مولانا امیر حمزہ صاحب کا علمی و ادبی محاذ پر کردار

(جرار شاکر, قصور)
آج لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں مولانا امیر حمزہ صاحب کی کتاب
دہشت گردی کے خلاف جماعۃ الدعوہ کا کردار
کی تقریب رونمائی تھی اس تقریب میں پاکستان کی نامور شخصیات اور مشہور کالم نگاروں نے شرکت کی

یوں تو اردو ادب کی فہرست میں بہت سے نامور مصنفین کے نام موجود ہیں لیکن مولانا امیر حمزہ صاحب واحد مصنف ہیں جنہوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے نہ صرف پاکستان ، عالم اسلام بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنی تصانیف کا حصہ بنایا ہے۔

مولانا امیر حمزہ صاحب بیک وقت ایک عالم دین،مبلغ ،مصلح ، صحافی ، اور مصنف ہیں۔

وہ ایک ہفت روزہ اخبار کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں اس کے ساتھ ساتھ روزنامہ دنیا میں بھی کالموں کے ساتھ اپنی قلمی طاقت کا مسلسل استعمال کر رہے ہیں۔
آپ ایک ایسے کالم نگار ہیں کہ جو شخص ایک بار آپ کا کالم پڑھ لیتا ہے وہ آپ کا دلدادہ ہو جاتا ہے اور بے چینی سے اگلے کالم کا انتظار کرتا ہے۔

مولانا امیر حمزہ صاحب کالم نگاری کے ساتھ ساتھ کتب نویسی پر بھی ملکہ رکھتے ہیں اور اب تک وہ 2 درجن سے زائد کتب کو ورقہ قرطاس پر لا چکے ہیں۔

ان کی مشہور و معروف تصانیف میں

اور بھارت سینڈوچ بن گیا۔ ۔ ۔ ۔
میں نے بائیبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟. ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آسمانی جنت اور درباری جہنم۔ ۔ ۔ ۔
رویے میرے حضور کا بمعہ انگلش ایڈیشن۔ ۔ ۔ ۔ ۔
موت کے فرشتے سے ملاقات۔ ۔ ۔
روس کے تعاقب میں۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
ہم مسلمان کیوں ہوئے؟. ۔ ۔ مذہبی و سیاسی باوے۔ ۔ ۔ ۔ شاہراہ بہشت۔ ۔ ۔ ۔
اللہ موجود نہیں؟؟؟. ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ قافلہ دعوت و جہاد۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور سیرت کے سچے موتی

جیسی بلند پایہ اور عالمی شہرت یافتہ کتب شامل ہیں۔

مولانا امیر حمزہ صاحب مذہبی جماعت سے بھی وابستہ ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ کٹھن مراحل سے بھی گزرنا پڑا ہے لیکن یہ مرد حُر حق و صداقت کی راہ پر گامزن ہے اور ثابت قدمی سے سنگ میل عبور کر رہے ہیں۔

حال ہی میں جب ان کی مذہبی و رفاہی تنظیم پر بھارتی پروپیگنڈے اور عالمی دباؤ پر قدغن لگانے کی ناکام جسارت کی گئی تو پھر امیر حمزہ صاحب کا قلم جنبش میں آیا اور آپ نے اپنی لازوال قلمی طاقت سے عالمی پروپیگنڈوں کا توڑ کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب لکھ ڈالی۔ جس کا نام انہوں نے
" *جماعتہ الدعوہ کا دہشت گردی کے خلاف کردار* " رکھا ہے ۔ آج اس کتاب کی تقریب رونمائی تھی ۔ جس ملک کی نامور شخصیات، معتبر ترین صحافیوں اور سول سوسائٹی کی شخصیات نے شرکت کی۔

شرکاء میں
تحریک حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چیئرمین حضرت مولانا امیر حمزہ صاحب ،

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ صاحب ،
مجیب الرحمٰن شامی صاحب،
خواجہ معین الدین صاحب ،
محبوب کوریجہ صاحب،
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب،
سعداللہ شاہ صاحب،
حافظ عبد الغفار روپڑی صاحب ،
محمد یعقوب شیخ صاحب،
ڈاکٹر عبدالغفور راشد صاحب،
امیر بہادر ہوتی صاحب،
ایثار رانا صاحب،
اشرف سہیل صاحب،
حافظ شفیق الرحمن صاحب،
آصف عنایت بٹ صاحب،
سردار آفتاب احمد ورک ،شیخ نعیم بادشاہ صاحب،
جمیل احمد فیضی و دیگر نے خطابات کیے تھے۔

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا جرم صرف نظریہ پاکستان کا تحفظ اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے؟
جماعتہ الدعوہ نے ہمیشہ ملکی مفادات کو ترجیح دی ہے اور اتحاد امت کے لیے کا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی کے خلاف شاندار کاوش ہے۔می میں اس کتاب کی تالیف پر امیر حمزہ صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ مولانا امیر حمزہ صاحب ایک عام کالم نگار یا مؤلف نہیں ہیں بلکہ یہ مولانا ظفر علی خان ، اور مولانا آزاد کی طرح تاریخ و ثقافت، دین و دنیا پر بھی بھرپور ملکہ رکھتے ہیں۔ ہمیں بطور قلمکار ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ جماعتہ الدعوہ کسی ایک بھی دہشتگردی کی کاروائی میں ملوث نہیں ہے۔ یہ جماعت نظریہ پاکستان کی حقیقی پاسبان ہے۔

بعد ازاں کتاب کے مؤلف مولانا امیر حمزہ صاحب کا کہنا تھا کہ جماعۃ الدعوہ نے دہشت گردوں کو علمی میدان میں چِت کرنے کے لیے 15 کتب لکھیں اور میری یہ کتاب میرے دہشتگردی کے خلاف کالموں کا مجموعہ ہے۔ ہم نے کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے لیے عملی جد و جہد کی ہے اور تحفظ پاکستان کے پیغام کو پاکستان کے گلی کوچوں میں پہنچایا ہے ۔ ان کارہائے نمایاں کی بدولت عدالتوں نے ہمیشہ ہم پر اعتماد کیا اور عالمی دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جماعتہ الدعوہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کو کلین چٹ تھمائی ہے۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا ہے کہ جماعۃ الدعوہ ملکی جغرافیے کی محافظ اور نظریہِ پاکستان کی حامل جماعت ہے۔
عبدالغفور راشد کا کہنا تھا کہ صرف امیر حمزہ کو نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ پروفیسر حافظ محمد سعید صاحب کو بھی مبارکباد پیش کی جائے جن کی خصوصی کاوش کی وجہ سے پاکستان کا واضح اور روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین حافظ شفیق الرحمن نے فرمایا کہ مولانا امیر حمزہ صاحب عالم باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ بے باک صحافی اور صاحب اسلوب ادیب بھی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تجویز پیش کی کہ مولانا امیر حمزہ کی کتاب کو اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھی بھیجا جائے اور وزیر داخلہ کو بھی تحفہ دینا چاہئیے۔

مزید کالم نگاروں اور مہمانوں کا کہنا تھا کہ اب مولانا امیر حمزہ صاحب کی نہج پر عمل پیرا ہو کر ہمیں بھی اپنی علمی و قلمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے وگرنہ ملک کے اندر سچ بولنے پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی اور یہود و نصاری اور مشرکین اپنے اپنے مشن کو بآسانی سرانجام دینے کے لیے پر تولنے لگیں گے۔

اس وقت سے پہلے ہمیں متحد ہو کر دشمن کی صفوں کو اپنے تیز دھار قلم سے شکست دینا ہو گی ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جرار شاکر

Read More Articles by جرار شاکر: 5 Articles with 2263 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2018 Views: 671

Comments

آپ کی رائے