رسمِ جفا کا ہوگا ،اگلا شکار کون؟

(Awais Khalid, Okara)

برما کے مسلمانوں کے زخموں سے ابھی خون رِسنا بند نہیں ہوا تھا کہ دین و دنیا کے دشمنوں نے ملکِ شام کے مسلمانوں پرظلم و بربریت کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے ۔سوال جو پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو اس حیوانیت سوز سلوک کا اگلا شکار کون ہو گا؟اگر ہم اسی طرح دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے قتل عام پر مجرمانہ غفلت برتتے رہے اور خاموش تماشائی بنے رہے تو کل بروز قیامت کیا منہ دکھائیں گے۔ جینا تو دو طرح کا ہی ہے،ایک عزت و احترام سے مضبوط و مستحکم ہوتے ہوئے سر اٹھا کر جینا،اور دوسرا عزت نفس کا سودا کر کے غلامانہ طرز حیات اختیار کرتے ہوئے ذلالت و ماندگی میں خود کو جھونک دینا۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ بحیثیت قوم ہماری حالت موخر الذکرقوموں والی ہے ۔سب سے بہترین قوم ہوتے ہوئے بھی آج ہم بے بس و مجبور ہیں،لاچار ہیں۔کیونکہ غافل ہیں،نافرمان ہیں،بے ادب ہیں۔ابھی برما کی دل دہلا دینے والی تصاویر قلب و نظر سے دھندلائی نہیں تھی کہ شام کے ننھے معصوم بچوں کے کٹے پھٹے لاشے انسانیت کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے ہماری غیرت کو جگانے پہنچ گئے لیکن کیا کریں ،سچ تو یہ ہے کہ ساری قوم پی ایس ایل کرکٹ میچ دیکھنے میں مصروف ہے اور غم منانے کی فرصت تاحال موجود نہیں ہے۔اُدھربچے کھچے غموں سے چُور لوگ وائپر سے اپنے پیاروں کا خون اکھٹا کرتے نظر آتے ہیں تو ادھر ایک ایک گیند پر ماہرانہ تبصرے فیس بک کی زینت بن رہے ہیں۔مسلمانوں کی ادھڑی ہوئی لاشیں تو ہمارے ضمیر نہ جگا سکیں ہاں البتہ سری دیوی کی موت نے اس قوم کو افسردہ ضرور کر دیاہے۔اب تو ہمیں اتنی انگریزی آ گئی ہے کہ کافر کو بھی (RIP) rest in peace))لکھ کر اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ہیں۔اور دیکھا دیکھی اس پوسٹ کے نیچے دعاؤں کے انبار لگتے جاتے ہیں جو ہمارے اعمال و وابستگی کاناقابل تردید ثبوت بن جاتے ہیں ۔ اقبالؒ نے تو کہا تھا کہ ہم وہ مسلمان ہیں جن کو دیکھ کر یہود بھی شرما جائیں،لیکن معذرت کے ساتھ (کیونکہ حضرت اقبال جیسی ہستی سے اختلاف کے لیے خاص ہمت چاہیے )یہود بھلاکیوں شرمائیں گے؟وہ تو اپنے مشن کی کامیابی پرنازاں ہوں گے۔انہوں نے مسلمانوں کو ان کے دین سے جدا کر کے ضعف کی جس حالت تک پہنچا دیا ہے ،یہ ان کی فتح ہے۔لہذا ان کے شرمانے کا کوئی جواز نہیں بلکہ وہ تو اب فخرسے دندناتے پھرتے ہیں ۔مسلم ممالک میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اب انہیں مکمل اندازہ ہے کہ اس طرف سے کوئی ردعمل نہیں آنے والا ۔ویسے ہولی سے یاد آیا کہ چند دن پہلے سکھر کی ایک یونی ورسٹی میں ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کرنے کی غرض سے مسلمانوں کی اولادوں نے پورے جوش و خروش سے ہندوؤں کے سنگ ہولی منائی ۔یقینا ملک شام کے مسلمانوں کے خون میں ڈوبے ہوئے کپڑے دیکھ کر اپنے کپڑوں پر رنگ پھینک کر ان سے اظہار یکجہتی کر رہے ہوں گے۔ایک دانشور کے سامنے شکوہ کیا تو کہنے لگا کہ ویسے سچ تو یہ ہے کہ ایک عام آدمی جہاد بھی تو نہیں کر سکتا۔کرے تو دہشت گرد۔وہ انتالیس ممالک کی اتحادی فوج اچانک سے پھر یاد آ گئی،لیکن خیر چھوڑیں ان کے اپنے اہداف ہیں،اپنی مجبوریاں ہیں،وہ کوئی فارغ تھوڑی ہیں۔ایک اور بات بھی اندر ہی اندر سے کھائے جا رہی ہے کہ جس اسلام نے چودہ سو سال پہلے جن بتوں کو سرزمین عرب سے نکال باہر کیا تھا ،اسی دین کے وارثوں نے ان بتوں کو بصد عزت و احترام واپس سر زمین عرب میں جگہ دے کر فراخ دلی کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ ویسے ہندو پنڈتوں کے ساتھ سفید چغوں والے جچے بالکل نہیں،مگر یہ سمجھائے گا کون؟بت پرست و بت گر اوربت شکن ایک ہوئے ۔تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی " فیک" ہو ئے۔ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ سیاست،ثقافت اور کھیل اب پسندیدہ موضوعات ہیں۔سوشل میڈیا بہترین مصرفِ حیات ہے۔بے تکے تبصروں اور تجزیوں کی بھرمار ہے۔ہر طرف جھوٹ کا طومار ہے۔ڈگریوں کے انبار لگے ہیں لیکن تربیت و تحقیق کا فقدان ہے۔گھاٹے میں انسان ہے ۔بقول راقم:
کیسے کریں امید کہ ہو ان میں دیدہ ور
اس نسلِ نو کے ہاتھ جب تعلیم ہے غلط

ایک آواز اٹھتی ہے کہ یہودیوں کی بنائی گئی مصنوعات کا بائیکاٹ کر و اور دیکھو انہیں روزانہ کتنے ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔لیکن یہ آواز ترقی کے ان کے کھوکھلے نعروں کے شور میں دب جاتی ہے کہ جب پتہ چلتا ہے کہ بائیکاٹ تو کر دیں لیکن پھرمتبادل کے طور پر استعمال کیا کریں؟کیونکہ خود تو ہم نے کچھ بنانے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی۔اپنے پاؤں پہ خود کھڑے ہونے کا ہنر ہمارے قانون کی کتاب کے جن اوراق پر لکھا تھا ان پر مفاد پرستی کی ایسی گرد پڑ چکی ہے کہ اک حرف بھی نظر نہیں آتا۔اور نہ کوئی پڑھنے کا روادار ہے۔حدیث میں آتا ہے ،جس کا مفہوم ہے کہ جب اہل ِ شام تباہی کا شکار ہو جائیں تو پھر تم میں کوئی خیر باقی نہ رہے گی ۔(بحوالہ سنن ترمذی،2192)۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ کسی "سیانے" سے اس حدیث مبارکہ کا مطلب سمجھیں۔عقل پر ڈالروں کے پردے پڑے ہیں۔ہتھیار بیچ کر سازینے خریدے جا چکے ہیں۔جو باقی بچے ہیں ان کا بہترین مصرف مسلم امہ کے دفاع کی بجائے اشرافیہ کو سلامی دینا ہے۔عورتوں نے جنازوں کی صفوں میں جگہ بنا لی ہے ۔دست عدل کی تقسیم غلط ہوئی پڑی ہے ۔ہوا سمت مخالف میں ہے۔رات تاریک ہے۔طوفان کے تپھیڑے ہیں۔کشتی کا لنگر ٹوٹ چکا ہے،ناخدا سو رہا ہے،خیر دوا نہیں تو دعا تو ہم کر ہی سکتے ہیں کہ ہمارے پروردگار! بے بس مسلمانوں کی مدد فرما۔کسی مچھر کو پھر نمرود کے کان میں گھسا دے،فرعون کو عصا کی ضرب لگا دے،اسے سمندر کی لہروں میں ملا دے۔ شداد کو بہشت کے دروازے سے اٹھا دے۔ ہامان کو رسوائی کا جام پلا دے۔دشمن اسلام کو ابدی نیند سلا دے ۔تو نے چاہا تو کوئی قاسم کوئی محمود لوٹ آئے گا۔کچلنے طاغوت کو ایوبی بھی سر اٹھائے گا۔تو نے چاہا تو خون مسلم رنگ لائے گا۔دشمن اسلام نست و نابود ہو جائے گا اور نشان عبرت کا قرار پائے گا۔تو نے چاہا تو بے بسی بھی ختم ہو جائے گی اور بے حسی بھی،آمین۔۔۔بقول راقم:
آواز آج سب کی جو حلق میں دبی ہے
ہر ایک کو ہی اپنی بس ذات کی پڑی ہے
برما کے سر سے ہو کر اب شام پر ہے آئی
سوچو کہ اگلی باری کس ملک کی لگی ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Awais Khalid

Read More Articles by Awais Khalid: 31 Articles with 13919 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2018 Views: 327

Comments

آپ کی رائے