بدعت حسنہ

(Muhammad Abdul Munem, Lahore)

صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ مجتہد اگر اجتہاد کرے اور صحیح فیصلہ کرے تو اس کو دوہرا ثواب ہے۔ اور اگر اجتہاد کرنے میں خطا کر جائے تو پھر ایک ثواب ہے۔

وقت اور حالات کی ضروریات کے مطابق دین کے فروعی مسائل میں تبدیلی یا اضافہ صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے۔ جب دین اسلام پھیلا اور دوسرے اہل زبان بھی شامل ہونے لگے تو ضروری ہو گیا کہ قوم کو ایک قرات پر جمع کیا جائے لہذا ایک مصحف عثمانی پر سب کو جمع کر دیا گیا۔

مقام ابراہیم کا پتھر دور نبوی میں جہاں پر تھا آج وہاں نہیں ہے۔ جب طواف کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو رکاوٹ محسوس ہونے کی وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ پتھر اپنی جگہ سے دور رکھوا دیا۔

دور نبوی میں عورتیں مسجدوں میں جاتی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حالات کے مطابق عورتوں کو مساجد میں جانے سے روک دیا۔ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج حیات ظاہری میں ہوتے تو وہ بھی روک دیتے۔

قرآن مجید کے اعراب رکوع اور پاروں کی تقسیم سب بعد کی باتیں ہیں۔

اصلاحات حدیث صحیح حسن اور ضعیف وغیرہ جن پر آج دین کا دارومدار ہے ان کی تعریفیں نہ کسی صحابی کی وضع کردہ ہیں نہ تابعی کی اور نہ تبع تابعی کی۔

صحابہ کرام کی نمازوں میں جو یکسوئی ہوتی تھی وہ ہم چار فرض پڑھ کر نعرہ تکبیر لگا کر بھاگنے والے کیا جانیں۔ وہ اتنے یکسو ہر کر نماز پڑھتے تھے کہ پرندے ان کے سر پر آ کر بیٹھ جاتے تھے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے علمائے وقت نے ذکر اذکار اور مختلف قسم کے صوفیانہ مشاغل کا سہارا لیا۔ جب لوگ علم دین سے دور ہونے لگے تو ان کو علما کے قریب لانے کے لیے مختلف طرح کے دن منانا شروع کیے گئے اور بہانوں بہانوں سے ان کو علما کے قریب کیے جانے لگا۔

آج پھر کچھ علما یہ کہنے لگے ہیں کہ عورتوں کو قبرستان جانے سے منع مت کرو کہ جب بازاروں میں جانے سے نہیں رکتیں تو قبرستان میں جا کر کچھ تو خدا کو یاد کریں گی۔

گائے کی قربانی کون کہتا ہے کہ اسلام میں واجب ہے۔ لیکن دور اکبری میں جب ہندو مذہب کے مطابق گائے کی پوجا بڑھنے لگی تو حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے ان حالات کی وجہ سے گائے کی قربانی کو واجب قرار دیا۔

جہاد میں تلواروں کے بجائے طیاروں کا استعمال ہونے لگا۔ اوقات نماز چھڑی سے معلوم کیے جاتے تھے آج سب کیلنڈر دیکھتے ہیں۔ نماز میں مکبروں کی سنت کو چھوڑ کر سب کو سپیکروں سے محبت ہو گئی ہے۔ صبح سے لے کر شام تک کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے کسی کو بدعت یاد نہیں آتی۔ بدعت یاد آتی ہے تو صرف اس وقت جب کوئی نیکی کا کام کرنا ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ بدعت کا اطلاق دنیاوی کاموں پر نہیں ہوتا بذات خود ایک بدعت ہے کیونکہ ہمارا دین صرف مذہبی عبادات کا نام نہیں۔ ہماری دنیا اور دین سب ایک ہے۔

جو علما ٹی وی توڑ ڈالنے کا کہتے تھے آج ان کے اپنے ٹی وی چینل ہیں۔

تصویر سے منع کرنے والے جب اخبارات کی زینت بننے میں فخر محسوس کرتے ہیں تو کتنا عجیب لگتا ہے۔
نعت کو بدعت کہنے والوں نے لشکر طیبہ کے نغمے بنا لیئے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Munem

Read More Articles by Muhammad Abdul Munem: 20 Articles with 12112 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2018 Views: 431

Comments

آپ کی رائے
محترم،
پہلے بدعت لغوی اور دینی بدعت کا فرق معلوم کریں اس کے بعد اس قسم کے اہم و حساس موضوع پر قلم اٹھائیں یہ جتنی امثال اپ نے پیش کی ہیں اس سے نہ دین میں فرق پڑتا ہے اور نہ شریعت میں کو رد بدل یا زیادتی اور کمی ہوتی ہے اگر آج بھی کینڈر کے بغیر نماز کے اوقات معلوم کئے جائیں گے تو دین میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور اگر کینڈر سے معلوم کیے جائیں گے تو دین میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا بہت سے گاؤں اور دیہات اج بھی ایسے ہیں جن میں یہ سہولتیں موجود نہیں ہے وہ آج بھی سورج کے اتار چڑھاؤ سے نماز ادا کرتے ہیں تو دین نہ گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے دنیا دین میں ضرور ہے لوکی پسند کرنے پر اللہ ثواب عطا کرے گا انشاء اللہ مگر آپ کو حلال چائنیز کھانے پر گناہ نہیں دے گا نہ ثواب دے گا اس لئے یہ تمام چیزیں مباح ہیں ان کا گناہ ثواب نہیں ہوتا ہے اس لئے برائے مہربانی اتنے حساس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے اس بارے میں کثیر معلومات حاصل کریں سلف کے اقوال پڑہیں آپ کے لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کر دیتا ہوں جس سے اپ کا بنایا یہ بیت العنکبوت ختم ہو جائے گا فرماتے ہیں“ ہر بدعت گمرابی ہے چاہے اس کو کتنا ہی اچھا سمجھا جائے۔
تو دین میں بدعت حسنہ کہنا از خود ایک بدعت ہے۔
By: tariq, Karachi on Mar, 13 2018
Reply Reply
3 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ