پاک چین دوستی سے خوفزدہ بھارت کا فرانس سے نیاجنگی معاہدہ. .!!

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)

 آہ ،برسوں سے دوسروں کی جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار اداکرتے اپنے لاکھوں معصوم شہریوں کو شہادت کے مرتبے پر فائز کرانے اور اپنا اربوں کھربوں کا نقصان کرنے والے پاکستان کا ابھی معاشی و اقتصادی ڈھانچہ کچھ سنبھالااور بہتر ہوا ہے اوراَب دنیا بھی اِس کی اہمیت اور قربانیوں کو تسلیم کرنی شروع ہو ئی ہے تو بھارت اور افغانستان جیسے خطے کے دوسرے ممالک پاکستان کی خوشحالی اور استحکام سے حسد میں مبتلا ہورہے ہیں اِن کے جلنے اور بھسم ہو نے کا عمل اُس وقت کھل کر سا منے آیا جب پاک چین اقتصادی راہداری کا عملی منصوبہ شروع ہونے کے بعد اپنے تکمیل کو پہنچا تو بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک کے تن بدن میں ایسی آگ لگی کہ اَب یہ بجھا ئے نہیں بجھ رہی ہے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی سے خائف ممالک اپنے گریبان چاک کرتے سروں پر دھول اُڑاتے اِدھر اُدھر اپنے سرپھوڑتے پھر رہے ہیں آج جن کی بس ایک یہی سازشوں بھری کو شش ہے کہ کس بھی طرح پاک چین دوستی اور اقتصادی راہداری کا منصوبہ ناکام ہو جا ئے تو اِن شیطانوں کے دِلوں میں لڈوپھوٹیں مگر شیطانوں کی بَددُعاوں سے کسی کا اچھا عمل تھوڑی روکتاہے آج الحمد ﷲ، پاک چین دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے اور ماشا ء اﷲ، سبحان اﷲ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اپنا کام شروع کرچکاہے مگر بھارت اور افغانستان جیسے شیطانوں کی سازشیں ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہی ہیں آخر کب تک ؟ایک نہ ایک دن یہ ضرور خاک چاٹتے اور ہاتھ جوڑتے اپنے سروں کو خم کرتے ہوئے پاکستان کے سامنے آئیں گے اور پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کریں گے۔

آج کل خطہء جنو بی ایشیا کے مُلک بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی جن کا خطے میں جنگی جنون سر چڑ ھ کر بولتا نظر آرہاہے اَب اِن کا یہ جنگی جنون جنوبی ایشیا اور دنیا کو کِدھر لے کے جا ئے گا ؟اِس کے لئے کو ئی سوچنے اور غوروفکر کرنے والا نہیں ہے ابھی سب کو سب کچھ ہرا ہرا ہی نظر آرہاہے مگر بھا رتی جنگی جنون کبھی بھی سب کا سب کچھ جلا کر خا ک کرسکتا ہے۔ایک غیر مُلکی میڈیا کے مطابق پچھلے دِنوں بھارتی وزیراعظم نے بھارت کے دورے پر آئے فرانس کے صدر یما نوئل میکغوں کے درمیان باہمی و علاقا ئی اُمور پر تبادلہ خیال ہوا اور اِس دوران دونوں ممالک نے سیکیورٹی ،سمیت جوہر ی توا نائی اور خفیہ اطلاعات کے تحفظ کے شعبوں میں اسٹریجک شراکت داری میں اضافہ کی غرض سے لگ بھگ مختلف نوعیت کے 17کھرب روپے کے تجارتی سمجھوتے کے 14معاہدوں پر دستخط کئے جس میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل بھارت اور فرانس میں ایک دوسرے کے بحری اڈے استعمال کرنے کا معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لئے بہت زیادہ باعث تشویش سمجھا جارہاہے اور اِس کے ساتھ ہی یہ بھی خیال کیاجارہا ہے کہ آج بھارت کا فرانس سے کیا جا نے والا یہ معاہدہ پاک چین دوستی کے بڑھتے روابط اور مستقبل میں دونوں ممالک کے بڑھتے ایٹمی ا ور معاشی استحکام کے پیشِ نظر عمل میں لایاگیا ہے حالیہ دِنوں میں بھارت اور فرانس کے درمیان ہونے والے اِن معاہدوں سے خطے میں بھارتی جنگی جنون میں مزید اضافہ سا منے آئے گا جو یقینا پاکستان اور چین کے صبر و تحمل کا ایک بڑا امتحان اور عالمی امن و سلامتی اور استحکام کے لئے ایک چینلج ہوگا۔

اگر چہ ،یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بھارت پاک چین دوستی سے خودساختہ خوفزدہ ہے اِسی بِنا پر بھارت میں جنگی جنون کا پیدا ہونا خطے کو کسی بھی ایٹمی جنگ میں جھونک سکتا ہے ویسے اپنے دفا ع کا بنیادی حق تو ہر مُلک کو حاصل ہے مگر جب کسی کا یہ حق جنونی کیفیت اختیار کرجا ئے توپھریہ دوسروں کے لئے بھی باعثِ تشویش ہوجاتا ہے ایسا ہی بھارتی جنگی جنون نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ دنیا کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اَب یہ اور بات ہے کہ دنیا بھارتی جنگی جنون سے دیدہ دانستہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہے یا سُپر طاقتیں بھارتی جنگی جنون سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِسے اپنا جنگی سازوسامان فروخت کررہی ہیں اِس طرح دنیا کی سُپر طاقتیں درپردہ بھارت کو خطے کا چوہدری بنانے کا خوا ب بھی دکھا رہی ہیں تووہیں یہ اپنے جنگی سامان بھارت کو بیچ کر اپنی معیشت کو بھی مضبوط کررہی ہیں تو دوسری طرف بھارت کا کا ندھا تھپتپا کر اِس کے جنگی جنون کو بھی ہوا دے رہے ہیں آج یہی وجہ ہے کہ سُپر طاقتوں کی آشیر بادسے بھارت خطے میں اپنی بادشاہت قا ئم کرنے کے لئے اپنے یہاں جدید جنگی سازوسامان کے اُونچے انبار لگا رہاہے اور اپنا سارا بجٹ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجا ئے جنگی اسلحہ جمع کرنے میں لگا پڑا ہے تب ہی یہ یورپی ممالک میں اسلحہ فروخت کرنے والی منڈی کا ایک بڑاخریدار مُلک بن کر اُبھر رہاہے۔ آج جنہیں یہ ادراک ہے کہ خطے اورعالمی امن کی بقا و سلامتی اور استحکام کے لئے بھارت کا جنگی جنون ایک بڑا خطرہ ہے وہ بھی اِس پر خا موش تما شا ئی بنے ہو ئے ہیں اُلٹا بھا رت کے جنگی جنون کو لگام دینے اور کچھ سمجھانے کے بجائے مدد کررہے ہیں تو یہ بھی اِس کے جنگی جنون میں برابر کے شریک ہیں جبکہ اِس سے انکار نہیں کہ دنیا کہیں بھی ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے اگر بادل خواستہ کبھی دنیا کے کسی بھی خطے یا دوممالک کے درمیان اعلانیہ طور پر ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو پھر یقینا دنیا کو اِس جنگ کی تباہی سے ناقابل تلافی نقصانات کا منہ چومتے ہو ئے اوراپنی تونگری کا شیرازہ زمین بوس ہوتے دیکھنا پڑے گا(اگرچہ آج بھی مُلکِ شا م میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہاہے مگر کو ئی بھی سامنے آ کر یہ تسلیم کرنے اور اِس کے خلاف آواز بلند کرنے والا نہیں ہے سب ایک دوسرے کا چہرہ تک رہے ہیں اورپہلے تُو ، تو پہلے کی رَٹ لگارہے ہیں مگر بے خوف وخطر جدید ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے والے ممالک شام کا ستیاناس کئے جا رہے ہیں) کیاابھی یہ سب دیکھنے اور اِس کے خلاف آواز بلند کرنے کی تاب دنیا میں ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر اَب اِس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج شام میں جو عالمی طاقتیں معصوم اور نہتے اِنسانوں پر ایٹمی ہتھیاروں کا بیدریغ استعمال کرکے تباہی پھیلا رہی ہیں یہ اعلانیہ ایٹمی جنگ کی شروعات ہے شام کی تباہی کا مقصد صرف عالمی سُپر طاقتوں کی شام کی تقسیم ہے یہ جس کے لئے مشرقی وسطیٰ کے تاریخی اہمیت کے حا مل خطے میں اپنے قبضے کی جنگ لڑرہی ہیں اِس موقع پرہمیں سوچنا ہے کہ خاکم بدہن سُپر طاقتیں شا م سے نمٹنے کے بعد کہیں بھارت کی مدد سے ہماری طرف بھی رُخ نہ کرلیں خدشتہ ہے کہ آج پا ک چین دوستی سے خائف سُپر طاقتیں کسی نہ کسی بہانے یا پھر کوئی خودساختہ نائن الیوان جیسا واقعہ رونما کریں گیں پھر باہم متحد و منظم ہو ں گیں اوراگلی باری ہم پر قبضے کے لئے بھارت کو استعمال کریں گے جیسا کہ اندیشہ یہی ہے کہ یہ اِس حوالے سے پہلے ہی اپنی جا مع منصوبہ بندی کرچکی ہیں ہمیں فکر مندہو نے یا ڈرنے کی ضرورت تو نہیں ہے اﷲ ہمارے ساتھ ہے ایمانی قوت اور جذبہ ء جہادسے پوری قوم لبریز ہے مگر پھر بھی قبل اِس کے کہ ایسا کو ئی بُراوقت آئے ہمیں ہمہ وقت خودکو بھارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار رکھنا ہوگا کیو ں کہ بھارت جیسے مکاردُشمن سے کچھ بھی بعیدالقیاس نہیں ہے۔ (ختم شُد)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 617784 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2018 Views: 413

Comments

آپ کی رائے