شام کی صورتحال اور توقعات

(Maryam Samar, لائیبریا)

دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہے جہاں امن کی فاختہ آزادی سے پر پھیلائے خوشی اور شادمانی کے نغمے سناتی ہو۔

اسلامی ممالک کی صورتحال دیکھی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے ظلم،زیادتی، جبر،ناانصافی اور قتل کی نت نئی تراکیب آزمائی جارہی ہیں۔ ایسے ایسے مظالم کہ سن اوردیکھ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، انسانیت شرم سے سر نگو ں ہوجائے، پھرامن و محبت کے دہرائے اسباق ہوا میں تحلیل ہوتے اور ان کے صفحے کبھی بم دھماکوں،خود کش حملوں، بچوں کی اموات کی صورت تو کہیں زنیب جیسی ہزاروں بچیوں پر بہیمانہ تشدد ، قتل، بسوں لاری اڈوں پر بچوں سے ٹرک ڈرائیور کنڈیکٹرز کا ریپ،مشعال کا ہجوم کے ہاتھوں قتل، ساجد مسیح کا اپنی عزت بچانے کے لئے چھت سے چھلانگ لگانا،آسیہ بی بی پر جھوٹا مقدمہ، اقلیتوں پرپے درپے مظالم ا،خلاقی بے راہ روی اور کرپشن کے جنازوں کے ساتھ ہوا میں اڑتے پھر رہے ہیں۔

ادھر بچارے مسلمانوں کے سروں پر مسلط ظالم جابرمسلم حکمران کرپشن کے گندے گڑھے میں اشنان کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر عوام،کیا اکثریت، تو کیا اقلیت۔۔ انہیں کے گن گاتی اور اپنے بچوں پر ہونے والے قتل زنا جیسے واقعات پر جوا کھیلتی نظر آتی ہے۔ اب حد تو یہ ہے کہ ظلم، زیادتی اورریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی ننھی منی آوازوں کو اسلام دشمنی اورملک سے غداری تصور کر لیا جاتا ہے۔

جیسے ایک بزدل شخص کو ایک طاقتور شخص مارتا ہے تو وہ مقابلہ کرنے کی بجائے ہر بار دہراتا ہے اب کے مار، اب کے مار۔۔۔۔۔۔ اور طاقتور شخص ہر بار ایک طمانچہ رسید کرتا چلا جاتا ہے بغیر کسی خوف و خطر کے تو کچھ ایسی ہی صورتحال ہوچکی ہے ہمارے عوام کی۔ مار کھاتے چلے جاتے ہیں مگر ظالم جابر حکمران کے خلاف کلمہ حق کہنے کی جرات نہیں۔ جبکہ کہتے ہیں عوام حکمرانوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ مگر جب بے حسی، سچائی سے منہ موڑنے اور ظلم سہنے کی عادت، عادت ثانیہ بن جائے تو طاقتور بھی کمزور ہوجایا کرتا ہے،۔
پھر کہیں موروثی سیاست کی محبتیں ہیں تو کہیں عقیدت کی اندھی پٹیاں، کہیں چند ٹکوں کی چکاچوند روشنی ہے جو دل و دماغ کو نہ صرف ماوف کر دیتی ہے بلکہ پاگل پن اور بیوقوفی کی آخری سرحد پر چھوڑ آتی ہے۔

پھراس سب کے بعد، قلم کاروں سے یہ توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ اپنے ملک میں ہونے والے ہر ظلم، زنا، جبر،اقلیتوں سے زیادتی، بچوں سے جبری مشقت،ان سے ریپ، حکومتی کرپشن،انتشار،،غیرت کے نام پر قتل، فرسودہ رسومات، خودکش دھماکے، بڑھتے ہوئے ہجوم کا جلاو گھیراو، قتل اور دوسری ایسی تمام بیماریاں ایک طرف رکھ دیں اور چلیں،فلسطین،کشمیر، افٖغانستان، شام اور یمن میں جہاد کرنے۔

اور مضحکہ خیز صورتحال دیکھئے کہ کہہ کون رہا ہے جن کے اپنے بچے مغرب میں آزادی کی سانس لے رہے ہیں وہاں کی زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہورہے ہیں۔

ہمارے کون سے حکمران ہیں جن کے بچے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں؟ اور اب تو آئے روز یہ خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں کہ علماء کرام جو دوسروں کے بچوں کو جہاد پر بھیجتے ہیں ان کے اپنے بچے ماڈلنگ کرتے ہیں۔ پردے پر زور تو اپنے چاہنے والوں پرخوب چلتا ہے مگر اپنی اولاد مغرب میں آزادی سے بے پردہ گھومتی عیاشی کرتی ہے۔

ایسا تضاد عقیدت مندوں کو کیسے نظر آئے جب آنکھیں حقیقت دیکھنے سے قاصر ہوں جب تعصب کی پٹی بندھی ہو جب اندھے، بہرے اور گونگے ہوکر سمجھنے ،سوچنے اور حقیقت تسلیم کرنے کی تمام صلاحیتں مفقود ہوجائیں۔

پھر جنازوں کا جوحال بڑھتی ہوئی بے حسی کر رہی ہے وہ نجانے کس مقام تک لے جائے کس انتہاوں تک پہنچا دے۔ عبدالستار ایدھی ہوں،عاصمہ جہانگیر یا پھر سری دیوی کی وفات ایک انسان کی موت کی بجائے ان کے نظریات ان کے عقیدوں پرمذہب کے ٹھیکدار جزا سزا کا فیصلہ زمین پر کرتے نظر آتے ہیں۔ اﷲ میاں کو تو بالکل ہی سائیڈ لائین کر دیا ہے کہ جیسے اب اﷲ کا کام ا بس پنی مخلوق کے کرتوت دیکھنا ہی رہ گیا ہے۔

ابھی دو مہینے قبل لیبیا میں لائیبریا سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام افریقیوں کو اس قدر سفاکی اور بربریت کی انتہا کرتے ہوئے مارا کہ ویڈیو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ عورتوں کو برہنہ کرکے ان کے اعضاء کاٹے گئے ،حاملہ عورتوں کے حمل ضائع کر دیئے گئے، مردوں کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں مار دیا،کئی کئی دن بھوکا پیاسا رکھا گیا، بجلی کے جھٹکے دیئے گئے اور پھر ان سب کے پیچھے اﷲ اکبر کی صدائیں گونجتی سنائیں دیتیں ۔

مجھے یہ ویڈیو باربار دکھائی جارہیں تھیں ایک عجیب قسم کا ماحول تھا وہاں کام کرنے والا ایک لڑکا غصے سے پاگل ہورہا تھا ایک طویل عرصہ یہ لوگ ابولا جیسی جان لیوا بیماری سے لڑتے رہے اس سے قبل چودہ سال سے جاری جنگ ان پر مسلط رہی۔ اب یہ لوگ تھک چکے تھے ٹوٹ چکے تھے اس قسم کی خبروں نے انہیں اور بھی مشتعل کر دیا مگر یہ بچارے کیا کر سکتے تھے۔

میں نے کہا یہ ظلم ہے، زیادتی ہے۔ ایک مسلم ملک میں ہونے والے ظلم پر بحثیت مسلمان آپ سے معذرت خواہ ہوں دکھ کی اس گھڑی میں آ پ کے ساتھ ہوں اور مجھے بے حد افسوس ہے۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیبیا ایمبیسی کے باہر پر امن احتجاج کیا گیا۔ چند دن تک بچے کھچے افریقی اپنے ملک لائے گئے ان کا بھرپور استقبال کیا گیا بے حد جزباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔

اس سب صورتحال کے باوجود کہ افریقی عیسائی جو اکثریت میں ہیں اور مسلمان اقلیت میں۔۔ ان کی دکانیں محفوظ رہیں کسی قسم کا جلاو گھیراو قتل و غارت گری کا بازار گرم نہ کیا گیا۔ ہمارے ملک میں تو عیسائیوں پر جھوٹا توھین کا الزام ہی لگ جائے تو ہجوم بے قابو ہوجاتا ہے اور ایمانی جزبے سے سرشار ہوکر بستی کی بستیاں جلا دی جاتی ہیں۔ نجانے یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عقیدت محبت ان کے ناموس کی حفاظت کے کون سے عجیب و غریب طریقے ایجاد ہوئے ہیں۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کینیڈا جیسے پرامن ملک میں اسلامی بم پھٹتے ہیں۔ امریکہ سمیت ہر ملک میں اسلامی خود کش حملوں کی روایت پڑتی ہے۔اور مسلمان شہداء کی تعداد بڑھتی ہے۔

باوجود ان تمام حقائق کے ہم انہیں ممالک سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ جب ہمارے اپنے ہی مسلم حکمران، کافروں
غیر مسلموں کیساتھ مل کر ہمارے بچے ذبح کریں اور ان کا قتل عام کریں،تو یہی ملک بھاگے چلے آئیں اور امن قائم کرنے میں ان کی مدد کریں۔

ادھر لکھنے والوں سے یہ توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ اپنے ملک کے سنگین حالات پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں اور شام، یمن، کشمیر اور فلسطین میں امن کی فاختہ اڑائیں۔ جبکہ ہمارے تو اپنے ہاتھوں کے طوطے اڑ چکے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Samar

Read More Articles by Maryam Samar: 3 Articles with 919 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2018 Views: 388

Comments

آپ کی رائے