جھوٹی قسمیں کھانے کی مذمت اور اُس کا وبال

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, Rawalpindi)

اسلام میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمان کو جو مقام عطا فرمایا ہے اُس کی سچائی اور حقانیت کے لئے یہی ایک چیز کافی ہے کہ وہ جو بات اپنی زبان سے نکالے اُسے حق اور سچ مان لیا جائے ، نہ یہ کہ اُسے اپنی بات منوانے اور اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے مختلف قسم کی قسمیں کھانا پڑیں اور لوگوں کو اپنے اعتماد میں لینا پڑے ۔لیکن چوں کہ ہمارے معاشرے میں دین سے دُوری کی وجہ سے خیانت و بددیانتی، دغابازی، دھوکا اور غبن وغیرہ کا خوب کثرت سے چال چلن ہے، اِس لئے ہردوسرے سے تیسرا شخص باہمی معاملات و تعلقات میں اپنی بات منوانے، اپنے آپ کو سچا بتلانے، اور اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے بات بات میں قسمیں کھاتا ہے۔ گوکہ بعض اہم شرعی اور بڑے معاملات میں اپنے اوپر سے کوئی جھوٹاالزام دھونے کی غرض سے بعض مواقع پر شریعت نے قسم کھانے کا حکم بھی دیا ہے، لیکن بات بات میں قسم کھانا،یا دوسرے سے قسم کھلوانا نہ صرف یہ کہ شریعت میں مذموم ہے بلکہ اسلام اِس کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے۔

قسم کھانا حقیقت میں ’’شہادت‘‘ (یعنی گواہی) دینا ہوتاہے۔ جو شخص کسی بات کو اﷲ کی قسم کھاکر بیان کرتا ہے وہ گویا اپنے بیان کی سچائی پر اﷲ کی ذات کو گواہ بناتا ہے۔ لہٰذا ایسی حالت میں خیال کرنا چاہیے کہ اِس معاملہ کی اہمیت کتنی بڑی ہے اور قسم کھانا کتنی غیر معمولی بات ہے ؟ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ جھوٹ کے عادی اور سچائی سے دُورہوتے ہیں وہ بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں ، کیوں کہ اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اُن کے بیان کو سچا نہیں سمجھتے ، اِس لئے وہ لوگوں کو دغا اور فریب دینے کی غرض سے بات بات میں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

لیکن اوّل تو بلا ضرورت قسم کھانا ہی بہت برا ہے، پھر جھوٹی قسم کھانا تو اور بھی زیادہ براہے۔ قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ نے اِس قسم کی جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی بڑی مذمت بیان فرمائی ہے، کیوں کہ یہ جھوٹ کی ایک بدترین شکل ہے، جس میں جھوٹی قسم کھانے والا اپنے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی ذات کو بھی جھوٹی گواہی میں شریک کرلیتا ہے ۔

قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ نے جھوٹی قسمیں کھانے والے شخص پر اعتبار نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور اِس کو انسان کا بڑا عیب بتلایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’ترجمہ:اور کسی بھی ایسے شخص کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھانے والابے وقعت شخص ہے۔‘‘ (القلم: ۱۰/۶۸)

چوں کہ اِس طرح کی قسمیں کھانے والے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں، اِس لئے یہ نفاق کی بڑی علامت ہے، اور قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ’’ترجمہ:پھر اُس وقت ان کا کیا حال بنتا ہے جب خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ؟ اُس وقت یہ آپ کے پاس اﷲ کی (جھوٹی) قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد بھلائی کرنے اور ملاپ کرادینے کے سوا کچھ نہ تھا، یہ وہی ہیں کہ اﷲ ان کے دلوں کی ساری باتیں خوب جانتا ہے۔‘‘ (النساء: ۶۲/۴،۶۳)

یعنی اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے اور ان کی زبانوں پرکیا ہے؟ ایسے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ قسمیں کھاکر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بناکر متعلقہ اشخاص کو خوش کردیں ، لیکن اﷲ تعالیٰ اِس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اگر ان میں ایمان ہو تو انہیں چاہیے کہ سچائی اختیار کرکے اﷲ اور اُس کے رسول کو خوش کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’ترجمہ: (مسلمانو!) یہ لوگ تمہارے سامنے اﷲ کی قسمیں اِس لئے کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالاں کہ اگر یہ واقعی مؤمن ہوں تو اﷲ اور اُس کے رسول اِس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ اُن کو راضی کریں۔‘‘(التوبہ: ۶۲/۹)

ایسے منافقوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ جب کوئی بری بات منہ سے نکالتے ہیں اور اس پر پوچھ گچھ ہونے لگتی ہے تو فوراً مکر جاتے ہیں۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: یہ لوگ اﷲ کی (جھوٹی) قسمیں کھا جاتے ہیں کہ اُنہوں نے فلاں بات نہیں کہی، حالاں کہ اُنہوں نے کفر کی بات کہی ہوتی ہے۔‘‘ (التوبہ: ۷۴/۹)

ایک موقع پر منافقوں نے ایک نامعقول کام کیا ، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ان سے جاکر پوچھوگے تو وہ اﷲ کی قسم کھا جائیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’ترجمہ: جب تم اِن کے پاس واپس جاؤگے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اﷲ کی (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے ۔‘‘ (التوبہ: ۹۵/۹)

یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟اِس کی علت بتاتے ہوئے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: یہ تمہارے سامنے اِس لئے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم اِن سے راضی ہوجاؤ ، حالاں کہ اگر تم اِن سے راضی بھی ہوگئے تو اﷲ تو ایسے نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔‘‘ (التوبہ: ۹۶/۹)

اسی طرح قسم کھاکر کسی دوسرے کے مال پر دعویٰ کرنا اﷲ تعالیٰ کے نام پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ اور یہ ایک کے بجائے دو گناہوں کا مجموعہ ہے۔ ایک غصب اور دوسرا جھوٹ۔ اور وہ بھی اﷲ تعالیٰ کے پاک اور مقدس نام پر۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: جو لوگ اﷲ سے کئے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی (جھوٹی) قسموں کا سودا کرکے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیتے ہیں، اُن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، اور قیامت کے دن نہ اﷲ ان سے بات کرے گا، نہ اُنہیں (رعایت کی نظر سے ) دیکھے گا، نہ اُنہیں پاک کرے گا اور اُن کا حصہ تو بس عذاب ہوگاانتہائی دردناک۔‘‘(آلِ عمران: ۷۷/۳)

اسی طرح حضرت عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو کوئی جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا مال لینا چاہے گا تو جب وہ اﷲ کے پاس جائے تو اﷲ اس پر غضب ناک ہوں گے۔‘‘ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا کہ: ’’تین آدمی ہیں جن کی طرف اﷲ قیامت کے دن (رعایت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور اُن کے لئے دردناک عذاب ہے۔!:ایک وہ شخص جو اپنا لباس گھٹنوں کے نیچے تک لٹکاتا ہے اور دوسرا وہ شخص جو احسان جتلاتا ہے اور تیسرا وہ شخص جھوٹی قسمیں کھاکر اپنا سامان بیچتا ہے۔‘‘ (رواہ الستۃ الا البخاری)

ایک حدیث میں آتا ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو کسی مسلمان کے حق کو جھوٹی قسم لے کر کھانا چاہے گا تو اﷲ اُس پر جہنم کی آگ کو واجب کردے گا۔‘‘ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا یارسول اﷲ(صلی اﷲ علیہ وسلم)! کیا اگرچہ کوئی معمولی سی چیز ہو؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگرچہ درخت کی ڈالی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم)

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:’’ بڑے بڑے گناہ یہ ہیں: (۱) اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (۲) والدین کی نافرمانی کرنا (۳) کسی کو بے گناہ قتل کرنا (۴) جھوٹی قسم کھانا۔‘‘ (سنن نسائی) ایک حدیث میں آتا ہے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ جس شخص سے قسم کھلوائی جائے اور وہ جھوٹی قسم کھا جائے تو وہ اپنا چہرہ لے کر جہنم میں ٹھکانا پائے گا۔‘‘ (سنن ابی داؤد) ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ جھوٹی قسم مال بکوادیتی ہے، لیکن نفع (کی برکت) کو گھٹا دیتی ہے۔‘‘ (رواہ الستۃ الا ابن ماجہ) ایک حدیث میں آتا ہے حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ تجارت میں بہت قسمیں کھانے سے پرہیز کرو! کیوں کہ اِس طرح پہلے کام یابی ہوتی ہے پھر بے برکتی ہوجاتی ہے۔‘‘ (مسلم، نسائی، ابن ماجہ)

الغرض باہمی معاملات و تعلقات اور باتوں باتوں میں جھوٹی قسمیں کھانے اور لوگوں کو غلط طور پر اپنے اعتماد میں لے کر اُن کا مال کھانے، ناجائز طریقے سے اُن کا حق چھیننے اور اُن کے سامنے کذب بیانی اور دغا بازی سے کام لینے کواﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے نفاق کی علامت قراردیا ہے، اور ایسے لوگوں کے لئے دُنیا میں ذلت و خواری ،خجالت و شرمندگی اور آخرت میں درد ناک سز ا و عقاب اور عذابِ جہنم کی وعید سنائی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 185 Articles with 132468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2018 Views: 442

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ