ہیں۔شامیوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں ۔ وہ خبریں جو ہم دیکھ، پڑھ اور لائیکس کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، ہم بے حس ہو چکے ہیں۔ ہمارے گھروں میں آگ بھڑک نے والی ہے چنگاریاں ابھی کمسن بچوں کو جھلسارہی ہیں۔ کل کو آگ جل اٹھے گی اور اس کا دھواں بلکل ویسے اٹھے گا جیسے شام سے اٹھ رہا ہے۔غوط مشرقی شہدا کی تعداد ہزار سے تجاوز کرگئی، ادلب کے بھی احوال کچھ اچھے نہیں ہیں۔ پچھلے دنوں وہاں بھی خون کی ہولی کھیلی گئی، دل خراش خبریں سماعتوں میں اتر رہی ہیں اور دل دکھ سے سمٹ رہا ہے۔ غوط ایک دفعہ پھر شدید بمباری کی زد میں ہے۔ روسی جہاز مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔ توما،دلب، غوطہ۔۔۔ کس کس شہر کی داستان رقم کریں۔ ہر شہر کا قلم خون سے بھرا ہے، کلورین،شیلنگ، لہو لہو، قطار در قطار بہتے آنسو، دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے۔ یا اﷲ شام میں صبح کردے۔ یا اﷲ شام میں سورج روشن کردے۔ یا اﷲ کوئی ایوبی بھیج، کوئی محمد بن قاسم بھیج، اے میرے مالک کوئی حاکم صفت علی و عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بھیج دے۔ روسی درندوں نے دشمنان اسلام کے اسلام کے ہی نام لیواؤں پر مظالم کی انتہا کردی ہے، کوئی عورت، بچہ بوڑھا جوان محفوظ نہیں رہا۔ افسوس! آج ملک شام کا وہی ’’غوطہ‘‘ لہو لہو ہے جس کو رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم نے شدید جنگ کے وقت مسلمانوں کی جاے پناہ بتایا ہے۔ وہی شام آج لہو میں ڈوبا امت مسلمہ کو پکار رہا ہے۔ وقت کے اقتدار پرستوں کچھ تو احساس کرو، اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرو۔۔۔ روز محشر رب کو کیا جواب نہیں دینا؟ اس دن اپنے رب کے حضور کیا جواب دیں گے؟۔۔ دعا ہے کہ اﷲ ہر مظلوم مسلمان کی مدد اور حفاظت فرمائے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dur Re Sadaf Eemaan

Read More Articles by Dur Re Sadaf Eemaan: 49 Articles with 27300 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2018 Views: 311

Comments

آپ کی رائے