میرے دوست کی بربادی کی داستان

(Mahboob hussain anjam, dubai uae)
ایک سبق آموز مکمل داستان قارئین کہ مطالعہ کےلیے حاضر

یہ کچھ دن پہلے کی بات ھے میں بر دبئی وقاص ھوٹل پر کھانا کھانے کے لیے رکھا میرے سامنے والی میز پر ایک سفید دھاڑی والا شخص سامنے کھانا رکھے خود کلامی میں ایسے مصروف تھا جیسے وہ سامنے بیَٹھے کسی دوسرے شخص سے مخاطب ہو اور بہت سے لوگ اسے دیکھ کر ہنس رہے تھے میں بھی اس کی طرف دیکھنے لگا تو مجھے ایک دفعہ حیرت کا جھٹکا سا لگا کہ جیسے یہ چہرہ تو کوئی جانا پہچانا لگتا ہے میں نے کافی ذھن پر ذور ڈالا تو مجھے یاد آیا کے ۲۰۰۴ میں کراچی میں جس کے ھوٹل سے میں اکثر شام کا کھانا کھایا کرتا تھا اور دیر تک ان سے غالب سمیت تمام شعرا کے اچھے اچھے شعر سنا کرتا تھا جی ھاں یے گلشن اقبال کی مدینہ کالونی کے ھوٹل کے مالک شریف بھائی ہی تھے اب میں اپنے اس دوست کو دیکھ کر کافی پریشان ھوا کے کہ میں اس کو آواز کیسے دوں اگر یہ شریف بھائی نہ ھوا تو کیا ھو گا خیر اسی کشمکش میں میرے منہ سے شریف نکل گیا اور وہ میری طرف متوجہ ھو گیا میرا حیال حقیقت میں بدل گیا میں اٹھ کر اس کی میز پر جا بھیٹا اور رسمی سلام دعا کہ بعد میں نے پرانی بے تکلفی کی بنیاد پر سیدھا پوچھ لیا کہ شریف بھائی آپ کب سے ادھر ہیں وہ بولے محبوب چھوڑ مت پوچھ میں نے کہا چھوڑوں گا میں نہیں بتانا آپ کو پڑے گا خیر کافی تک و دو کے بعد صرف اتنا بو لے سالی بنک والی اب میں اور پریشان ہو گیا یہ بنک والی کون ہے اور شریف بھائی تھے کہ کوئی سرا ھاتھ آنے نہیں دے رہے تھے کہ میں کسی نتیجہ پر پہنچوں کہ اتنا خوشحال شخص آخر اس حال میں پہنچا کیسے ; میں نے پوچھا ھوٹل کا بنا بولے کھا گئی وہ بھئ بنک والی اور وہ بلڈنگ جس میں نیچے ھوٹل تھا اور اوپر کے ۲ فلور پر کرایہ دار رھتے تھے اور تیسرے پر آپکی فیملی رہتی تھی اسکا کیا بنا بولے یار محبوب بلڈنگ ادھر ہی ہے پر مالکن اب بنک والی ہے میں نے بھی دو تین سنائی اور پوچھا کہ یہ سالی بنک والی آخر ہے کون جواب میں شریف بھائی نے ایک لمبی سانس لی اور ایک لمبی سی غزل سنا ڈالی جو مجھے یاد تو نہ رہی پر میں اپنی اس تحریر کو تھورا سا شاعرانہ ٹچ رے رھا ھوں جس سے کا فی حد تک شریف بھائی کی سنائی گی غذل سے مماثلت ہے
اپنے دل کےبینک میں کھول دے اکاونٹ میرا ;;
سیونگ نہ سہی کرنٹ ھی کھول دے میرا

ہم بھی مالدار ھو جائیں گئے
اگر تو کھول دے کھاتہ میرا

تھوڑا سا اگر لون دے دے مجھ کو
بے شک قرقی کر لے جائیداد میری ضبط کر لے مکان میرا

ایک ایک پائی کا حساب چکا دوں گا تیبرا
اگر ن بن سکا کچھ تو نکال لینا دل میرا

انجم یہ بینک والے چوس لیں گئے
خون کے ساتھ شباب تیرا

اتنے میں ھمارا کھانا آگیا ہم کھانے میں مصروف ھو گئے کھانے کے بعد میں نے شریف بھائی کو ساتھ لیا اور سمندر کے کنارے بنچوں پر جا بیٹھے اب میں نے اپنی فل توانائی صرف کرنا شروع کر دی کے کسی طرح شریف بھائی سے یہ اگلوا لوں ان کے ساتھ آ خر ہوا کیا وہ تنگ آ کر بولے تم ضد کرتے ھو تو سنو پھر پر میری داسان سننے کے بعد تم مجھے منہ نہیں لگاو گیے بہت سارے دوستوں کی طرح میرا تجسس اور بڑھ گیا کے آخر کیا ایسا ہے جس کو سننے کے بعد سب اس قابل رحم شخص کو چھوڑ ریتے ہیں خیر اللہ اللہ کر کے اس نے زبان کھولی آگیے سنیے شریف کی ذبانی ----

اللہ کا دیا ھوا میرے پاس سب کچھ تھا گاڑی مکان کاروبار سب سے بڑھ کر نیک پارسا صوم و صلوة کی پابند محبت کرنے والی بیوی اور تین خوب صورت بچے میں شروع ھی سے بینک اکاونٹ کھولنے اور بینک سے کسی قسم کا لین دین کرنے کو حرام سمجھتا تھا اور اپنی سیونگ کے لیے ہرمہنے باقاعدگی سے کمیٹی ڈالتا رہتاتھا جب کمیٹی نکلتی اگر کہیں پیسوں کی ضرورت ہوتی خرچ کر لیتا ورنہ مزید بڑ ی کمیٹی ڈال دیتا پہلے تو میں دوسرے لوگوں کے پاس کمیٹی ڈالتا تھاپھر میں نے دوستوں کے اصرار پر ایک بیس لاکھ مالیت کی بڑی کمیٹی خود شروع کر دی جیسا کہ آپ کو معلوم ہے جو کمیٹئ ڈالتا ہے پہلی کمیٹی اسی کی ہوتی ہے جس دن میری کمیٹئ اگٹھی ہوئی تو اگھٹی بیس لاکھ کی رقم کو میں نے قیش بکس میں رکھ دی اور ساتھ ہی گاڑیوں کے شو روم نیے ماڈل کی کار دیکھنے چلا گیا میرا ہروگرام گاڑی لینے کا تھا کیوں پرانی کار پرانے ماڈل کی ھونے کی وجہ سے آے روز مکینک کے ہاں کھڑی رہتی تھئ مجھے شورام میں کافی دیر ھو گی جب ہوٹل واپس پہنچا تو رات کا ایک بج رہا تھا میرے ملازم ہوٹل لاک کر کہ سو چکے تھے میں نے ان کو جاگانا مناسب نہ سمجھا اور سیڑھیوں چڑھ کر اپنے اپارٹمنٹ میں جا کے سو گیا ..رات کو مجھے رقم کے بارے میں دو تین دفعہ یہ خیال آیا کہ میں کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیےتھا پھر یہ سوچ کہ دل کو تسلی دیتارہا کہ میرے ملازمین میں ایسا کوئی نہیں اور انکو ویسے بھی کیا پتا میں نے اتنی بڑی رقم یہہاں رکھی ہوئی ہیے میں اکثر دس بجے ہوٹل میں آتا تھا اس دن صبح چھ بجے ہی اترکرآ گیا آکر کیا دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ہوٹل کاشٹر ڈاون ہےاور باہر دودھ والے سمیت کافی تعداد میں لوگ ہوٹل کہ کھولنے کا انتظار کر رہے تھے یہ سارامنظر دیکھ کر میرئ چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹئ بجا دی خیر ہمت کر کہ میں آگئے بڑھا شٹر کو دیکھا تو وہ پہلے سے کھولاتھا جیسے ہی میں نے شٹر اوپر اٹھایا اندر کہ کے حالات دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگیے-میرے سارے ملازمین سو ئے یا بے ہوش پڑے تھے سوائے رحمت عرف رحمو کہ جو چائے والا تھا میرے ہوٹل ہر جس کا تعلق اندرون سندھ کچے کے علاقے سے تھا آگیے بڑھ کے سب سے پہلے لا کر کے ہینڈل کو گھما کے دیکھا تو وہ بدستور لاک تھا اطمیناں کرنے کے بعد میں ملازمین کے کمرے کی طرف بڑھا جو کچن سے متصل تھا میں نےانکو آوازیں لگائی لیکن کوئی رسپانس نہ ملا میں نہ آگیے بڑھ کر جب انکے چہروں سے کمبل اتارے تو صرف سانسیں چل رہی تھی چاروں بے حوش پڑھے تھے مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں رحمو کدھر گیا کسی نے اسکو اغوا کر دیا یا اس نے ان سب کو اس حال میں پہنچایا میں نے رحمت رحمو او رحمو کی دو چار آوازیں بھی لگائیں پر رحمو ہوتا تو جواب دیتا . اتنے میں دودھ والا چاچا مکھن خان بولا شریف وقت نہ ضائع کرو جلدی پولیس کو رپوٹ کر کہ ایمبو لینس کو بولا کر ان جلدی ہسپتال پہنچاو میں نے آپنے ایک جاننے والے ایس آئی مقبول جو کہ اتفاق سے گلشن اقبال تھانے کی عزیز بھٹئ چوکی کہ انچارج تھے میری دوسری ہی بیل پر انھوں نے کال اٹینڈ کر لی بولے شریف کیسے یاد کیا تمہاری آواز سے خیرت تو نہیں لگ رہی ہے میں نے کہا مقبول جلدی آو میں نے ایک ہی سانس میں ساری کہانی بتا دی; ساری معلومات لینے کہ بعد مقبول بھائی بولے میں دس منٹ میں پہنچا تم ایمبولینس کا ارینج کرو ملا زمین کو ہاسپٹل پہنچا نے کہ لیے میں نے ایدھئ والوں کو کال کی تھوری دیر بعد ایدھی کی دو ایمبولینس اور مقبول بھئی پولیس پارٹی کہ ہمراہ وہاں پہنچ گے آتے ھی انھوںنے ایک حوالدار اور ایک کانسٹیبل کہ ساتھ بےہوش ملازمین کو ہسپتال روانہ کر دیا اور خود حالات کا جائذہ لے کر ایف آئی آر کے لیے مواد اکھٹا کرنے لگے مجھ سے انھوںنے لاکر کی چابی لی اور ھاتھوں پر پلاسٹک کے داستانے پہن کر لاکر کھولنے لگے لاکر کھل جانے کہ بعد انھوں مجھے پاس بولایا اور پوچھنے کہاں پر رکھئ تھی رقم آگے بڑھ کرکیا دیکھتا ہو ں ھر چیز اپنی جگہ پر مجود ہے پررقم تھیلے سمیت غائب ہے;

میرا پروگرام تو شریف بھائی کی کہانی کو کافی لمبا کرنے کا تھا پروقت قلت آڑھے آگئی دوسرا موبائل سے اردومیں لکھنا میرےلیے کافی مشکل ہے تیسرا کچھ دوستوں نےان بکس کر کہ جلدی ختم کرنے کا مشورہ دیا اگر زندگی نے وفا کی تو اس سٹوری کوایک سبق آموز کہانی بنا کر باقاعدہ ناول کی صورت میں لکھوں گا:
شریف بھائی کی کہانی آگے مختصر انداذ میں مجھ سے سنیے شریف نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ہوٹل کے تمام تالوں کی چابیاں ڈبل کروانے کے کیے لاک ماسٹر کو دی اور ان کو واپس لانے کےلیے رحمت عرف رحمو کو بیھجا تھا جس نے مکاری ایک عدد سیٹ فالتو بنوا کر اپنے پاس رکھ لیا اور جیسے ہی اس کو ملا اس نے چائے میں نشہ آور گولیاں ملا کر سب کو بے ہوش کر کہ ساری رقم لے اڑا

اس کہ بعد انھوں نے مقبول کہ ساتھ مل کر ایف آئی آر کٹوا کر رحمو کہ پھیچھے ایک پولیس پارٹی روانہ کی پر حاصل کچھ نہ ھوا الٹا ڈاکوں کی فائرنگ سے ایک پولیس والا زندگی بھر کے لیے معذور ہو گیا ان سب چکروں میں شریف کی ساری جمع پونجھی بھی گئی اور ھوٹل بند رھا جیسے ہی اگلا مہینہ شروع ہوتے ہی جب کمیٹی دینے کا وقت آیا تو شریف بھائی کی بربادی کا آغاز یہں سے ھوا اتنی بڑی رقم کا بندوبست کیسے ہوتا ایک دوست کہ مشورے پر بنک سے قرض لینے کا فیصلہ کیا بینک کی لیڈی منیجر پڑی خندہ پیشانی سے پیش آئی اس نے ساری داستان سننے کہ بعد نہ صرف ہمدردی دیکھائی بلکہ اسی وقت چند ضروری کاغزات پر دستخط لینے کہ بعد دوسرے دن ھوٹل کہ کاغذات سمیت آنے کو کہا;

دوسرا سارا دن کاغذات کی تیاری میں لگ گیا اگلے دن جیسے ہی بینک پہنچے بینک منیجر کو منتظر پایا اس نے شری بھائی کو سیدھا اندر اپنے کیبن میں بلا لیا اور انکواکاونٹ کھولنے کہ لیے کہا شریف مرتا کیا نہ کرتا اکاونٹ کھولوا لیا اگلے دن ۲۲ لاکھ کی رقم شریف کے اکاونٹ میں منتقل ہو گئ لوگوں رقم واپس کر کہ کمیٹی ختم کر دی گئی پر ہوٹل مذیر ایک ماہ تک نہ کھل سکا اور شریف بھائی پر ہر طرف سے ادھار چڑھتا گیا ایک وقت آیا کہ بنک کی قسط اتارنے کہ پیسے نہ ہونےکی وجہ سے نوٹس پر نوٹس ملنا شروع ہو گیے شریف کا بنک میں آنا جانا رہتا تھا کافی حد تک بنک منیجر اور شریف ایک دوسرے کے قریب آجکے تھے شریف نے نوٹس کے بابت بات کی تو بنک منیجر بولی میں ہوں نہ میرے ہوتے ہویے آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہیے ہمدردی کہ یہ دو بول نسوانی آواز میں کیا سننے تھےکہ شریف بھائی دل ہار بیٹھے بلکہ دل دے بیٹھے پھر جو بنک منیجر کہتی گئی یہ کرتے گئے اور پہلے لون کوختم کرنے کہ لیے اور لون لے لیا جب سہی طرح سے چنگل میں پھنس چکا تو بنک منیجر بولی شریف ایسےکب تک چلے گاکہیں مہنگے علاقے میں کوئی اچھا سا کاروبار شروع کرتے ہیں جس سے تمھاری بنک کی قسط بھی چلتی رہے گی اور گھر کا خرچ بھی چلتا رھے گا اور اس میں میں بھی تمہاری پارٹنر ہوں گی یہ سننا تھا کہ شریف جو پہلے ہی محترمہ کہ آگئے دل ہاربیٹھا تھا بولا بتاو میں کیا کروں وہ بولی زمین کہ کاغزات پر تم تھوڑا قرض اور لو باقی میں اپنا فنٹڈ نکلواتی ہوں اور ڈیفنس کہ علاقے میں بوتیک کھولتے ہیں آج کل ویسے بھی یہکام عروج ہر ہے شریف جو پہلے ہی شیشےمیں اتر چکا تھا راضی ہو گیا قرض بھی مل گیا کاروبار بھی شروع کر دیاگیا بنگ منیجر اور شریف اب اور قریب رہنے لگے شریف کو جب پتہ چلا کہ اسکی طلاق ہو چکی ہے اور بچہ بھی کوئی نہیں تو شریف نے شادی کی پیشکش کرڈالی منیجر جو چاہتی ہی یہی تھی تھوڑی لیت و لعل کہ بعد اس نےبھی ہاں کر دی اور دونوں نے کسی کو کان و کان خبر نہ ہونے دی اور شادی رچا لی;
اس کہ بعد کچھ دن معملات صیح چلتے رہے پھر شریف جب راتوں کو دیر سے گھر آنے لگا تو وفا شعار بیوی نے بھی زبان کھولنا شروع کر دی کچھ عرصہ تو بات تکرار تک ہی رہی پھر مار پیٹ بھی شروع کر دی شریف جب مجھے یہ سب بتا رھا تھا مجھے اس پر غصہ آنےلگاکہ اس نے اس فرشتہ صفت عورت پر ھاتھ اٹھایا جس کی تعریف کہ لیے میرے پاس الفاظ نہیں تھے میرا تو شریف کہ گھر آنا جانا تھا اس کہ دونوں بیٹے اور بیٹی میرے ساتھ کافی مانوس تھے خیر جب حلات ذیادہ بگھڑے بھابی کہ بھائی آ کر بہن کو لے گیے

اب شریف کو مذید آسانی ہو گئی تھی نئی بیوی کہ ساتھ عیاشی کرنے کی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظورتھا ایک دن جب وہ بوتیک سے نکل رھا تھا سامنے کا منطر دیکھ کر اس کہ پاوں تلے زمین نکل گئی اس بینک منیجر بیوی ایک پراڈو سے اتر رہی تھی جس پر پولیس کی نمبر پلیٹ لگی تھی خیر اگر معاملہ اگر صرف ڈراپ کرنے تک کا ہوتا توشاید شریف یہ کڑوا گھونٹ بھی پی لیتا ہرالوداعی سین دیکھ کر اس کاخون کھول اٹھا گر آ تے ہی بیوی کو جب اس بابت پوچھا تو اس نے صفائی میں کچھ کہنے کہ الٹا شریف کو جاہل اور گنوار کہا یہ سننا تھا کہ شریف نے اسکو تھپڑ مارا جو اسے بہت زورکہ لگا پر چپ رہی تھوڑی دیر بعد رو رو کر شریف سے معافی مانگ لی شریف نے بھی آیندہ ایسا نہ کرنے کی نصیحت کر کہ معاملہ رفع دفع کر دیا رات کو دو بجےگھر کی بیل بجی بیوی نے کہا میں دیکھتی ہوں جا کہ کون ہے شریف بولا مرد کہ ہوتے ہو ے عورت کاکام نہیں کہ وہ دروازہ کھولے شریف نہ جیسے ہی دروازہ کھو لا آنے والے نے سر پر ایسی چوٹ ماری کہ شریف کوکوئی ہوش نہ رہا جب دوسرے دن ہوش آیا شریف نے دیکھا کہ کسی پرانے سےمکان کا کوئی کمرہ تھا جس کی چھت کافی اونچی تھی روشن دان سے روشنی آ رہی تھی شریف کو جب ہوش صیح آیا تو اسےسخت پیاس محسوس ہوئی اس نے پانی پانی کی آوازیں لگائی تو ایک سندھی لباس میں ملبوس شخص آیا اورپانی کا جگ ٹیبل پر کرجب جانے لگا تو شریف نے پوچھا کہ بھائی میں کہا ں ھوں اور یہ سب کیا ہے وہ بولا سب پتا چل جائے گا شام کو جب صاحب آئیں گئے تو ;
تھوری دیر بعد وہی شخص کھانہ لے کر آیا تو شریف نے اس سے بھائی یہ سب کیا ھے میں کدھر ھوں میرے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے وہ بولا کیا نام ہےتمہارا شریف نے نام بتایا تو وہ بولا تم مجھے واقعی شریف لگتے ہو یہ بہت خطرے ناک لوگ ہیں جو یہ کہیں مان لینا ورنہ تیرے ساتھ بہت برا سلوک کریں گئے یہ صاحب کا پرائیویٹ ٹارچر سیل ہے اتنے میں ساتھ والے کمرے سے میں مرگیا مجھے مت مارو جو کہتے ہو میں کرنے کہ لیے تیار ہوں یہ سب سننے کہ بعد شریف کو کھانا بھول گیا اور اس سوچ میں پڑھ گیا کہ کیا میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا -

کافی وقت گزرنے کہ بعد ایک شخص اور ایک عورت کمرےمیں داخل ہوے یہ اسکی بینک منیجر بیوی اور وہی شخص تھا جس کہ ساتھ گزشتہ روز اپنی بیوی کو دیکھ کر ان کا آپس میں جگھڑا ہوا تھا لیکن اس وقت یہ آدمی پولیس یونیفارم میں تھا اور اعلئ عہدے کا کوئی افیسر تھا اس نے آتے ہی دو چار غلیظ گالیاں دے کر کہا میری بیوی کوتم نے تھپڑ مارا تھا میں تمہارا خون پی جاوں گا شریف بولا یہ بیوی میری ہے تمہاری نہیں یہ سننا تھا کہ اس نے شریف پر لاتوں گھو نسوں کی بارش کر دی;

مارتے ہوے بینک منجر نے بچ بچاو کروایا اور بولی جانوں اسے مارو نہیں بلکہ کاغزات دو اسے اگر سائن نہ کرے پھر بھلے جان سے مار دینا پھر اس نے ایک ملازم کو آواز دی کہ کاغزات لے آو اتنے میں ایک ملازم ایک فائل لےکر اندر آیا اور قلم لاکر شریف کو دے کربولا کہ ادھر سائن کر دو شریف جب پیپر دیکھے تو یہ طلاق کے پیر تھے سائن کرنے سے پہلے ایک نظر شریف نے اپنی بینک منیجر بیوی کو دیکھا تو وہ بولی دیکھتے کیا ہو شاباش سائن کرو تم کیا سمجھے میں ساری عمر تم جیسے گنوار کہ ساتھ گزاروں گی یو تو ہمارے درمیان معمولی سی وجہ سے طلاق ہو گئی تھی اور ہمیں ایک آدمی کی تلاش تھی جو کچھ دنوں کہ لیے نکاح کرنے کہ بعد طلاق دے دے تاکہ ہم پھر سے نکاح کر لیں لیکن یہ ہماری خوش قسمتی ہے ہمیں تمہاری صورت نہ صرف وہ بندہ ملا بلکہ قربانی کا وہ بقرہ ملا جس نے ہمیں بہت فائدہ دیا ;
یہ سب سن کر شریف نے بلا چوں چراں پیپر پر سائن کر دیے دستخط لینے کہ بعد پولیس والا بولا شاباش اگر اسی طرح تعاون کرتے رہے توجلد تمہیں یہاں سے رہائی مل جائے ورنہ تمہاری لاش کو کوے اور چیلں ہی کھائیں گی پھر پولیس آفیسر نے کلرک نماملازم سے پوچھا دوسری فائل بھی تیار ہے وہ بولا سر اس میں ابھی ایک آدھ دن اور لگ جائے گا وکیل کہ پاس ہے اچھا جب تیار ہوئی مجھے فون پر بتا دینا اب ہم چلتے ہیں ڈرائیور کو بولے گاڑی لے آئے اوکے سر یہ کہہ کر وہ سب لوگ کمرے سے نکل گئے اور شریف اس تذبزب میں مبتلا ہو گیا کہ طلاق پر دستخط تو لے لیےاب یہ دوسری فائل کون سی ہے انھئ سوچوں میں گم شریف بیڈ پر لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا کہ ایک ملازم کھانا لے کر داخل ہوا تو شریف بولا بھائی مارتے بھی ہو اور کھانا بھی ٹائم ٹو ٹائم اچھا دیتے ھو وہ بولا یہ میڈم کا آڈر ھے بلکہ آج جاتے ھوے گولڈلیف کہ سگریٹ کا ایک پیکٹ بھی دے کر گئی ھیں-شریف جس نے دودن سےسگریٹ نہیں تھا سگریٹ ملتے ہی اس نے سگرٹ سلگا لیا اسے ذائقہ تھوڑا مختلف سا لگا پر پی گیا اس کہ بعد اسے سخت بھوگ لگی تھی تو کھانے میں مصروف ہوگیا کھانے کہ بعد ایک اور سگریٹ پیا اور نیند کا ایسا غوطہ آیا کہ دوسرے دن کہ دس بجے آنکھ کھولی یہ دن بھی گزر گیا کوئی نہ آیا اگلی رات کو دس بجے کے قریب بینک منیجر صاحبہ ہمراہ پولیس آفیسر اور کلرک کے ہمرا کمرے داخل ہوئی اور ایک فائل لے کہ اس پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گی اور سیاہی والا پیڈ کھول کہ مختلف جگہوں پر انگوٹھے لگانے کا کہا شریف نے پوچھا یہ کیا ہے تو اس کی نظر پولیس والے پر پڑی جو بیلٹ کھول رہا تھا شریف سمجھ گیا کہ انکار کی صورت میں آگے کیا ہونے والا ہے اس نے اسی میں عافیت جانی کہ جو کہتے ہیں وہ کرتا جاوں انگو ٹھے اور دستخط لینے کہ بعد انھوں نے شریف کو بتا یا کہ یہ ہوٹل والی بلڈنگ کہ کاغزات ہیں جو تم نے حق مہر کی صورت میں اپنی بیگم کو ادا کر دیا اب طلاق کی بعد یہ اسکی ملکیت ہے اور بنک کی اقساط بھی یہ ادا کر دے گی کیونکہ اب اکیلی وارث ہے یوں شریف کہ ساتھ بہت بڑا ہاتھ ھوا اور مزید ایک مہینے تک ادھر رکھا گیا اور نشے کا زھر مسلسل اس کے جسم میں اتارتے رہے سگریٹ کی صورت میں اور انجکشن کی صورت میں شریف کع معلوم توھو گیا تھا کہ اسے نشہ دیا جو رہا ہے پر کر کچھ نی سکتا تھا نی لیتاتوجسم ٹوتا ایک دن اسے اٹھا کر اسے نشے کا انجکشن لگا کر اسے نیم بے ہوشی کی حالت میں اختر کالونی میں اسکی بہن کہ گھر کے باہر پھینک دیا گیا پوری رات ادھر ہی پڑا رہا;

صبح محلے کے کسی بچے نے اسے پہچان لیا اور شریف کی بہن کے گھر کی بیل بجا دی اور بہن بھائی کو اس حال میں دیکھ کر زاروقطار رونے لگی اور بھائی کو اٹھوا کر اندر لے گئی ایک ڈیڑھ مہنے تک اپنے پاس رکھ علاج کروایا پولیس میں رپوٹ درج کروائی پر اتنے سنیئر افیسر کہ خلاف کاروئی کرنے کی کسی میں ھمت ن ہوئی الٹا انہیکو ڈرایا دھمکایا گیا جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی بہن منت سماجت کر کہ ملک چھوڑنے پر راضی کیا اور یوں ویزہ لے کر یو اے ای آگیا ;

میں نے پوچھا ویزہ کس نے دیا کیسے ملا پیسے کدھر سے کیے توشریف بولا میرا پاسہورٹ تمھاری بھابی کہ پاس تھا وہ جن لوگوں کہ پاس جاب کرتی ہیں وہ بہت بڑے لوگ ہیں اسی نے سب کچھ ارینج کیا مجھے تو نہ وہ ملی نی کچھ بتایا میں نے پوچھا کیا مطلب بھابی اور بچے اب کدھر ھیں شریف لمبی آہ لے کر بولا مجھےنئی معلوم میں نے بنک والی سالی سے شادی سے پہلے اسے طلاق دے دی تھی;اس سے آگے مجھ میں اس کمینے شخص کی مزید روداد سننے کی ہمت نہ ہوئی جس نے ایک بازاری عورت کے لیے ایک فرشتہ صفت عورت کو طلاق دے کرگھر سے نکال دیا; کیوں کہ میری آنکھوں کہ سامنے بھابی اور بچوں کے معصوم چہرے گھوم رہے تھے میں بنا سلام کیے اوک بائے کہ چل دیا پیجھے سے ایک آواز آئی محبوب میں نے کہا تھا نہ کہ داستان سننے کہ بعد تم بھی مجھے چھوڑ

دوگئے میری بات ایک سنتے جاو پر میں نے کوئی بات نہ سنی اور وہاں سے چلا آیا مجھے نئی معلوم میں نے صیح کیا یا غلط یہ آپ قارئین مجھے کو مینٹس میں بتانا پلیز اوراس کہانی سےآپ کو کیا سبق جو کہ سو فیصد سچی کہانی ہے .

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mahboob Hussain Anjam
I am nothing.. View More
03 Mar, 2018 Views: 4148

Comments

آپ کی رائے