نچلی سطح پر انتخابی مراحل میں اصلاحات کی اشد ضرورت

(Hafeez Ullah Qureshi, Mianwali)

موجودہ سال انتخابات کا سال ہے سال کے وسط میں انتخابات متوقع ہیں ماضی میں متعدد سیاسی جماعتوں نے کئی بارالیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتی رہیں اور انتخابی عمل اور انتخابی مراحل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتی رہیں جبکہ ہر بار الیکشن کمشن اپنے زیرِنگرانی کرائے گئے انتخابات کو شفاف ہی گردانتا رہا انتخابی مراحل میں جہاں اعلیٰ سطح پر اصلاحات ضروری ہیں وہیں نچلی سطح پر بھی انتخابی عمل کو بہترکرنے کی اشد ضرورت ہے چونکہ بحیثیت ماسٹرٹرینر انتخابی عملے کو میں کئی بار تربیت دے چکا ہوں اور پولنگ کے روز بھی عملے سے مسلسل رابطہ رہتا ہے کیونکہ وہ اس روز وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی مسئلہ کا حل دریافت کرتے رہتے ہیں لہٰذا میں انتخابی عملے کی تعیناتی،و تربیت سے لیکر پولنگ کے روز نتائج جمع کرانے تک کے عمل کا بخوبی و تنقیدی جائزہ لے چکا ہوں اس مشاہدہ کے دوران جو خامیاں میری نظر سے گریں اور ان میں کیا بہتری لائی جا سکتی ہے اس پہ تھوڑی بات ہو جائے

انتخابی عملے کی تعیناتی:۔ انتخابی عمل میں امیدواروں سے درخواستیں کی وصولی اور ان کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ انتخابی عملے کی تعیناتی کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے جس میں چند ضروری باتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ عملہ کا تعلق ایک ہی ادارہ سے نہ ہو بلکہ مختلف اداروں کے ملازمین کو ملا کر ایک پولنگ اسٹیشن کا عملہ تشکیل دیا جاتا ہے دوسری چیز یہ کہ پولنگ آفیسر سے لیکر پریزائیڈنگ آفیسر تک کو اس کی محکمانہ تعیناتی کے مقام سے دور بطور انتخابی عملہ تعینات کیا جاتا ہے تیسری ضروری بات جس کو مدنظر رکھا ہے ہے وہ یہ ہ زنانہ پولنگ پر زنانہ عملہ لگایا جاتا ہے

اس مرحلہ میں جن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیئے انہیں ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے اس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہیئے کہ اگر انتخابی عملہ میں میاں۔بیوی، بہن۔بھائی، ماں۔بیٹا شامل ہیں تو انہیں قریب قریب پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیا جائے اور ان کی تربیت کا ایک ہی دن مقرر کیا جائے تاکہ خواتین کی مشکلات کا اذالہ کیاجا سکے دوسری بات یہ کہ عملے کومحکمانہ تعیناتی کے مقام سے دور تعینات کرنے کی بجائے اسے آبائی شہر سے دور تعینات کیا جائے اس کیلئے ایک مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مثلاً اگر ٹاؤن شپ (لاہور) کا ایک آدمی مغل پورہ میں ملازمت کرتا ہے تو اسے بطور انتخابی عملہ جب دور لگایا جاتا ہے تو اسے ٹاؤن شپ میں بھیج دیا جاتاجس س وہ اپنے حلقہ/علاقہ میں انتخابی عمل پر اثرانداز ہوتا ہے ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمشن کو انتخابی عملے کی تعیناتی سے قبل ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنا ہوگا

مجبوری کی بنا پر تعیناتی کی منسوخی:۔ بطور انتخابی عملہ تعینات ہونے کے بعد ملازمین کیلئے اس تعناتی کی منسوخی انتہائی مشکل کام ہے چونکہ انتخابات کیلئے ریٹرننگ آفیسر کے فرائض ججز صاحبان ادا کرتے ہیں تو انکی عدالتی مشق کے مطابق ان کیلئے کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوتا جبکہ انتخابی عملہ کیلئے بحیثیت انسان چند فطری مجبوریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی یا تو قطعی طور پر نہیں کر پاتا یا انہیں صحیح طور انجام دینے سے قاصر ہوتا ہے مثلاً کسی قریبی عزیز کی فوتیدگی کی صورت میں، اولاد یا بیوی بچوں کی بیماری کی صورت میں، خواتین کو دوران حمل یا چھوٹی بچوں کی بیماری کی صورت میں لہٰذا اگر کسی کواس طرح سنجیدہ مسائل کا سامنا ہو تو اسے الیکشن کے فرائض کی انجام دہی سے ریلیف دیا جائے

تربیت:۔ چونکہ انتخابی عمل میں روز بروز جدت آ رہی ہیجیسا کہ 2013؁ء کے عام انتخابات میں ایویڈنٹ بیگ متعارف کرایا گیا بیت ست سے ملازمین تربیت سے کنارہ کشی کرے ہیں حالانکہ تربیت لینے سے انسان اپنے فرائض کو سوفیصد انجام دینے کے قابل بنتا ہے لہٰذا تربیت میں شمولیت کے عمل کو سخت سے سخت تر بنایا جائے اور تربیت میں شمولیت نہ کرنے والوں کی تعیناتیاں منسوخ کر دی جائیں یہیں اس سے متعلق ایک بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں گزشتہ عام انتخابات کے پرسونلز کو تربیت دینے کے دوران ایک سینیئرمیتھ ٹیچر نے پورا وقت تربیت کو مزاق بنائے رکھا اور بار بار یہی کہتا رہا کہ الیکشن ہم نے کئی بار کرائے کوئی مشکل کام نہیں اور پولنگ روز دن گیارہ بجے موصوف نے کال کی اور پریشانی ک عالم میں بولا کہ میں تو بیلٹ پیپر الٹے ایشو کر بیٹھا ہوں یعنی ترتیب صعودی کی بجائے ترتیب نزولی میں جاری ہو گئے کہنے کا مقصد یہ کہ جب تک انسان سیکھتا نہیں وہ کر نہیں سکتا پھر رات کو نتائج کی تیاری کے بعد اسی صاحب نے دوباری کال کی کہ اس بار دو نئے پلاسٹک لفافے(ایویڈنٹ بیگ) ہیں ان کا کیا کرنا ہے؟ جہاں عملے کو تربیتی عمل سے گزارنا لازمی ہے وہیں امیدوار، الیکشن ایجنٹ، پولنگ ایجنٹ ، رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں کو بھی تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے اور خاص طور پر امیدوار، الیکشن و پولنگ ایجنٹ کو فارم چودہ اور پندرہ کو پُرکرنے کا طریقہ لازمی سمجھایا جائے

انتخابی عملے کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے کی خاطر گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ:۔ عملے کو پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچانے کیلئے انہیں پِک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جاتی ہے عملے کو تربیت الیکشن دے دس پندرہ روز قبل دی جاتی ہے اور اسہ دوران گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ بھی شروع کر دی جاتی ہے جس سے ایک تو انتخابی عملے کو تیربیت گاہوں تک پہنچنے میں مشکل پیش آتی ہے دوسرا سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں حاجری کی شرح انتاہی کم سطح پر آجاتی ہے اور کام کا حرج ہوتا ہے جس کے دور رس منفی نتائج نکلتے ہیں اوریہ نتائج ملکی ترقی پراثراندازہوتے ہیں یونکہ کچھ گاڑیوں کو پولیس پکڑ لیتی ہے اور مالکان اپنی گاڑیوں کو ان دنوں گراؤنڈ کر دیتے ہیں اس ضمن میں دوسری بات یہ کہ عملے کو سامان کی ترسیل کی جگہ عنی ریٹرنگ آفیسر کے آفس سے لیکر پولنگ اسٹیشن اور پھر پولنگ اسٹیشن سے ریٹرنگ آفیسر کے آفس تک پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جاتی ہے جبکہ الیکشن کے روز ریٹرننگ آفیسر کے دفتر اور پھر ریزلٹ جمع کرانے کے بعد عملے کو گھر تک خود انتظام کرنا پڑتا ہے جبکہ انتخابات کر روز گاڑیاں پکڑ لی جاتی ہیں تو عملے کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا کیونکہ جو اِکا دُکا گاڑیاں سڑک پہ چل رہی ہوتی ہیں وہ دوگنا و سہہ گنا کرایا وصول کرتے ہیں لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ عملے کو گھروں سے پک کر کے واپس گھروں تک چھوڑا جائے۔

انتخابی سامان کی ترسیل اور واپسی:۔ الیکشن سے ایک روز قبل انتخابی عملے کو ریٹرننگ آفیسرکے آفس بُلا کرپریزائیڈنگ افسران کو سامان کا اجراء یا جاتا ہے پریزائیڈنگ آفیسر سترہ اور اٹھارہ گریڈ کے افسران کو لگایا جاتا ہے تو اس روز سترہ و اٹھارہ گریڈ کے افسران درجہ چہارم کے ملازمین کی طرح سامان اٹھائے پھرتے ہیں جو ان کی شایان شان نہیں لہٰذا سامان کی ترسیلو واپسی الیکشن کمشن کے ذمہ ہونی چاہیے کہ وہ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچا کر دیں اور پھر واپس بھی خود لے کر جائیں اس مرحلہ میں سب سے زیادہ تکلیف خواتین عملہ کو اٹھانی پڑتی ہے

انتخابی فہرستیں:۔ تمام انتخابات چاہے وہ بلدیاتی ہوں یا قومی امیدواروں کو انتخابی فہرستیں جاری کی جاتی ہیں تا کہ انتخابی عمل کو شفاف بنایا جا سکے مگر عام طور پہ ہوتا یہ ہے کہالیکشن کمشن بلدیاتی و قومی انتخابات کیلئے پولنگ اسٹیشنوں کی حلقہ بندیاں علیحدہ علیحدہ کرتا ہے جس سے فہرستوں میں فرق ہوتا ہے اور ایک سے دوسرے الیکشن یں لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا ووٹ سابقہ پولنگ اسٹیشن پر ہو گا جبکہ وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنا ووٹ دوسرے پولنگ اسٹیشن پہ کاسٹ کرنا ہے اس پر متعدد ووٹر ز میں ووٹ کاسٹ کرنی کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرتے جس سے ٹرن آؤٹ میں کمی واقع ہوتی ہے لہٰذا تمام انتخابات میں پولنگ اسٹیشنوں کی ترتیب و حلقہ بندی ایک ہی ہونی چاہیئے

پولنگ اسٹینوں کا قیام:۔ الیکشن کمشن کو چاہیئے کہ وہ پولنگ اسٹیشن ووٹرز کو قریب سے قریب سرکاری عمارتوں میں قائم کرے تاکہ ٹرن آؤٹ زیادہ سے زیادہ ہو، اورایک علاقہ کی خواتین کے پولنگ اسٹیشن اسی علاقہ کے مردوں کے پولنگ اسٹیشن کے قریب ہونے چاہیئں تا کہ خواتین اپنے عزیز رشتہ داروں ے ساتھ آسانی سے جا کر ووٹ کاسٹ کر سکیں، کئی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولنگ اسٹیشن دور بنا دیے جاتے ہیں یا ایک ہی علاقہ کے خواتین اور مروں کے پولنگ اسٹیشنوں میں بہت فاصلہ رکھا جاتا ہے جس سے ٹرن آوٹ میں بہت کمی واقع ہوتی ہے

بایؤ میٹرک ووٹ کاسٹنگ:۔ چند گزشتہ ضمنی انتخابات میں کچھ پولنگ اسٹیشن پہ بائیومیٹرک ووٹ کاسٹنگ کرائی گئی اس ضمن میں جو بات سامنے آئی وہی بات سموں کی بائیومیٹرک تصدیق اور ای او بی آئی پنشنوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے وقت سامنے آئی وہ یہ کہ کئی افراد کے تھم امپریشن کو نادرا کا سسٹم تصدیق نہ کر پایا اور عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا سسٹم کو جدید تقضوں پر اپگریڈ کرنا ہوگا۔

پریزائیڈنگ کیلئے اختیارات کا استعمال:۔ پولنگ کے روز امن و امان قائم کرنے کیلئے اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے پریزائڈنگ افسران کو درجہ اول کے مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور وہ وقت پر عدالت قائم کر کے سزا دینے کا مجاز ہوتا ہے مگر افسوس کہ زیادہ تر پریزائیڈنگ افسران تعلیم کے شعبہ سے وابسطہ ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ پسہ ہوا اور کمزور طبقہ ہیں اگر کوئی پریزائیڈنگ اختیارات کا اتعمال کر بھی بیٹھے تو الیکشن کے بعد اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا ضرورت اس امر کی ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کو الیکشن کے بعد بھی تحفظ حاصل ہونا چاہیئے تا کہ وہ اختیارات کا استعمال کر کے انتخابی مراحل کو شفاف بنائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Ullah Qureshi

Read More Articles by Hafeez Ullah Qureshi: 3 Articles with 1150 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2018 Views: 320

Comments

آپ کی رائے